کشمیر میں موسمِ سرما کی پہلی برفباری، برفانی تودہ گرنے سے کم از کم پانچ فوجی لاپتہ

تصویر کے کاپی رائٹ Shafat Farooq

انڈیا کے زیرانتظام کشمیر کے تمام اضلاع میں موسم کی پہلی برفباری کے ساتھ ہی عام زندگی متاثر ہوگئی ہے۔ اس دوران لائن آف کنٹرول کے قریبی علاقوں کپواڑہ کے نوگام سیکٹر اور کنزل ون بانڈی پورہ میں فوجی تنصیبات پربرفانی تودے گرنے سے کم ازکم پانچ فوجی لاپتہ ہوگئے ہیں۔

فوجی ترجمان کرنل راجیش کالیا کے مطابق انھیں تلاش کرنے کے لیے ہیلی کاپٹروں کا استعمال کیا جارہا ہے۔ واضح رہے گزشتہ برس بھی سرحدی سیکٹروں میں برفانی تودوں کی زد میں آکر 20 سے زیادہ فوجی ہلاک ہوگئے تھے۔

اطلاعات ہیں کہ سرینگر کو گرُیز، لداخ اور جموں کے ساتھ ملانے والی شاہراہوں کو بند کیا گیا ہے جبکہ اندرونی ریل سروس کو معطل اور یونیورسٹی کے امتحانات کو ملتوی کر دیا گیا ہے۔

انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر کے واحد ہوائی اڈے پر پروازیں بھی معطل ہیں۔ بجلی کے بحران سے لوگوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔

یہ بھی پڑھئیے

کشمیر میں برفانی تودے گرنے سے دس فوجی ہلاک

لندن میں برفباری کے مناظر

محکمہ موسمیات کے مطابق اگلے تین روز تک مزید برفباری کا امکان ہے۔ حکومت نے پہلے بارہویں درجے تک تعلیمی اداروں میں سرمائی تعطیلات کا اعلان کر دیا ہے، مسابقتی امتحانات کے دوران گرمی کا خاطر خواہ انتظام نہ ہونے کے سبب ان امتحانات کو ملتوی کیا گیا ہے۔

واضح رہے کہ کشمیر کے لداخ خطے میں موسمِ سرما کے دوران درجہ حرارت صفر سے 45 ڈگری سے نیچے تک گر جاتا ہے۔ کشمیر میں منفی چھ ڈگری کا درجہ حرارت رہتا ہے، تاہم سرد لہر کے باعث معمولات زندگی متاثر ہوجاتے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Shafat Farooq
Image caption کشمیر کے لداخ خطے میں موسمِ سرما کے دوران درجہ حرارت صفر سے 45 ڈگری سے نیچے تک گر جاتا ہے

انڈین فوج کا کہنا ہے کہ لائن آف کنٹرول کے علاقوں میں شدید برفباری کے باعث پاکستانی علاقوں سے مبینہ دراندازی بھی معطل ہوجاتی ہے۔ تاہم فوجی حکام کا کہنا ہے کہ سرحدی پٹی پر وہ دن رات چوکس رہتے ہیں اور نائٹ ویژن گاگلز کی مدد سے دراندازوں پر نظر رکھی جارہی ہے۔

جاڑے میں زرعی سرگرمیاں تو معطل ہوتی ہی ہیں، باقی سرگرمیاں بھی متاثر رہتی ہیں۔ اس دوران حکومت نے اس مشہور سیاحتی مقام گلمرگ میں برف پر پھسلنے یا سکیئنگ کے مقابلوں کا اہتمام کیا ہے۔ یہ اقدام کشمیر میں ایک طویل عرصے سے جاری کشیدگی کی وجہ سے متاثر ہونے والی سیاحت کی صنعت کو فروغ دینے کی غرض سے اُٹھایا گیا ہے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں