’جب گھر سے نکلتے ہیں پتا نہیں ہوتا کہ واپس آئیں گے یا نہیں؟‘

نغمہ شیخ تصویر کے کاپی رائٹ Naghma Sheikh
Image caption نغمہ شیخ انسانی حقوق، مزدوروں اور طلبہ تنظیموں کے مظاہروں میں پہلی صف میں موجود ہوتی ہیں اور بے خوف نعرے لگاتی ہیں۔

نغمہ شیخ کے لیے یکم اپریل صبح سے دوپہر تک ایک معمول کا دن تھا، لیکن شام کے بعد یہ ایک غیر معمولی دن بن گیا۔ نغمہ شیخ کراچی پریس کلب کے باہر انسانی حقوق، مزدوروں اور طلبہ تنظیموں کے مظاہروں میں پہلی صف میں موجود ہوتی ہیں اور بے خوف نعرے لگاتی ہیں۔

رواں سال یکم اپریل کو وہ کراچی پریس کلب میں ڈاکٹر حسن ظفر کی گرفتاری کے خلاف پریس کانفرنس میں شرکت کے لیے آرہی تھیں کہ پریس کلب کے قریب سے انہیں گاڑی سمیت حراست میں لے لیا گیا۔

نعمہ شیخ کے مطابق یہ ایک خالص انسانی حقوق کا مسئلہ تھا وہ ایک پروفیسر تھے اور انسانی حقوق کے کارکن رہے۔ ان کے لیے پریس کانفرنس ایک آئینی اور قانونی حق تھا۔ یہ پریس کانفرنس ان کے ساتھی کر رہے تھے میں تو اس میں صرف اظہار یکہجتی کے لیے جا رہی تھی۔

’مجھے کہا گیا کہ آپ کیوں ایسے بندے کے ساتھ یکہجتی کر رہی ہیں جس نے ایسے لوگوں کے ساتھ آواز اٹھائی ہے جن کا اب پاکستان سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ اگر آپ کو اپنے تھیسز وغیرہ کے لیے نمبر چاہئیں تو ہم سے بات کریں۔ اس قسم کی سرگرمیوں سے دور رہیں تو بہتر ہے، ہم بھی انسانی حقوق کے لیے کام کر رہے ہیں دیکھیں کراچی میں کتنا امن ہوچکا ہے۔‘

یہ بھی پڑھیے

لاپتہ کارکن کی رہائی کے لیے عدالت سے رجوع کرنے کا فیصلہ

وائس فار مسنگ پرسنز کے کنوینر پنہل ساریو ’لاپتہ‘

یہ پریس کانفرنس ایم کیو ایم لندن میں شمولیت اختیار کرنے والے 70 سالہ ریٹائرڈ پروفیسرحسن ظفر کی رہائی کے مطالبے کے لیے منعقد کی گئی تھی، اس پریس کانفرنس کے بعد کراچی یونیورسٹی کے استاد ڈاکٹر ریاض شیخ اور ڈاکٹر مہر افروز کو بھی تحویل میں لیا گیا، نغمہ شیخ اور مہر افروز کو تو چھوڑ دیا گیا تاہم ڈاکٹر ریاض شیخ کی گرفتاری غیر قانونی اسلحہ رکھنے کے الزام میں ظاہر کی گئی۔

نغمہ شیخ کا کہنا ہے کہ ’بطور انسانی حقوق کے کارکن کے کوئی ایک مشکل نہیں بلکہ کئی مشکلات کا سامنا ہوتا ہے۔ اس قدر کے جو ساتھی اور دوست ہوتے ہیں وہ بھی اس طرح سے ڈر اور خوف پیدا کر رہے ہوتے ہیں کہ آپ اپنا خیال رکھیں۔ انہیں یہ خدشہ ہوتا ہے کہ کسی وقت بھی ہمیں اٹھا لیا جائے گا، گھر پر چھاپا پڑسکتا ہے۔‘

’جس طرح صبین محمود یا پروین رحمان کو مار دیا گیا تو خاتون ایکٹوسٹ ہونے کی ناطے سے کراچی جیسے شہر میں یہ خوف تو لاحق ہوتا ہے کہ کسی وقت بھی آپ کو مارا جا سکتا ہے۔ اس کے علاوہ یہ بھی خوف ہوتا ہے کہ کسی وقت بھی آپ کو تفتیش کرنے کے لیے بلایا جاسکتا ہے۔ وہ لوگ جو ویسے بلند و بالا باتیں کرتے ہیں وہ بھی ساتھ کھڑے ہونے سے کتراتے ہیں کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ ہماری بھی شامت آجائے۔‘

سندھ وائس فارمسنگ پرسنز کے چیئرمین پنھل ساریو نے صوبے سے گمشدگیوں کے خلاف مارچ اور بھوک ہڑتالیں کیں۔ رواں سال اگست میں وہ لاپتہ ہوگئے اور تین ماہ کے بعد اکتوبر میں بازیاب ہوکر گھر پہنچے۔

پنہل ساریو کا کہنا ہے کہ ریاستی اور غیرریاستی اداروں کی جانب سے جو ماحول بنایا گیا ہے وہ خوف و ہراس کا ہے۔’جب بھی گھر سے نکلتے ہیں کوئی پتا نہیں ہوتا کہ واپس آئیں گے یا نہیں۔ اگر آئیں گے تو زندہ ہو ں گے یا لاش لائی جائے گی۔‘

پنہل ساریو کہتے ہیں کہ مشکلات کی جو بھی شکلیں ہوسکتی ہیں وہ سب ہی یہاں موجود ہیں۔ انسانی حقوق کی جہدوجہد کو کچلنے کے لیے تمام ہتھکنڈے استعمال کیے جاتے ہیں۔ انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والوں کے تحفظ کے لیے کوئی قانون نہیں۔ جب کبھی وہ مشکل میں آتے ہیں تو عدالتوں سے بھی ان کا کوئی پرسان حال نہیں ہوتا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Saeed Baloch
Image caption سعید بلوچ کے بقول انسانی حقوق کے کارکنوں کو خدشات ہیں کہ انہیں کسی دن یا کسی وقت بھی اٹھاکر لاپتہ کیا جاسکتا ہے

پاکستان اور انڈیا کے ماہی گیروں کے حقوق اور رہائی کے لیے کام کرنے والی تنظیم فشر فوک کے رہنما سعید بلوچ کو گزشتہ سال جنوری میں لاپتہ کیا گیا۔ مقامی اور بین الاقوامی تنظیموں کے احتجاج پر آٹھ روز کے بعد ان کی گرفتاری ظاہر کی گئی۔

سعید بلوچ کا کہنا ہے کہ انسانی حقوق کے کارکنوں کو یہ خدشات ہر وقت ہوتے ہیں کہ انہیں کسی دن یا کسی وقت بھی اٹھاکر لاپتہ کیا جاسکتا ہے یعنی جو لوگ لاپتہ لوگوں کے لیے آواز اٹھاتے ہیں وہ ہی لاپتہ ہوجاتے ہیں۔

’ان خطرات اور خدشات کی وجہ سے لوگ دور ہٹ رہے ہیں اور اس سے انسانی حقوق کی تحریک کمزور ہو رہی ہے۔‘

پاکستان میں انسانی حقوق کمیشن کے سابق چئیرمین ڈاکٹر مہدی حسن کا کہنا ہے کہ پاکستان میں جو انسانی حقوق کی پامالی ہوتی ہیں وہ خود حکومت اور اس کے اداروں کی طرف سے کی جاتی ہیں۔

’یہ ٹھیک ہے کہ محروم طبقوں کے حقوق کی اشرافیہ بھی پامالی کرتی ہے لیکن زیادہ تر خلاف ورزیاں حکومت کے ادارے کرتے ہیں۔ ان میں پولیس ، سرکاری افسران اور سیاسی جماعتیں بھی شامل ہیں۔ الیکشن کمیشن کے پاس 344 رجسٹرڈ جماعتیں ہیں ان میں سے کسی کے ایجنڈے پر انسانی حقوق نہیں اور نہ ہی ان کے منشور میں انسانی حقوق کی کوئی گنجائش ہے۔

پاکستان میں انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والوں پر مغربی ایجنٹ کا الزام لگایا جاتا ہے اور کہا جاتا ہے ۔ مذہبی گروہوں کی جانب سے لگنے والے ان الزامات سے کارکنوں کی ساکھ متاثر ہونے کے علاوہ ان کے لیے بہت سے خدشات بھی پیدا ہوجاتے ہیں۔ چونکہ بیشتر خلاف ورزیاں حکومت اور حکومتی ادارے کرتے ہیں لہذا ان کے خلاف بہت سے ایسے ایکشن ہوتے ہیں جو قانون سے بالاتر ہیں۔

پاکستان میں فوجی حکمران جنرل ضیاالحق کے دور حکومت میں شہری آزادیوں اور خواتین کے حقوق کے خلاف سے قانون بنائے گئے جن کے خلاف انسانی حقوق کی تنظیموں، حقوق نسواں، وکلا اور صحافی تنظیموں نے احتجاج کیے۔

ڈاکٹر مہدی حسن کا کہنا ہے کہ جنرل ضیا الحق کے دور میں ہر قسم کی مشکلات تھیں اس وقت قید و بند کی صعوبتیں بھی تھیں، کوڑے مارے گئے، تشدد کیا گیا اور جدوجہد کرنے لوگوں کو ملازمتوں سے بھی نکالا گیا۔

نغمہ شیخ کا کہنا ہے کہ ’موجودہ وقت میں انسانی حقوق کے کارکنوں کے لیے صورتحال پہلے سے زیادہ سنگین ہے۔ جنرل ضیاالحق کے دور میں تو صرف یہ تھا کہ آمریت اور اس کے سیاہ قوانین کے خلاف لڑنا ہے لیکن نائن الیون کے بعد ریاستی عناصر ہی نہیں بلکہ غیر ریاستی عناصر کا بھی سامنا کرنا پڑتا ہے کیونکہ آپ کو پتا ہی نہیں ہوتا کہ گولی کس نے چلائی اور نہ ہی گرفتار کیے جانے والے کا نام پتا ہوتا ہے۔‘

اسی بارے میں