اورنج لائن: سپریم کورٹ کی شرائط ہیں کیا؟

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption عدالتی حکم کے مطابق تعمیرات اور عملی دونوں ادوار کے لیے ایک خود مختار اور تجربہ کار کنزرویشن انجینیئر کو اس منصوبے کی نگرانی پر معمور کیا جائےگا۔

پاکستان کی سپریم کورٹ نے اورنج لائن ٹرین کا منصوبہ روکنے سے متعلق لاہور ہائی کورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دیتے ہوئے پنجاب حکومت کو اس منصوبے کو جاری رکھنے کا حکم تو دیا لیکن اس کے لیے شرائط کی ایک لمبی فہرست بھی تھما دی۔ نہ صرف یہ بلکہ اورنج لائن کے باعث ممکنہ طور پر متاثر ہونے والی تاریخی عمارتوں کی حفاظت کے لیے پیشگی دس کروڑ روپے مختص کرنے کا حکم دیا۔

عدالت نے یہ بھی حکم دیا کہ ایک وسیع البنیاد کمیٹی بھی قائم کی جائے جو اس سارے عمل کی نگرانی کرے اور اس سے متعلق حسبِ ضرورت سفارشات دے۔

سپریم کورٹ کی جانب سے پیش کردہ یہ شرائط کی تفصیل درج ہے:

سپریم کورٹ کا اورنج لائن پر کام دوبارہ شروع کرنے کا حکم

اورنج لائن میٹرو: گاڑی پٹڑی پر چڑھ پائے گی؟

ارتعاش کے نتیجے میں تاریخی عمارتوں کے تحفظ کی یقین دہانی

1.پنجاب حکومت اس بات کو یقینی بنائے کہ تاریخی عمارات کو کوئی نقصان نہ پہنچے۔

2.اس منصوبے کی نگرانی کے دوران ارتعاش کا خیال بھی رکھا جائے اور اس مقصد کے لیے دراڑوں کو ماپنے والے آلات کا استعمال کیا جائے۔ اس عمل کو دورانِ تعمیر اور منصوبے کے باقاعدہ آغاز سے کم از کم 10 ہفتوں تک کیا جائے یا کم از کم اس وقت تک جب تک محکمۂ آٰثارِ قدیمہ کے ڈائریکٹر جنرل کہیں۔ اور اگر دورانِ تعمیر کسی بھی وقت اگر ایسا لگے کہ ارتعاش کے باعث کوئی نقصان ہو رہا ہے تو تعمیراتی کام فوری طور پر معطل کرنا ہوگا اور ضروری اقدامات کر کے کام کو قابلِ قبول سطح تک لانا ہوگا۔

3.تکینکی ماہرین ارتعاش جانچنے کے لیے درکار تمام آلات کے ساتھ تعمیراتی کام کے دوران ان مقامات پر موجود رہیں گے جہاں تاریخی عمارات اور خصوصی مقامات ہیں۔ اگر ارتعاش کی سطح قابلِ قبول حد سے بڑھنے لگے تو کام فوری طور پر ترک کرنا ہوگا اور ماہرین کے مطمئن ہونے تک ضروری اقدامات کرنے ہوں گے۔ ماہرین کی اجازت کے بغیر کام دوبارہ شروع نہیں کیا جا سکے گا۔

4.تعمیرات اور عملی دونوں ادوار کے لیے ایک خود مختار اور تجربہ کار کنزرویشن انجینیئر کو اس منصوبے کی نگرانی پر معمور کیا جائےگا جو ماہانہ بنیادوں پر اپنی رپورٹ مشاورتی کمیٹی کو دے گا۔ اس کمیٹی کی سفارشات آثارِ قدیمہ کے ڈائریکٹر جنرل کو بھیجی جائیں گی۔

Image caption عدالتی حکم کے مطابق ٹرین کی رفتار کو تاریخی عمارات کے قریب سے گزرتے ہوئے آثارِ قدیمہ کی تجاویز کے مطابق کم کیا جائے گا

باقاعدہ آغاز سے قبل آزمائش

5.اس منصوبے کی تکمیل کے بعد اورنج ٹرین کو دو ہفتوں کے لیے تجرباتی بنیادوں پر اس کے پورے روٹ پر چلایا جائے گا اور یہ جانچا جائے گا کہ اس کے باعث پیدا ہونے والا ارتعاش قابلِ قبول حد میں ہے۔ جب تک ماہرین کی جانب سے لکھ کر نہیں دیا جائے گا کہ ارتعاش مسلسل قابلِ قبول حد کے اندر ہی رہا اس سروس کو کمرشل بنیادوں پر شروع نہیں کیا جائے گا۔

6.ٹرین کی رفتار کو تاریخی عمارات کے قریب سے گزرتے ہوئے آثارِ قدیمہ کی تجاویز کے مطابق کم کیا جائے گا۔

7.ارتعاش ماپنے کے جدید ترین آلات کو مناسب مقامات پر مستقل طور پر نصب کرنا ہوگا تاکہ ٹرین کے باعث پیدا ہونے والے ارتعاش کی سطح کو جانچا جائے۔ اور اس کے ریکارڈ کو ذمہ دار افسر باقاعدگی سے دیکھتے رہیں۔

8.سند یافتہ ماہرین پر مشتمل ٹیمیں وقتاً فوقتاً تاریخی مقامات کا دورہ کریں گے اور ممکنہ نقصان یا خستہ حالی کا اندازہ لگائیں گے۔ اس مقصد کے لیے باقاعدہ کتابچے بنائے جائیں گے۔

9.کسی بھی قسم کے نقصان کی اطلاع آثارِ قدیمہ کے ڈائریکٹر جنرل کو تحریری طور پر دی جائے گی۔ جو عمارت کے تحفظ کے لیے ضروری اقدامات کریں گے۔

10.مشاورتی کمیٹی کی سفارشات محکمہ آثارِ قدیمہ کو بھیجی جائیں گی جو ضروری اقدامات کے بعد یقینی بنائے گا کہ تمام متعلقہ ادارے اور ملوث افراد ان پر من و عن عمل کریں۔

کھدائی سے پہنچنے والے نقصان سے بچاؤ

11.جہاں کھدائی ضروری ہو وہاں اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ اہم اور تاریخی عمارتوں کے ڈھانچے اور بنیادوں کو نقصان نہ پہنچائے۔ ان کے استحکام اور مضبوطی کے لیے ضروری اقدامات کیے جائیں۔ کھدائی کے دوران تمام حفاظتی اقدامات انجینیئرنگ کی مہارت کے تحت کیے جائیں۔

12.تعمیراتی کام کرنے والا ادارہ تاریخی اور اہم مقامات پر رفتار پیما، ٹرانس رڈیوسرز، آوازوں اور ارتعاش کا تناسب ماپنے والے آلات تمام تاریخی اور اہم عمارتوں پر نصب کیے جائیں گے۔

13.کھدائی کا عمل اس طرح سے کیا جائے کہ خصوصی عمارتوں کے ظاہر اور زمین کے اندر دفن حصوں کو بھی نقصان نہ پہنچائے۔

14.کھدائی کے عمل کے دوران تاریخی عمارات کو کسی بھی قسم کا نقصان پہنچنے کی صورت میں فوراً کام روک دیا جائے اور عمارت کے تحفظ اور مزید نقصان سے بچنے کے لیے تمام ضروری اقدامات کیے جائیں۔ اس کے لیے ماہرین کی مدد بھی لی جائے اور نقصان کا باعث بننے والے اسباب کو دور کیا جائے۔

Image caption عدالت کی شرط ہے کہ مستقبل کے ایسے تمام منصوبے جن میں بلواسطہ یا بلا واسطہ یا اتفاقی طور پر تاریخی عمارات کا تعلق ہو ان پر عمل درآمد سے کم از کم چہ ماہ پہلے ان کی تشہیر کی جائے

ہاٹ لائن کا قیام

15.ایک خصوصی ہاٹ لائن بنائی جائے اور اس کے نمبرز تمام اہم مقامات اور تاریخی عمارتوں میں آویزاں کیے جائیں تاکہ تاریخی عمارتوں اور مقامات کو کسی بھی قسم کے نقصان کی صورت میں متعلقہ اطلاع کی جا سکے۔

16.محکمۂ آثارِ قدریمہ کو ملنے والی کسی بھی اطلاع کے بارے میں سات دن کے اندر اندر تحقیقات کی جائیں گی اور ماہرین کی ممکنہ سفارشات کے بعد آرائشی کام تیس دن کے اندر کیا جائے گا۔

17.تاریخی مقامات کے احاطے میں کسی قسم کا تعمیراتی سامان یا آلات نہیں رکھے جائیں گے۔

18.اورنج لائن کے راستے میں ایسی کوئی بھی تبدیلی نہیں کی جائے گی جو تاریخی مقامات سے مقرر کردہ فاصلے کو کم کرے۔

19.تعمیراتی کام کی وجہ سے اٹھنے والی دھول کو پانی کے چھڑکاؤ سے کم کیا جائے گا اور تاریخی عمارتوں کو اس دھول سے پہنچے والے ممکنہ نقصان سے بچنے کے لیے انہیں حفاظتی شیٹس ڈالی جائیں۔

اورنج لائن کے رنگ اور ڈیزائن کی تاریخی مقامات سے ہم آہنگی

20.تاریخی عمارات کے قریب پلوں اور سٹیشنز کے رنگ اور ڈیزائن ان سے ہم آہنگ ہونے چاہئیں۔

21.شالیمار باغ کا ہائیڈرولک ٹینک ممکن ہو تو پہلے جیسی حالت میں بحال کیا جائے اور اس کے گرد کا علاقہ سر سبز کیا جائے۔

22.شالیمار باغ کی جنوبی سمت میں تعمیر کیے جانے والے حصے کو محکمۂ آثارِ قدیمہ سے مشاورت کے بعد ایک دیوار تعمیر کر کے چھپا دیا جائے۔ شالیمار باغ کے گرد بفر زون بنانے کے منصوبے پر بھی کام کی جائے۔

23.حکومت پنجاب تاریخی ورٰثے قرار دیے گئے مقامات کے قریب تعمیراتی کام کے دوران یونیسکو اور دیگر بین القوامی اداروں سے مشارورت کرتی رہے۔

24.مستقبل کے ایسے تمام منصوبے جن میں بلواسطہ یا بلا واسطہ یا اتفاقی طور پر تاریخی عمارات کا تعلق ہو ان پر عمل درآمد سے کم از کم چھ ماہ پہلے ان کی تشہیر کی جائے اور اس بابت عوامی اعتراضات کو سنا جائے۔

25.مستقبل کے تمام منصوبوں کے لیے این او سی، لائسنس ، اجازت نامے کام کے آغاز سے قبل حاصل کیے جائیں۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں