انسداد دہشت گردی کی دفعات سے متعلق عمران خان کی درخواست مسترد، دوبارہ پیش ہونے کا حکم

عمران خان تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption ملزم عمران خان کی انسداد دہشت گردی کی عدالت میں یہ چوتھی پیشی تھی اور وہ بظاہر ان پیشیوں سے تنگ آچکے ہیں جس کا اظہار اُنھوں نے گذشتہ پیشی پر بھی کیا تھا

اسلام آباد کی انسداد دہشت گردی کی عدالت نے پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کی چاروں مقدمات میں انسداد دہشت گردی ایکٹ کے تحت لگائی گئی دفعات کو ختم کرنے سے متعلق درخواست مسترد کر دی ہے۔

عدالت نے ملزم عمران خان کی عبوری ضمانت میں آٹھ روز کی توسیع کر دی ہے اور اُنھیں 19 دسمبر کو دوبارہ عدالت میں پیش ہونے کا حکم دیا ہے۔

انسداد دہشت گردی کی عدالت کے جج نے پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین کے وکیل بابر اعوان کو حکم دیا ہے کہ وہ اگلی سماعت پر اپنے موکل کی عبوری ضمانت میں توسیع کے بارے میں دلائل دیں گے۔

یہ بھی پڑھیے

مجھے تو یہ عدالت بلاتے ہی جائیں گے: عمران خان

اب پتے بازی کھیلیں گے۔۔۔

’وزیراعظم عمران خان‘

قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر عدالت ملزم کے وکیل کے دلائل سے متفق نہ ہوئی تو عمران خان کی عبوری ضمانت کی درخواست کو مسترد کر کے ملزم کو کمرہ عدالت سے گرفتار بھی کیا جاسکتا ہے۔

عمران خان کے خلاف سنہ 2014 میں پارلیمینٹ ہاوس کے باہر دیے گئے دھرنے میں چار مقدمات انسداد دہشت گردی کی دفعات کے تحت درج کیے گئے ہیں ان میں پارلیمنٹ ہاوس پر حملہ، ریاست کے زیر انتظام چلنے والے سرکاری ٹیلی ویژن کی عمارت پر حملے کے علاوہ اس وقت کے ایس ایس پی اسلام آباد عصمت اللہ جونیجو کو تشدد کا نشانہ بنانے کے مقدمات بھی شامل ہیں۔

عمران خان کے وکیل بابر اعوان نے ان درخواستوں کے حق میں دلائل دیتے ہوئے کہا کہ ان کے موکل نے قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے احتجاج کیا تھا اور اس معاملے کو دہشت گردی کا رنگ دینا کسی طور پر بھی مناسب نہیں ہے۔

اُنھوں نے کہا کہ ان مقدمات میں جن گواہوں کے بیانات قلمبند کیے گئے ہیں ان میں سے کسی ایک نے بھی عمران خان کا نام نہیں لیا کہ وہ ان مقدمات میں ملوث رہے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption اس مقدمے کے سرکاری وکیل محمد شفقات نے ان درخواستوں کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ اس دھرنے کا مقصد منتخب حکومت کو گرانا تھا

بابر اعوان، جو کہ پاکستان پیپلز پارٹی کے دور میں وفاقی وزیر قانون بھی رہے ہیں ان کا کہنا تھا کہ دہشت گردی کی تعریف تو عالمی سطح پر بھی نہیں ہوسکی لہذا ان معاملات کو پرکھنے کی ضرورت ہے۔ اُنھوں نے عدالت سے استدعا کی کہ اس مقدمات کو سیشن جج کی عدالت میں بھجوا دیا جائے۔

اس مقدمے کے سرکاری وکیل محمد شفقات نے ان درخواستوں کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ اس دھرنے کا مقصد منتخب حکومت کو گرانا تھا۔ اُنھوں نے کہا کہ اس دھرنے کے دوران ملزم عمران خان نہ صرف اپنے کارکنوں کو سرکاری عمارتوں پر حملہ کرنے سے متعلق اکساتے رہے بلکہ سرکاری افسران کو سنگین نتائج کی دھمکیاں بھی دیتے تھے ۔

اُنھوں نے کہا کہ عمران خان تین سال تک اس مقدمے میں عدالتوں میں پیش نہیں ہوئے اور آج وہ اس عدالت کے دائرہ اختیار کو چیلنج کرر ہے ہیں۔

سرکاری وکیل کا کہنا تھا کہ اس دھرنے کے دوران ملزم عمران خان اور ان کی جماعت کے ایک رہنما عارف علوی کی ٹیلی فونک گفتگو بھی سامنے آئی ہے جس میں وہ اپنے کارکنوں کا پی ٹی وی کی عمارت میں داخل ہونے کے بارے میں بتا رہے تھے۔

عمران خان کے وکیل نے اس پر اپنا اعتراض ریکارڈ کروایا کہ اُنھیں بھی اس بارے میں آگاہ کیا جائے کہ سرکاری وکیل نے اس گفتگو کی ٹیپ کہاں سے حاصل کی۔

سرکاری وکیل نے عمران خان کے وکیل کے بارے میں کہا کہ انسداد دہشت گردی ایکٹ میں کوئی سقم موجود تھا تو بابر اعوان سینیٹ کے رکن کے ساتھ ساتھ وزیر قانون بھی رہے ہیں تو اُنھیں اس وقت اس کی اصلاح کرنی چاہیے تھی۔

اُنھوں نے کہا کہ عمران خان کے خلاف جو مقدمات درج کیے گئے ہیں وہ انسداد دہشت گردی کے قانون پر پورا اترتے ہیں۔

واضح رہے کہ ملزم عمران خان کی انسداد دہشت گردی کی عدالت میں یہ چوتھی پیشی تھی اور وہ بظاہر ان پیشیوں سے تنگ آچکے ہیں جس کا اظہار اُنھوں نے گذشتہ پیشی پر بھی کیا تھا۔

اسی بارے میں