خورشید شاہ: حزب مخالف کو لولی پاپ دیا جارہا ہے جو کسی طور پر بھی قابلِ قبول نہیں

Image caption جماعت اسلامی کا لانگ مارچ اسلام آباد پہنچ گیا ہے اور وہ حکومت سے مطالبہ کررہے ہیں کہ فاٹا کو صوبہ خیبر پختون خوا کا حصہ بنایا جائے

پارلیمان میں موجود حزب مخالف کی جماعتوں نے وفاق کے زیرانتظام قبائلی علاقوں فاٹا میں اصلاحات کے بارے میں حکومت سے مذاکرات کے لیے ایک پارلیمانی کمیٹی تشکیل دی ہے۔

اس کمیٹی میں پاکستان پیپلزپارٹی، پاکستان تحریک انصاف، جماعت اسلامی، متحدہ قومی موومنٹ اور فاٹا سے تعلق رکھنے والے ارکان شامل ہوں گے۔ ہرجماعت سے دو ارکان لیے جائیں گے جن میں سے ایک قومی اسمبلی سے جبکہ دوسرا سینٹ سے ہوگا۔

دوسری طرف حکومت نے قومی اسمبلی میں حزب مخالف کی جماعتوں کو یقین دہانی کروائی ہے کہ وہ فاٹا اصلاحات کا بل لانے میں سنجیدہ ہے اور اس ضمن میں وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے تمام جماعتوں کے پارلیمانی رہنماؤں کا اجلاس 15 دسمبر کو طلب کیا ہے۔

یہ بھی پڑھئیے

فاٹا اصلاحات پر اتفاق کیوں نہیں؟

فاٹا اصلاحات کی کہانی

فاٹا میں خواتین کے ووٹوں میں 36 فیصد اضافہ

پارلیمانی امور کے وفاقی وزیر شیخ آفتاب احمد نے منگل کو قومی اسمبلی کے اجلاس میں بتایا کہ انھوں نے فاٹا اصلاحات کے بل کے بارے میں وزیر اعظم سے بات کی ہے۔

انھوں نے کہا کہ شاہد خاقان عباسی اسلامی ممالک کی تنظیم (او آئی سی) کے اجلاس میں شرکت کے لیے ترکی جارہے ہیں اس لیے وطن واپسی پر اس معاملے کو دیکھا جائے گا۔

آفتاب شیخ کا کہنا تھا کہ وہ خود سینیٹ میں بھی جا کر پارلیمانی رہنماؤں کو مذاکرات کی دعوت دیں گے۔ انھوں نے حزب مخالف کی جماعتوں سے کہا کہ وہ چند روز انتظار کر لیں اور مذید دھرنوں میں نہ جائیں۔

قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف سید خورشید شاہ نے نقطہ اعتراض پر بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت فاٹا اصلاحات کے بل کو قومی اسمبلی میں پیش کرنے میں لیت و لعل سے کام لے رہی ہے۔

انھوں نے کہا کہ ’حزب مخالف کی جماعتوں کو لولی پاپ دیا جارہا ہے جو کسی طور پر بھی قابل قبول نہیں ہے۔‘

سید خورشید شاہ نے کہا کہ حکومت سب سے پہلے اس بات کی وضاحت دے کہ پیر کو قومی اسمبلی کے اجلاس کے ایجنڈے سے فاٹا اصلاحات کا بل کیوں نکالا گیا۔

انھوں نے کہا کہ’موجودہ دور میں دنیا کے ممالک ٹوٹ رہے ہیں لیکن پاکستان کی خوش قسمتی ہے کہ مختلف علاقے پاکستان کا حصہ بن رہے ہیں جن میں وفاق کے زیر انتظام قبائلی علاقے بھی شامل ہیں۔‘

قائد حزب اختلاف کا کہنا تھا کہ بدقسمتی سے موجودہ حکومت ہی اس کی راہ میں روڑے اٹکا رہی ہے۔

حزب مخالف کی دوسری بڑی جماعت پاکستان تحریک انصاف کے رکن قومی اسمبلی اسد عمر نے حکومت کی طرف سے پارلیمانی رہنماؤں کے اجلاس کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ’ناشتے کی میز پر ہونے والے مذاکرات نتیجہ خیز ثابت نہیں ہوتے۔‘

ادھرفاٹا اصلاحات کا بل پارلیمان میں پیش کرنے کے بارے میں حزب مخالف کی جماعت جماعت اسلامی کا لانگ مارچ اسلام آباد پہنچ گیا ہے اور وہ حکومت سے مطالبہ کر رہے ہیں کہ فاٹا کو صوبہ خیبر پختونخوا کا حصہ بنایا جائے۔

اسی بارے میں