خیرپور میں ربیع الاول کے جلوس کے دوران دو مذہبی تنظیموں میں تصادم، تین افراد ہلاک

سندھ پولیس ( فائل فوٹو) تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption سندھ پولیس ( فائل فوٹو)

پاکستان کے صوبہ سندھ کے ضلع خیرپور کے علاقے حسین آباد میں حکام کے مطابق دو مذہبی گروہوں میں تصادم کے نتیجے میں تین افراد ہلاک اور 9 زخمی ہو گئے ہیں۔

جمعرات کو پیش آنے والے تصادم کے نتیجے میں علاقے میں فرقہ وارانہ کشیدگی پائی جاتی ہے۔

تحریک قادری کی جانب سے ربیع الاول کے سلسلے میں ایک ریلی خیرپور کی طرف جا رہی تھی کہ یونین کونسل حسین آباد کے گاؤں جانی برڑو کے قریب اس پر فائرنگ کی گئی۔

خوشی اور غم منانا آسان نہیں رہا

’کونسی طاقتیں ان تنظیموں کو سیاست میں لانا چاہتی ہیں؟‘

ڈی ایس پی کوٹ ڈیجی ثنا اللہ سرکی نے بی بی سی کے نامہ نگار ریاض سہیل کو بتایا کہ 50 سے 60 افراد پر مشتمل ریلی کے شرکا اور کالعدم تنظیم سپاہ صحابہ کے رہنما کے درمیان تلخ کلامی اور نعرے بازی ہوئی جس کے بعد نجی محافظوں نے فائرنگ کر دی۔

انھوں نے کہا کہ فائرنگ کے نتیجے میں تین افراد ہلاک اور نو کے قریب زخمی ہو گئے ہیں۔

حکام کے مطابق ہلاک اور زخمی ہونے والوں کا تعلق تحریک قادری سے ہے۔

زخمیوں اور ہلاک ہونے والوں کو سول ہسپتال خیرپور منتقل کیا گیا ہے، جہاں مقتولین کی شناخت ذوالفقار برڑو، لطیف ڈنو برڑو اور مشتاق برڑو کے نام سے ہوئی ہے۔

ڈی ایس پی ثنا اللہ کے مطابق پولیس نے دو ملزمان کو گرفتار کرلیا ہے، جبکہ دوسروں کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں جبکہ خیرپور میں رینجرز کی بھی بھاری نفری تعینات ہے۔

دوسری جانب آئی جی سندھ اے ڈی خواجہ نے ایس ایس پی خیرپور سے واقعے کی رپورٹ طلب کر لی ہے۔

قادری تحریک خیرپور کے رہنما حافظ مقصود قاسمی نے بی بی سی کو بتایا کہ ان کے کارکن نہتے تھے، ریلی جیسے ہی گاؤں سے روڈ پر آئی ہے تو کالعدم تنظیم کی جانب سے اس پر فائرنگ کی گئی، جس میں ان کے تین کارکن ہلاک ہو گئے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ قادری تحریک کی جانب سے ملزمان کی گرفتاری کے لیے احتجاج کیا جائے گا، اس سلسلے میں مشاورت جاری ہے، جس میں ایک تجویز یہ بھی ہے لاشوں سمیت قومی شاہراہ پر دھرنا دیکر سڑک کو بند کیا جائے اور ضلع بھر میں احتجاج کی بھی کال دی جائے۔

واضح رہے کہ خیرپور میں قادری تحریک کی بنیاد 2010 میں رکی گئی تھی، جس کی سربراہ سید عاشق شاہ تھے، جو اس وقت پورے خیرپور میں تنظیم کی صورت میں موجود ہے، اور اس سے منسلک مدارس بھی ہیں۔

عاشق شاہ کی وفات کے بعد تنظیم کی سربراہی ان کے بیٹے سردار شاہ کے پاس ہے۔

یاد رہے کہ خیرپور میں محرم الحرام کے علاوہ ربیع الاول میں بھی فرقہ وارانہ کشیدگی رہتی ہے، جلوس کی گزر گاہوں، جھنڈے لگانے پر تصادم کے واقعات پیش آتے ہیں۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں