لاپتہ کارکن کی رہائی کے لیے عدالت سے رجوع کرنے کا فیصلہ

Image caption لاہور سے لاپتے ہونے والے سوشل میڈیا ایکٹیوسٹ رضا خان کے بارے میں خدشات بڑھتے جا رہے ہیں۔

انسانی حقوق کےلیےکام کرنے والی تنظیموں کے کارکنوں نے ’آغاز دوستی‘ کے کنوینیئر رضا محمود خان کی پراسرار گمشدگی پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے اور وفاقی اور صوبائی حکومت سے مطالبہ کیا کہ رضا محمود کی فوری بازیابی کے موثر اقدامات کرے ۔

سماجی کارکنوں نے رضا محمود خان کی بازیابی کےلیے عدالت سے رجوع کرنے کا اعلان کیا اور بتایا کہ سوموار تک لاہور ہائیکورٹ میں حبس بے کی درخواست دائر کردی جائے گی۔

یہ بھی پڑھیے

حراست کے دوران ’چمڑے کے پٹّے سے مارا جاتا تھا‘

لاپتہ سماجی کارکن سلمان حیدر واپس آ گئے

ایک اور لاپتہ بلاگر عاصم سعید بھی لوٹ آئے

انسانی حقوق کے سرگرم اور خطے میں امن کے لیے کام کرنے والے کارکن رضا محمود خان دو دسمبر سے لاپتہ ہیں اور ان کی گمشدگی کی ایف آئی آر بھی ان کے بھائی کی مدعیت میں درج کرا دی گئی ہے۔

لاہور پریس کلب میں مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب میں سماجی کارکنوں نے رضا محمود خان کی پراسرار طور پر لاپتہ ہونے پر تشویش ظاہر کی اور کہا کہ ایک انسانی حقوق کے ایک بے ضرر کارکن کا غائب ہونا جانا حکومت اور ریاست پر ایک بڑا سوالیہ نشان ہے۔

سماجی کارکنوں نے کہا کہ ریاسی اور غیر ریاستی عناصر کے جانب سے انسانی حقوق کےلیے کام کرنے والے لوگو ں کی زبان بندی اور جبری گمشدگیوں پر پرروز احتجاج کرتے ہیں ۔

پریس کانفرنس کے دوران لاپتہ ہونے والے سماجی کارکن رضا محمود خان کے بھائی حامد ناصر بھی موجود تھے اور انہوں نے مطالبہ کیا کہ ان کے بھائی کو جلد از جلد بازیاب کرایا جائے تاکہ انہیں اس کرب سے نجات مل سکے جس میں وہ اپنے بھائی کی گمشدگی کی وجہ سے مبتلا ہیں۔

رضا محمود خان کاتعلق پنجاب کے سرحدی ضلع قصور ہے اور وہ لاہور میں اکیلا رہتے تھے۔

سماجی کارکن رحیم الحق نے بتایا کہ دو دسمبر کی رات آتھ بجے کے بعد سے رضا محمود خان اپنے دفتر سے روانہ ہوئے اور اس کے بعد سے وہ لاپتہ ہیں ۔ ان کے بقول تین دسمبر کو دوستوں نے ان سے رابطہ کرنے کی کوشش کی تو ان کا موبائل فون تھا اور ان کی سوشل میڈیا پر ان کی کوئی سرگرمی نہیں تھی۔

رحیم الحق کے مطابق رضا محمود خان کے گھر کا تالا کھولنے پر ان کے کمرے کی لائٹ جل رہی تھی اور ان کے کمرے کا سامان بکھیرا ہوا جبکہ ان کا کمپیوٹر بھی غائب تھا۔انہوں نے بتایا کہ ایف آئی آر درج ہونے کے باوجود ابھی تک رضا محمود کے بارے میں کوئی اطلاع نہیں ملی کہ وہ کہاں ہیں۔

سماجی کارکن رحیم الحق نے واضح کیا کہ رضا محمود کی کسی سے کوئی ذاتی دشمنی نہیں تھی اور وہ ایک پرامن کارکن کے طور پر ذمہ داریاں ادا کر رہے تھے۔ایک سوال پر انہوں نے بتایا کہ انہیں اس بات کا کوئی علم نہیں ہے کس نے رضا محمود کو اغوا کیا ۔ رحیم الحق کے مطابق سیکیورٹی فراہم کرنا ریاست کی ذمہ داری ہے اور اس کو اپنی ذمہ داری پوری کرنی چاہیے۔

رحیم الحق نے کہا کہ اگر غیر ریاستی عناصر نے رضا محمود کو اٹھایا ہے تو حکومت ان کی بازیابی کو یقینی بنایا اور اگر رضا محمود حکومتی تحویل میں ہیں تو پھر حکومت قانونی راستہ اختیار کرے۔

سماجی کارکن سائرہ سہیل نے رضا محمود کے لاپتہ ہونے پر افسوس کا اظہار کیا کہ اور اگر کسی کو کوئی تحفظات ہیں تو اس کےلیے عدالتیں موجود ہے۔ ان کے بقول خدا را لوگوں کو اس طرح اٹھانا چھوڑ دیا جائے۔

قانون دان اسد جمال نے بتایا کہ رضا محمود کی جلد بازیابی کیلیے سوموار تک لاہور ہائیکورٹ میں حبس بے جا کی درخواست دائر کردی جائے گی جس میں وفاقی اور صوبائی وزارت داخلہ کو فریق بنایا جائےگا ۔ ان کے بقول سپریم کورٹ بار کی سابق صدر عاصمہ جہانگیر درخواست کی پیروی کریں گے۔

پریس کانفرنس میں سماجی کارکن سعیدہ دیپ نے اعلان کیا کہ رضا محمود کی پراسرار گمشیدگی کے خلاف گیارہ دسمبر کو لاہور پریس کلب کے باہر احتجاج بھی کیا جائے گا۔

اسی بارے میں