ایف سی آر کا خاتمہ: ’اعلان کرنا ہے تو ابھی کر دیں‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

وفاقی حکومت نے ایک مرتبہ پھر قبائلی علاقوں کا قانون ایف سی آر کو ایک ہفتے کے اندر ختم کرنے اعلان کیا ہے لیکن فاٹا کے حقوق کے لیے جدوجہد کرنے والے رہنماؤں کا کہنا ہے کہ یہ حکومت کا تاخیری حربہ نظر آتا ہے کیونکہ سیاسی سطح پر آئندہ چند روز میں تحریک انصاف کا قبائلی کنونشن اور جماعت اسلامی کا لانگ مارچ ہونا ہے۔

وفاقی وزیر سیفران لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ عبدالقادر نے جمعے کو اسلام آباد میں ایک اخباری کانفرنس میں کہا ہے کہ قبائلی علاقوں کا قانون ایف سی آر ایک ہفتے کے اندر ختم کر دیا جائے گا اور اس کے لیے ایک صدارتی آرڈیننس جاری کیا جائے گا۔ اس پریس کانفرنس میں ان کے ہمراہ فاٹا اصلاحات کے لیے قائم کمیٹی کے سربراہ سرتاج عزیز بھی موجود تھے۔

فاٹا اصلاحات پر اتنڑ اور بھنگڑے

فاٹا اصلاحات، صوبہ خیبر پختونخوا میں انضمام پانچ سال بعد

پاکستان کے قبائلی علاقوں میں سال 1901 کا برطانوی قانون فرنٹیئر کرائم ریگولیشن لاگو ہے جس میں قبائلی علاقوں کے لوگوں کو بنیادی حقوق حاصل نہیں ہیں ۔ قبائلی علاقوں میں اسے کالا قانون کہا جاتا ہے۔

وفاقی وزیر عبدالقادر نے کہا کہ یہ کالا قانون ہے اور اسے ایک ہفتے کے اندر ختم کر دیا جائے گا تاہم انھوں نے فاٹا کے خیبر پختونخوا کے ساتھ انضمام کے بارے میں کسی حتمی تاریخ کا اعلان نہیں کیا۔

ان کا کہنا تھا کہ اس بارے میں گورنر خیبر پختونخوا بہت جلد صدر پاکستان ممنون حسین کو ایک سمری بھیجیں گے۔

اس بارے میں قبائلی علاقوں سے تعلق رکھنے والے رکن قومی اسمبلی الحاج شاہ جی گل نے بی بی سی کو بتایا کہ اس طرح کے وعدے حکومت پہلے بھی کر چکی ہے اور اگر یہ اس میں سنجیدہ ہیں تو پھر یہ بل پارلیمنٹ میں کیوں پیش نہیں کر رہے۔

انھوں نے کہا کہ پاکستان تحریک انصاف کا فاٹا یوتھ کنونشن ہونا ہے اور پاکستان مسلم لیگ نواز کی حکومت نے اس سے پہلے یہ اعلان کر دیا ہے اب دیکھنا یہ ہے کہ اس پر عمل درآمد ہوتا ہے اور کیا یہ پارلیمان میں بھی پیش کیا جاتا ہے اس بارے میں سب کچھ پیر کے روز تک واضح ہو جائے گا۔

جماعت اسلامی فاٹا کے امیر سردار خان نے کہا کہ انھیں حکومتی وعدوں پر یقین نہیں ہے اور اتوار کے روز ان کا لانگ مارچ اسلام آباد کی جانب ضرور روانہ ہوگا۔ جماعت اسلامی نے فاٹا اصلاحات اور خیبر پختونخوا کے ساتھ انضمام کے لیے اتوار کے روز اسلام آباد کی جانب لانگ مارچ کا اعلان کر رکھا ہے۔ سردار خان نے کہا کہ اگر اعلان کرنا ہے تو ابھی کر دیں ایک ہفتے کے انتظار کا کیا مطلب ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption اگر ایف سی آر کو ختم کر دیا جاتا ہے تو سپریم کورٹ کے احکامات کے تحت ہائی کورٹ کو قبائلی علاقوں میں توسیع دی جائے گی اور قبائل کو ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ میں اپیل کا حق حاصل ہو جائے گا

فاٹا کے طلبا کی تنظیم کے رہنما شوکت عزیز نے کہا کہ یہ حکومت کا تاخیری حربہ نظر آتا ہے۔ انھوں نے تمام سیاسی اور قبائلی رہنماوں سے اپیل کی ہے کہ وہ اس ساری صورتحال پر نظر رکھیں اور اپنے آپ کو بیدار رکھنا ہوگا۔ انھوں نے کہا کہ حکومت کے سابقہ وعدوں کو مد نظر رکھتے ہوئے انھیں یقین نہیں آ رہا کہ حکومت اس پر عمل درآمد کر پائے گی۔

اس اعلان کے تحت اگر ایف سی آر کو ختم کر دیا جاتا ہے تو سپریم کورٹ کے احکامات کے تحت ہائی کورٹ کو قبائلی علاقوں میں توسیع دی جائے گی اور قبائل کو ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ میں اپیل کا حق حاصل ہو جائے گا۔

قبائلی علاقوں میں رائج قانون ایف سی آر میں ایک شخص کے جرم کی سزا تمام قبیلے کو بھی دی جا سکتی ہے اوراسی طرح قبائلی علاقوں کے لوگوں کو اپیل وکیل اور دلیل کی سہولیات دستیاب ہی نہیں ہیں۔ حکومت اس سے پہلے بھی اس طرح کے دعوے اور وعدے کر چکی ہے اس لیے قبائلی علاقوں کے لوگ اس وقت تک انتظار میں ہیں حکومت کو عملی اقدامات کرے تب انھیں یقین آئے گا۔

اسی بارے میں