میٹِس کا ’ڈو مور‘ دورہ، مشترکہ میدان تلاش کرنے کی کوشش

جیمز میٹس کا دورہ تصویر کے کاپی رائٹ Prime Minister House
Image caption یہ جیمز میٹس کا بطور وزیرِ دفاع پاکستان کا پہلا دورہ ہے

امریکی وزیرِ دفاع جیمز میٹِس نے پاکستانی وزیرِ اعظم شاہد خاقان عباسی کے ساتھ ملاقات کے بعد کہا ہے کہ ان کے دورۂ پاکستان کا مقصد پاکستان کے ساتھ مثبت، مستقل اور طویل مدت تعلقات کے قیام کے لیے مشترکہ میدان تلاش کرنا ہے۔

بیان کے مطابق انھوں نے کہا کہ وہ دہشت گردی اور انتہاپسندی کے خلاف جنگ میں پاکستان کی قربانیوں سے آگاہ ہیں۔ اس کے علاوہ انھوں نے کہا کہ دونوں ملکوں کے درمیان شراکت داری کو فروغ دینے کی ضرورت ہے۔

پاکستان امریکہ تعلقات، کبھی نرم کبھی گرم

پاکستان ٹرمپ کے ’دشمن‘ سے ’دوست‘ کیسے بنا؟

ٹرمپ سے گفتگو، پاکستان حکومت نے چپ سادھ لی

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں
ٹرمپ کے بعد پاک امریکہ تعلقات

بیان میں کہا گیا ہے کہ پاکستانی وزیرِ اعظم شاہد خاقان عباسی نے امریکی وزیرِ خارجہ کو بتایا کہ افغانستان میں امن و استحکام سے کسی اور ملک کو اتنا فائدہ نہیں پہنچے گا جتنا پاکستان کو۔

انھوں نے کہا کہ افغانستان میں قیامِ امن پاکستان اور امریکہ دونوں کے مفاد میں ہے۔

اس ملاقات میں آئی ایس آئی کے ڈائریکٹر جنرل لیفٹیننٹ جنرل نوید مختار، وزیرِ داخلہ احسن اقبال، وزیرِ خارجہ خواجہ آصف، وزیرِ دفاع خرم دستگیر اور دوسرے اعلیٰ حکام اور پاکستان میں امریکی سفیر ڈیوڈ ہیل بھی موجود تھے۔

پاکستانی اخبارات میں اس دورے کو 'ڈو مور' دورہ قرار دیا گیا ہے، یعنی امریکہ پاکستان سے دہشت گردی کے خلاف مزید کارروائیاں کرنے کا مطالبہ کرے گا۔

پاکستان پہنچنے سے قبل میڈیا سے بات کرتے ہوئے جیمز میٹس نے کہا کہ وہ پاکستان پر زیادہ دباؤ نہیں ڈالنا چاہتے، البتہ پاکستان کو دہشت گردی کا مقابلہ کرنے کے لیے اپنی ذمہ داریاں پوری کرنی چاہیئں۔

انھوں نے کہا: 'میں اس طرح سے معاملات طے نہیں کرتا۔ میرا خیال ہے کہ ہمیں مشترکہ معاملات تلاش کرنے کے لیے مل کر کام کرنا چاہیے۔

جیمز میٹِس نے گذشتہ ہفتے کہا تھا: 'ہم نے پاکستانی رہنماؤں سے سنا ہے کہ وہ دہشت گردی کی حمایت نہیں کرتے۔۔۔ ہمیں توقع ہے کہ وہ اپنے مفاد میں اور خطے کے امن اور استحکام کے لیے بہتر طریقے سے عمل کریں گے۔'

اکتوبر میں میٹس نے کہا تھا کہ امریکہ دہشت گردوں کی مبینہ حمایت کے سلسلے میں کوئی قدم اٹھانے سے پہلے ایک اور بار پاکستان کے ساتھ مل کر کام کرنا چاہتا ہے۔

تین ماہ قبل امریکی صدر ٹرمپ نے جنوبی ایشیا کے لیے پالیسی کا اعلان کیا تھا، تاہم مبصرین کے مطابق اب تک اس میں محدود کامیابی حاصل ہو سکی ہے۔

امریکہ کو ایک عرصے سے شکایت ہے کہ وہ دہشت گرد تنظیموں، خاص طور پر حقانی نیٹ ورک کے خلاف کارروائی نہیں کرتا۔ یہ تنظیمیں پاکستانی سرزمین استعمال کرتے ہوئے سرحد پار افغانستان میں حملے کرتی ہیں۔

یہ میٹِس کا بطور وزیرِ دفاع پاکستان کا پہلا دورہ ہے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں