بابری مسجد منہدم ہونے کے بعد کٹاس راج سے مورتیاں ہٹائی گئیں تھیں: پاکستانی حکام

کٹاس تصویر کے کاپی رائٹ umayr masud

حکام نے پاکستان کی عدالت عظمیٰ کو بتایا ہے کہ سنہ 1992 میں انڈیا میں بابری مسجد کے واقعے کے بعد ہندوؤں کی عبادت گاہ کٹاس راج کے مندر سے رام شیوا اور ہنومان کی مورتیاں ہٹائی گئی تھیں تاکہ اس واقعے کے ردعمل میں کوئی ان مورتیوں کو نقصان نہ پہنچائے۔

اس سے پہلے پاکستان کی سپریم کورٹ نے اس بات پر برہمی کا اظہار کیا تھا کہ ہندو افراد کٹاس راج میں مذہبی رسومات ادا کرنے کے لیے مورتیاں اپنے ساتھ لیکر آتے ہیں اور اس پر چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے متعقلہ حکام سے وضاحت طلب کی تھی۔

’تالاب میں پانی بھریں چاہے مشکیں بھر بھر لائیں‘

کٹاس راج کا خشک تالاب

بدھ کو چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے کٹاس راج کی حالت زار کے بارے میں از خود نوٹس کی سماعت کی۔

نامہ نگار شہزاد ملک کے مطابق سماعت میں محکمہ اوقاف کے سربراہ صدیق الفاروق نے اس ضمن میں عدالت میں جواب جمع کروایا جس میں کہا گیا ہے کہ مختلف ہندو رہنماؤں سے مورتیاں عطیہ کرنے کے بارے میں کہا گیا تھا لیکن کسی نے کوئی مورتی عطیہ نہیں کی۔

اُنھوں نے کہا کہ انڈیا سے بھی ابھی تک کوئی مورتی عطیہ نہیں کی گئی۔ محمکۂ اوقاف کے سربراہ کا کہنا تھا کہ ہنومان مندر اور شری رام مندر اثار قدیمہ میں آتے ہیں اس لیے وہاں پر پوجا نہیں ہوتی۔

پنجاب کے اسسٹنٹ ایڈووکیٹ جنرل نے عدالت کو بتایا کہ اس علاقے میں زیر زمین پانی کی سطح علاقے میں قائم ہونے والی سیمنٹ فیکٹریوں کی وجہ سے مسلسل کم ہو رہی ہے جس پر عدالت نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کسی نے بھی اس معاملے پر غور نہیں کیا کہ زیر زمین پانی کی سطح کم ہونے سے وہاں کے لوگ آلودہ پانی پینے پر مجبور ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Umayr Masud
Image caption ہندو مذہب کے ماننے والوں کا کہنا ہے کہ رام شیوا اپنی بیوی کی وفات پر بےتحاشا روئے تھے اور ان کے بہتے ہوئے آنسوں نے تالاب کی شکل اختیار کرلی تھی

عدالت کا کہنا ہے کہ کٹاس راج کے قریب سیمنٹ کی فیکٹریوں کی وجہ سے لوگ مختلف بیماریوں کا شکار ہو رہے ہیں۔

اُنھوں نے کہا کہ لوگوں کی زندگیوں کو خطرے میں ڈال کر اس علاقے میں سیمنٹ کی فیکٹریاں لگانے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اُنھوں نے سندھ کے وزیر اعلیٰ کو بھی ان کے صوبے کی عوام کو پینے کے صاف پانی کی فراہمی کے بارے میں کہا ہے جبکہ اس بار وزیر اعلی پنجاب کو بھی ایسی ہی ہدایات جاری کریں گے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Alamy
Image caption کٹاس راج کے تالاب میں پانی نہ ہونے کے برابر رہ گیا تھا

عدالت نے اس از خود نوٹس کی سماعت ایک ہفتے کے لیے ملتوی کر دی۔

خیال رہے کہ گذشتہ سماعت میں پاکستان کے چیف جسٹس نے ہندوں کے مقدس مقامات میں سے ایک کٹاس راج میں رام شیوا اور ہنومان کی مورتیاں نہ ہونے پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ انتظامیہ اس ضمن میں کیوں لاپرواہی کا مظاہرہ کر رہی ہے۔

عدالت کا کہنا تھا کہ اس مندر میں پاکستان اور ہندوستان کے علاوہ دنیا بھر سے ہندو برادری اپنی مذہبی رسومات ادا کرنے آتی ہے لیکن جب اس مندر میں مورتیاں نہیں ہوں گی تو وہ اقلیتی برادری کے بارے میں پاکستان سے کیا تاثر لے کر جائیں گے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں