پنجاب کے پیر حمید الدین سیالوی کون ہیں؟

پیر حمید الدین سیالوی تصویر کے کاپی رائٹ Aastana Alia Sial Sharif

فیض آباد میں تین ہفتوں پر محیط مذہبی اور سیاسی جماعت تحریکِ لبیک یا رسول اللہ کے حالیہ دھرنے کو ختم کرنے کے لیے کیے جانے والے ناکام پولیس آپریشن کے پس منظر میں پاکستان مسلم لیگ کی حکومت مشکل میں آ گئی ہے۔

حکومتی جماعت کی مرکزی قیادت اور وزرا کو مظاہرین کے ساتھ معاہدے کی وجہ سے سخت تنقید کا سامنا ہے۔

پاکستان مسلم لیگ نواز کے لیے مشکلات میں مزید اضافہ اس وقت ہوا جب سرگودھا سے تعلق رکھنے والی ایک روحانی شخصیت پیر حمید الدین سیالوی نے یہ دعویٰ کیا کہ پنجاب سے تعلق رکھنے والے 14 ارکانِ پارلیمان نے اپنے استعفے ان کے پاس جمع کروا دیے ہیں۔

پیر سیالوی نے مطالبہ کیا کہ ’صوبہ پنجاب کے وزیر قانون رانا ثنا اللہ نہ صرف مستعفی ہوں بلکہ وہ ٹی وی پر آ کر یہ وضاحت بھی کریں کہ وہ احمدیوں کو مسلمان تسلیم نہیں کرتے، جس کے بعد وہ بحیثیتِ مسلمان اپنے ایمان کی تجدید بھی کریں‘۔

یہ بھی پڑھیے

اسلام آباد دھرنا کے روح و راوں خادم حسین کون ہیں ؟

اسلام آباد دھرنا: 'جس اہلکار کا جدھر منہ تھا وہ ادھر ہی بھاگ گیا'

اسلام آباد دھرنا: جو یوں ہوتا تو کیا ہوتا!

جنرل باجوہ سے یہ بھی پوچھ لینا چاہیے تھا کہ آپ بتائیں کیا کریں'

پیر حمید الدین سیالوی نے خبردار کیا کہ مطالبات تسلیم نہ ہونے کی صورت میں وہ اسلام آباد کی جانب مارچ کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

صوبہ پنجاب کے وزیر برائے مذہبی امور زعیم قادری نے صورت حال کی سنگینی کے پیشِ نظر پیر حمید الدین سیالوی سے ملاقات کی اور ان کے ’گِلے شکوے‘ دور کرنے کی کوشش کی۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

پاکستان کے حالیہ سیاسی منظر نامے میں پیر حمید الدین سیالوی کا نام زیادہ سامنے نہیں آیا اور صوبہ پنجاب سے باہر شاید بہت کم لوگ انھیں جانتے ہوں گے۔

پیر حمید الدین سیالوی کون ہیں؟

کیا ان کا اثر و رسوخ اس قدر زیادہ ہے کہ سیاستدان انھیں اپنے استعفے پیش کر دیں اور اپنے سیاسی مستقبل کا فیصلہ کرنے کا حق دے دیں؟

پیر حمید الدین سیالوی سرگودھا کے ایک نواحی گاؤں سیال شریف کے چشتی صوفی سلسلے سے تعلق رکھنے والے مذہبی سکالر اور صوفی خواجہ قمر الدین سیالوی کے صاحبزادے ہیں۔ وہ سنہ 1988 سے لے کر 1993 تک سینیٹ کے ممبر رہ چکے ہیں۔

خواجہ قمر الدین سیالوی برصغیر اور پھر تقسیم کے بعد پاکستان میں تحریکِ ختمِ نبوت کے بانیوں میں شمار ہوتے ہیں۔

تجزیہ کار عامر رانا کے مطابق انھوں نے جمیعت المشائخ نامی ایک سیاسی جماعت کی بنیاد بھی رکھی جو ہمیشہ اپنے دور کے حکومتوں کی حامی رہی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے سابق رکن قومی اسمبلی شیخ وقاص اکرم نے بتایا کہ خواجہ قمرالدین سیالوی سنہ 1950 اور 1960 کی دہائیوں میں پاکستان میں چلائی جانے والی ختمِ نبوت تحریک کی قیادت کرتے رہے ہیں۔

’ان کا اور ان کے خاندان کا اثر و رسوخ سرگودھا، چنیوٹ، میانوالی، خوشاب اور ملحقہ اضلاع میں پھیلا ہوا ہے اور ان کے عقیدت مندوں میں ان اضلاع کے بڑے سیاسی خاندان بھی شامل ہیں۔ اس طرح وہ علاقے کی سیاست پر اثر انداز تو یقیناٌ ہوتے ہیں‘۔

قومی اسمبلی کے ایک اور سابق رکن صاحبزادہ محبوب سلطان پیر صاحب کے ان علاقوں میں اثر و رسوخ کے حوالے سے شیخ وقاص اکرم کی تائید کرتے ہیں۔

محبوب سلطان بذاتِ خود 17 ویں صدی کے صوفی بزرگ سلطان باہو کے خاندان سے تعلق رکھتے ہیں اور ان کے جانشینوں میں شمار ہوتے ہیں۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ پیر صاحب کے دعوے کے مطابق علاقے کے کئی ارکان اسمبلی نے ان کے پاس اپنے استعفے جمع کروا رکھے ہیں۔

’اگر 14 نہیں تو کم از کم آٹھ سے نو ارکان ایسے ہیں جو ان کے پاس استعفے جمع کروا چکے ہیں‘۔

محبوب سلطان کے مطابق ان میں قومی اور پنجاب اسمبلی دونوں کے ارکان شامل ہیں۔ ان میں قومی اسمبلی سے غلام محمد لالی، غلام بی بی بھروانہ اور شیخ وقاص اکرم کے والد شیخ محمد اکرم کے نام نمایاں ہیں جبکہ پنجاب اسمبلی سے پیر حمید الدین سیالوی کے بھتیجے صاحبزادہ غلام نظام الدین سیالوی سمیت جھنگ اور چنیوٹ سے منتخب ارکان شامل ہیں۔

تاہم سوال یہ ہے کہ کیا ان ارکان اسمبلی نے پیر حمید الدین سیالوی کو اپنے استعفے ان کے اثر و رسوخ کے وجہ سے جمع کروائے ہیں؟

محبوب سلطان سمجھتے ہیں کہ پیر حمید الدین سیالوی کا اثر و رسوخ اپنی جگہ تاہم سیاسی شخصیات اپنے ووٹروں کو یہ بھی دکھانا چاہتی ہیں کہ وہ ’ختمِ نبوت‘ جیسے نازک معاملے پر کس جانب کھڑے ہیں؟

محبوب سلطان کے بقول ’پیر حمید الدین سیالوی کی جگہ اگر کوئی اور شخصیت بھی ہوتی تو ان کو استعفے دے دیے جاتے، مقصد تو اس معاملے پر اپنی پوزیشن واضح کرنا ہے‘۔

جھنگ سے تعلق رکھنے والے ایک اور سابق ممبر قومی اسمبلی جن کا تعلق حکومتی جماعت سے ہے اور وہ اپنا نام ظاہر نہیں کرنا چاہتے نے بی بی سی کو بتایا کہ وہ اور چند دوسرے ارکان اسمبلی ختمِ نبوت کے معاملے پر حکومتی اقدامات کے حوالے سے اپنی تشویش کا اظہار کر چکے تھے۔

’پیر حمید الدین سیالوی علاقے کی بزرگ شخصیت ہیں اس لیے جب انھوں نے اس معاملے پر موقف اپنایا تو ہم سب نے ان کی حمایت کی اور سب نے اپنے استعفے ان کو پیش کر دیے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ جن 14 ارکان اسمبلی کے استعفے آ چکے ہیں اس سے زیادہ نہیں آئیں گے۔

عامر رانا کا کہنا تھا کہ پیر حمید الدین سیالوی کے خاندان کا سیاسی اثر و رسوخ سرگودھا اور اس کے نواحی علاقوں میں کافی زیادہ ہے اور وہ مستقبل میں سرگودھا کے سیاستدانوں کے لیے ایک نیا مرکز بھی بن سکتے ہیں۔

اسی بارے میں