کراچی یونیورسٹی سے بلوچ طالب علم کی گمشدگی

صغیر بلوچ، کراچی تصویر کے کاپی رائٹ Hamida Baloch
Image caption بہن کے مطابق صغیر دوستوں کے ہمراہ کینٹین میں کھانا کھانے بیٹھے تھے کہ کرولا اور موٹرسائیکلوں پہ لوگ آئے اور زبردستی لے گئے

کراچی یونیورسٹی سے مبینہ طور پر ایک بلوچ طالب علم لاپتہ ہوگیا ہے۔ خاندان کا الزام ہے کہ صغیربلوچ کو قانون نافذ کرنے والے ادارے کے اہلکاروں نے حراست میں لیا ہے۔

صغیر بلوچ جامعہ کراچی میں شعبہ پولٹیکل سائنس میں سیکنڈ ایئر کے طالب عالم ہیں۔ ان کی بہن حمیدہ طارق نے بی بی سی کو بتایا کہ ان کا بھائی صغیر 20 نومبر کو یونیورسٹی امتحان دینے گیا تھا۔ پرچے کے بعد شام پانچ بجے کے قریب کینٹین میں دوستوں کے ہمراہ کھانا کھانے بیٹھا تھا کہ ایک کرولا گاڑی اور دو موٹر سائیکل پر سوار لوگ آئے اور اسے اپنے ساتھ زبردستی لے گئے اور اس کے دوستوں کے موبائیل فون بھی چھین لیے۔

صغیربلوچ بلوچستان کے ضلع آواران کے علاقے ترتیج سے تعلق رکھتے ہیں۔ ان کی بہن حمیدہ کا کہنا ہے کہ صغیر گزشتہ پانچ برسوں سے کراچی میں زیرتعلیم ہے جبکہ باقی خاندان زلزلے کے بعد کراچی منتقل ہوگیا تھا۔ ان کے بھائی کا کسی سیاسی جماعت سے کوئی تعلق نہیں رہا۔

یہ بھی پڑھئیے

لاپتہ کارکن کی رہائی کے لیے عدالت سے رجوع کرنے کا فیصلہ

جبری گمشدگی پر احتجاجاً بھوک ہڑتال

حمیدہ بلوچ کا کہنا ہے کہ ان کے گھر والے اغوا کا مقدمہ درج کرانے تھانے گئے تھے لیکن وہاں اہلکاروں نے بدتمیزی کی اور ایف آئی آر درج کرنے سے صاف انکار کر دیا۔ اس کے بعد وہ نیشنل کمیشن فار ہیومن رائٹس کے دفتر گئے اور گمشدگی کی درخواست دی جس کے بعد پولیس تھانے سے ٹیلیفون کرکے انھیں طلب کیا گیا اور ایف آئی آر درج کی گئی۔

حکومت پاکستان کے آئینی ادارے نیشنل کمیشن فار ہیومن رائٹس کو 62 افراد کی جبری گمشدگی کی شکایت موصول ہوئی جس میں صغیر بلوچ اور لاہور سے رضا خان بھی شامل ہیں۔

نیشنل کمیشن فار ہیومن رائٹس کی سندھ سے رکن انیس ہارون نے بی بی سی کو بتایا کہ درخواست موصول ہونے کے بعد وزارت داخلہ سمیت تمام متعلقہ محکموں کوخط تحریر کیے جاتے ہیں جس میں ان سے جواب طلبی کی جاتی ہے اور اس کے لیے انھیں ابتدائی طور پر 10 روز کا وقت دیا جاتا ہے۔ اگر مقررہ وقت میں جواب نہیں آتا تو ایک اور خط بھیجتے ہیں اور انھیں سماعت پر بلاتے ہیں۔

جامعہ کراچی کے ترجمان نے واقعے سے لاعلمی کا اظہار کیا ہے جبکہ یونیورسٹی کے وائس چانسلر محمد اجمل خان سے ٹیلیفون پر بارہا کوشش کے باوجود رابطہ نہیں ہوسکا۔ نیشنل کمیشن فار ہیومن رائٹس کی جانب سے انھیں بھی خط جاری کرکے موقف طلب کیا گیا ہے۔

دوسری جانب انسانی حقوق کمیشن پاکستان کی جانب سے جامعہ کراچی سے طالب علم کی گمشدگی کے خلاف 16 دسمبر کو احتجاج کا اعلان کیا گیا ہے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں