تحریک لبیک یا رسول اللہ کے نام پر جھگڑا، تو حکومت نے معاہدہ کس سے کیا؟

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption اسلام آباد میں دھرنا دینے والے دھڑے کے قائد خادم حسین رضوی تھے

اسلام آباد میں دھرنے کے ساتھ ساتھ پنجاب کے شہر لاہور میں بھی تحریک لبیک یا رسول اللہ نے دھرنا دیا تاہم دونوں دھڑوں میں تفریق اس وقت سامنے آئی جب اسلام آباد میں دھرنا ختم کر دیا گیا جبکہ لاہور میں تحریک کے دھڑے نے اب تک دھرنا جاری رکھا ہوا ہے۔ اسلام آباد میں دھرنا دینے والے دھڑے کے قائد خادم حسین رضوی اور لاہور کے دھرنے کے قائد ڈاکٹر آصف جلالی نے اختلافات کے نتیجے میں ایک دوسرے پر الزامات بھی لگائے ہیں۔

’لفافہ پکڑاؤ، گال تھپتھپاؤ اور گھر بھیجو‘

’یہاں تو قائدین نے ایسا کوئی اعلان نہیں کیا!‘

جو یوں ہوتا تو کیا ہوتا!

اسلام آباد دھرنا: ’کیا ہم آپ کے ساتھ نہیں ہیں؟'

’جس اہلکار کا جدھر منہ تھا، ادھر ہی بھاگ گیا‘

تاہم ڈاکٹر محمد اشرف آصف جلالی نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ خادم حسین رضوی کے ساتھ کسی قسم کے اختلافات نہیں ہیں کیونکہ وہ بھی ختم نبوت کے لیے نکلے تھے اور ہم بھی اسی لیے نکلے ہیں۔

’فرق صرف اتنا ہے کہ اسلام آباد دھرنے کے مطالبات میں رانا ثنا اللہ کا ذکر نہیں تھا۔ ہم 12 اکتوبر سے رانا ثنا اللہ کے استعفے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔‘

تاہم انھوں نے مزید کہا کہ خادم حسین رضوی کے ساتھ اختلافات کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا کیونکہ وہ ایک مختلف تنظیم کے رہنما ہیں اور ’میں تحریک لبیک یا رسول اللہ کا قائد ہوں۔ وہ تحریک لبیک پاکستان کے رہنما ہیں۔‘

یاد رہے کہ اسلام آباد دھرنا حتم کرنے کے لیے جو معاہدہ طے پایا تھا وہ معاہدہ تحریک لبیک یا رسول اللہ کے ساتھ طے پایا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ ECP

اس حوالے سے ڈاکٹر محمد اشرف آصف جلالی نے کہا ’نام استعمال کرنے سے ہم ان کو نہیں روک سکتے لیکن انھوں نے خود ہی اپنی تنظیم کی رجسٹریشن لبیک پاکستان کے نام سے کرائی ہوئی ہے۔‘

انھوں نے مزید کہا کہ خادم حسین رضوی نے قواعد کی خلاف ورزیاں کی تھیں جس پر ’میں نے ان کو شو کاز نوٹس بھیجا جس کا جواب دینے کے بجائے انھوں نے اپنی تنظیم بنا لی‘۔

دوسری جانب تحریک لبیک پاکستان کے ترجمان حسن بٹ نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’اصل میں یہ جماعت تحریک لبیک یا رسول اللہ تھی لیکن الیکشن کمیشن نے کہا تھا کہ اس نام سے جماعت کی رجسٹریشن نہیں ہو سکتی۔ اسی لیے جماعت کو تحریک لبیک پاکستان کے نام سے رجسٹر کرایا گیا‘۔

تصویر کے کاپی رائٹ Dunya TV
Image caption لاہور کے دھرنے کے قائد ڈاکٹر آصف جلالی

انھوں نے مزید کہا کہ اسلام آباد میں دیے جانے والا دھرنا سیاسی نہیں مذہبی تھا اسی لیے تحریک لبیک یا رسول اللہ کا نام استعمال کیا گیا اور اسی کے ساتھ حکومت نے معاہدہ بھی کیا ہے۔

ڈاکٹر محمد اشرف آصف جلالی نے کہا کہ دھرنا اس وقت تک ختم نہیں کیا جائے گا جب تک ان کے چار مطالبات پورے نہیں کیے جاتے:

  1. فیض آباد آپریشن کے موقع پر جتنے کارکنان ہلاک ہوئے ہیں ان کا بدلہ چاہیے۔ تمام لاشیں بھی ہمارے سپرد نہیں کی گئیں۔
  2. حکومت ان کے نام بتائے جنھوں نے حلف نامہ ختم نبوت میں تبدیلی کی ہے۔ ہم چاہتے ہیں کہ فوراً راجہ ظفر الحق رپورٹ کو پبلک کیا جائے اور ان تمام افراد کو برطرف کر کے ان پر کیس چلائیں۔
  3. رانا ثنا اللہ سے استعفیٰ لے کر ان پر آئین سے بغاوت کا مقدمہ چلایا جائے۔
  4. اسلام آباد دھرنے کے اختتام پر ہم سے وعدہ کیا گیا تھا کہ پورے پنجاب میں لاؤڈ سپیکر ایکٹ کے مطابق مسجد کے چاروں طرف سپیکر لگا کر آواز کھولنے کی اجازت دیں گے۔ اس پر اب تک عمل درآمد نہیں کیا گیا۔

ان الزامات کے حوالے سے جب بی بی سی نے پنجاب حکومت سے رابطہ کیا تو جواب میں مصروفیت کا کہہ کر اپنا موقف دینے سے انکار کر دیا گیا۔

لوگوں کی مشکلات

درین اثنا تحریک لبیک یا رسول اللہ کی مقامی قیادت کی جانب سے چیئرنگ کراس مال روڑ پر گذشتہ چھ روز سے جاری دھرنے کی وجہ سے شہر کی مصروف ترین شاہراہ پر زندگی مفلوج ہو کر رہ گئی ہے۔ نہ صرف علاقے میں موجود کاروبار متاثر ہو رہے ہیں بلکہ شہریوں کے لیے منٹوں کا سفر گھنٹوں میں بدل گیا ہے۔

ہسپتال جانے کی کوشش میں ایک فکر مند شخص کچھ دیر تک تحریک لبیک کے کارکنان کے جانب سے لگائے گئے رکاؤٹوں کو دیکھ کر سوچتا رہا کہ آخر اپنے بیمار رشتہ دار تک کیسے پہنچے۔ جب منتیں اور درخواستیں کام نہ آئیں تو اونچی اونچی دہائیاں دے کر چیختے ہوئے دھرنے کے شرکا سے پوچھا کہ ’یہ کیسا اسلام ہے تمہارا، جو انسانوں کو تکلیف پہنچا رہا ہے؟‘

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے ایک طالبہ نے کہا کہ ’معلوم نہیں کہ جو ہو رہا ہے وہ صحیح ہے یا نہیں لیکن ہمیں شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ میلوں کا سفر پیدل طے کرنا پڑتا ہے اور ان حالات میں مال روڈ پر پبلک ٹرانسپورٹ کا ملنا تو ناممکن ہے‘۔

کاروبار سے منسلک افراد بھی دھرنے کے باعث نقصان اٹھا رہے ہیں۔

مال روڑ پر موجود دکانوں تک رسائی تو مشکل ہے ہی، علاقے میں موجود پوسٹ آفس، عدالتیں اور متعدد دفتروں تک پہنچنا بھی ایک جنگ سے کم نہیں۔ ایک دکاندار نے شکوہ کیا کہ’ نہ صرف پیسے بلکہ وقت کا بھی ضیاع ہو رہا ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ اس مسئلے کا فوری حل ڈھونڈے‘۔

اسی بارے میں