’بیٹے کو لکڑیاں بیچ کر پڑھایا تھا کہ وہ بڑھاپے میں سہارا بنے گا‘

قاسم شاہ

’وئی بابا، میرے بابا کا تو برا حال ہے۔ انھوں نے بیٹے کو لکڑیاں بیچ کر پڑھایا تھا کہ وہ بڑھاپے میں سہارا بنے گا اور اب جب بھائی کی تعلیم مکمل ہو گئی تھی ظالموں نے مار دیا۔‘

یہ ہیں قاسم شاہ کی بہن کے الفاظ جو انھوں نے آج اپنے بھائی کی تدفین کے بعد کہے۔

قاسم شاہ محکمہ زراعت کے تربیتی مرکز میں ویٹرنری کا کورس کر رہے تھے اور پانچ دسمبر کو امتحانات مکمل ہونے کے بعد قاسم شاہ نے واپس اپنے گاؤں جانا تھا۔

قاسم شاہ کی بہن نے مقامی صحافیوں کو بتایا کہ ان کے والد تو اس آس پر جی رہے تھے کہ بیٹا اب تعلیم مکمل کرکے واپس اپنے گھر آئے گا۔ قاسم شاہ کی بہن نے ایک سوال پر آہ بھرتے ہوئے کہا ’وئی بابا پتہ نہیں اب میرے بابا کا کیا ہو گا‘۔

’جو کوئی باہر آتا وہ اسے شوٹ کر رہے تھے‘

پشاور حملہ: خون، گولیوں کے نشانات اور بکھرے بستر

خیبر پختونخوا کے دور افتادہ علاقے درازندہ کے سعداللہ شاہ لکڑیاں بیچتے ہیں اور یہی لکڑیاں بیچ بیچ کر بیٹے کو پڑھایا تھا۔ درازندہ کا علاقہ ڈیرہ اسماعیل خان سے ژؤب جاتے وقت راستے میں آتا ہے یہ نیم قبائلی علاقہ ہے۔

قاسم شاہ کی بہن نے بتایا کہ ان کا اپنے بھائی کے ساتھ تعلق دوستوں کی طرح تھا وہ خود بی ایس سی کی طالبہ ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

انھوں نے کہا کہ چھوٹا بھائی روزانہ ٹیلیفون کرکے بھائی سے باتیں کرتا تھا لیکن گذشتہ روز ٹیلفون نہیں لگ رہا تھا تو وہ تھوڑے پریشان ہوئے لیکن رات دس بجے انھیں اطلاع ملی کے ان کے بھائی اب نہیں رہے۔

قاسم شاہ کے دوست سعد اللہ پشاور سے درازندہ نماز جنازہ میں شرکت کے لیے گئے تھے۔ انھوں نے بتایا کہ جب حملہ آور آئے تو انھوں نے قاسم شاہ کو موبائل فون پر میسج بھیجے کہ یہ کیا ہو رہا ہے لیکن کوئی جواب نہیں آیا۔

ان کا کہنا تھا کہ تین گھنٹے تک وہ کمرے کے اندر بند رہے بعد میں جب باہر آئے اور پمارے ایک ساتھی سے رابطہ کیا تو انھوں نے بتایا کہ قاسم شاہ نہیں رہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

قاسم شاہ روزانہ صبح ایک ویٹرنری ڈاکٹر کے پاس پریکٹس کے لیے جاتے تھے اور وقوعہ کے روز بھی وہ صبح جا ہی رہے تھے کہ گیٹ پر حملہ آور پہنچ چکے تھے اور وہ اس واقعے میں سکیورٹی گارڈ کے ساتھ ہی ہلاک ہو گئے۔

پشاور میں گذشتہ روز محکمہ زراعت کے تربیتی مرکز میں شدت پسندوں کے حملے میں نو افراد ہلاک اور 35 زخمی ہو گئے تھے۔

قاسم شاہ کے والد عبداللہ نے بتایا کہ ’سب کچھ تباہ ہو گیا ہے۔ میں تو یہ آس لگائے بیٹھا تھا کہ بیٹے کی تعلیم اب مکمل ہو گئی ہے اور واپس اپنے گھر آئے گا تو ہمیں سنبھال لے گا کیونکہ اب میری بوڑھی ہڈیوں میں طاقت نہیں ہے۔‘

یہ صرف قاسم کے گھرانے کا ذکر تھا۔ اسی طرح اس واقعے میں ہلاک اور زخمی ہونے والے ہر طالبعلم اور ہر شخص کی اپنی ہی آپ بیتی ہے۔ محمد وسیم ہنگو کے قریبی علاقے کلایہ کے رہنے والے تھے آج ان کی تدفین بھی کر دی گئی ہے وہ چھ بہنوں کے اکلوتے بھائی تھے ۔

اسی بارے میں