سینسر فرینڈلی ’گالی‘ اور اس کی مقبولیت

خِادم حسین تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption کچھ علما گالیوں کو دوبارہ ٹرینڈ میں لے کر آنے پر آجکل ناقدین کے نشانے پر ہیں

گذشتہ ہفتے عظیم اداکار ششی کپور آنجہانی ہوگئے۔ آج کے پاکستان کے تناظر میں ان کا یہ کردار بھی یاد رکھا جائے گا کہ 45 سال قبل فلم دیوار میں ’پین دی ٹکی‘ کہہ کر انھوں نے برصغیر پاک وہند میں سکرین پر سینسر فرینڈلی گالی کی بنیاد رکھی۔

میں تاریخ دان یا لنگویسٹ تو ہوں نہیں لیکن مشاہدہ یہ کہتا ہے کہ اس طرح کی تمام گالیاں جیسے کہ بھینس چور، ماں کی آنکھ، آجکل زبان زدِ عام پین دی سری وغیرہ وغیرہ بہت ہی نازک لمحوں کی تخلیقات ہوں گی۔ جیسے کہ کسی شریف آدمی کو لائیو کرکٹ میچ دیکھنے کے دوران کیچ چھوٹنے پر فرطِ جذبات میں پہلا ’سِلیبل‘ بول چکنے کے بعد اندازہ ہوا ہوگا کہ گھر والے بھی ساتھ بیٹھے ہیں اور اس نے جو لفظ سب سے پہلے دماغ میں آیا اس کو ساتھ جوڑ کر گالی کو نسبتاً کم قابلِ اعتراض بنا دیا۔

دیکھنے میں یہ بھی آیا کہ اپنی حاضر دماغی سے متاثر ہو کر کئی لوگوں نے ان سنسر دوست گالیوں کو اپنا تکیہ کلام بنا لیا۔

کچھ علما ان گالیوں کو دوبارہ ٹرینڈ میں لے کر آنے پر آجکل ناقدین کے نشانے پر ہیں۔ جب کہ یہ بات ملحوظ خاطر رکھی جانی ضروری ہے کہ یہ ناقدین اور عام عوام تو نجی حلقوں میں باقاعدہ گالم گلوچ کر کے اپنے بھڑکتے جذبات ٹھنڈے کر لیتے ہیں لیکن علما سے یہ امید رکھی جاتی ہے کہ وہ کبھی بھی صبر کا پیمانہ ہاتھ سے نہ چھوٹنے دیں جو کہ آجکل کے زمانے میں نا ممکن نہیں تو خاصا مشکل ضرور ہے۔

Image caption 45 سال قبل فلم دیوار میں 'پین دی ٹکی' کہہ کر ششی کپور نے برصغیر پاک وہند میں سکرین پر سینسر فرینڈلی گالی کی بنیاد رکھی

1970 کی دہائی کے ایک عالم/سیاستدان سے منصوب تکیہ کلام، ’اودھی ماں نے حج نہیں کیتا‘، بددعا یا زیادہ سے زیادہ فتویٰ ہے لیکن صحیح جگہوں پر سٹریس ڈالنے سے گالی کا شبہ ہوتا ہے۔ اسی لیے دیکھنے میں آیا ہے کہ پنجابی حضرات ان بے ربط اور بے معنی لفظوں کی ادا ئیگی بہتر طور پرنبھا پاتے ہیں جبکہ دیگرحضرات عموماً گالی کے وصول کنندہ کو بھی کیوُٹ ہی لگتے ہیں۔

ایک اور اعتراض بھی اٹھا ہے کہ سینسر دوست گالیاں عورت ذات کی تضحیک کرتی ہیں۔ اس کا جواب یہ ہے کہ تمام مقبول گالیوں میں یہ قدر مشترک ہے کہ وہ خواتین یا اقلیت مخالف ہوتی ہیں، اور صرف یہاں ہی نہیں بلکہ مغرب میں بھی۔ یاد رہے کہ سنسر دوست گالی کا مقصد شدت کو کم کرنا ہے مضمون کو بدلنا نہیں۔

آرٹ، لٹریچر اور دیگر فنون خلا میں نہیں تخلیق پاتے بلکہ معاشرے کا ہی عکس ہوتے ہیں۔ میں یہ کالم لکھنے کا سوچتے ہوئے ڈر رہا تھا کہ پتا نہیں چھپے گا یا نہیں لیکن لکھنے بیٹھا تو ساتھ ہی نظر پڑی کہ پاکستان کے نمایاں ادیب/دانشور ’پین دی سری‘ کے ٹائٹل سے کالم لکھ چکے ہیں اور پاکستان کی سراہی جانے والی ادبی/صحافتی ویب سائٹس اس کو پبلش بھی کر چکی ہیں۔ گانے اور میمز پہلے ہی بن چکے تھے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ کورس کی کتابوں میں یہ گالی کب شامل ہوتی ہے۔ اوہ مجھے یاد آیا، کورس کی کتابوں میں تو صرف وہی آتا ہے جو پازیٹو ہو۔

اسی بارے میں