پشاور اور شمالی وزیرستان میں دو ہفتوں کے دوران چوتھا بڑا حملہ، سیکنڈ لیفٹیننٹ اور سپاہی ہلاک

سیکنڈ لیفٹینٹ عبدالمعید تصویر کے کاپی رائٹ ISPR
Image caption سیکنڈ لیفٹیننٹ عبدالمعید رواں برس اکتوبر میں پاکستان ملٹری اکیڈمی میں تربیت مکمل کر کے شمالی وزیرستان میں تعینات ہوئے تھے۔

شمالی وزیرستان میں سکیورٹی فورسز کی گاڑی پر فائرنگ سے پاکستانی فوج کا ایک افسر اور ایک جوان ہلاک ہو گئے ہیں۔

نامہ نگار عزیز اللہ خان کے مطابق سرکاری ذرائع نے بتایا ہے کہ’پیر کی رات پونے گیارہ بجے کا واقعہ ہے جب فورسز کی گاڑی احمد خیل بویا سے علی خیل کی جانب جا رہی تھی جہاں عارف نامی ایک سپاہی بیمار تھا اور انھیں محفوظ مقام پر پہنچانا مقصود تھا۔ راستے پر نا معلوم افراد نے ان پر حملہ کیا۔‘

سیکنڈ لیفٹیننٹ عبدالمعید رواں برس اکتوبر میں پاکستان ملٹری اکیڈمی میں تربیت مکمل کر کے شمالی وزیرستان میں تعینات ہوئے تھے۔ یہ ان کی پیشہ ورانہ زندگی کی پہلی اور آخری لڑائی ثابت ہوئی جبکہ اکیس سالہ سپاہی بشارت نے تین سال قبل پاک فوج میں شمولیت اختیار کی تھی۔

مزید پڑھیئے

پشاور: خودکش حملے میں میجر سمیت دو اہلکار ہلاک

جنوبی وزیرستان میں کارروائی، 250 خاندان نقل مکانی پر مجبور

افغانستان اور پاکستان میں دولتِ اسلامیہ کتنی طاقتور ہے؟

پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ،آئی ایس پی آر کے مطابق شمالی وزیرستان کے پہاڑی سلسلے میں گھات لگائے شدت پسندوں نے پاکستانی فوج کی گاڑی پر فائرنگ کی۔ فائرنگ سے فوجی قافلے میں دو سپاہی زخمی بھی ہوئے۔ اس حملے کی ذمہ داری کالعدم تحریک طالبان پاکستان نے قبول کی ہے۔

پشاور اور شمالی وزیرستان ایجنسی میں دو ہفتوں کے دوران یہ چوتھا بڑا حملہ ہے اور ان حملوں میں ہلاکتوں کی کل تعداد اٹھارہ سے زیادہ ہو گئی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption قبائلی علاقوں میں سکیورٹی فورسز کے علاوہ پولیٹیکل انتظامیہ کو بھی شدت پسندوں کی جانب سے نشانہ بنایا جاتا ہے

شمالی وزیرستان میں فوجی آپریشن ضرب عضب کی کامیابی کے بعد متاثرین کی بحالی کا بیشتر کام مکمل ہو گیا ہے لیکن اس کے باوجود اس علاقے میں سکیورٹی فورسز پر حملوں کا سلسلہ جاری ہے۔ چند روز پہلے میر علی میں سیکیورٹی فورسز کے قافلے کے قریب دھماکے میں چھ افراد ہلاک اور آٹھ افراد زخمی ہو گئے تھے ۔ ہلاک اور اور زحمیوں میں عام شہریوں کے علاوہ زیر تربیت کیڈٹس شامل تھے۔

نامہ نگار فرحت جاوید کے مطابق ستمبر میں راجگال کے علاقے میں بائیس سالہ لیفٹیننٹ ارسلان عالم ہلاک ہوئے تھے۔

اکتوبر میں شمالی وزیرسستان کی تحصیل رزمق میں حوالدار جابر حسین، نائیک امجد اور سپاہی محسن علی دہشت گردوں کے حملے میں ہلاک ہوئے۔

Image caption ایڈیشنل انسپکٹر جنرل پولیس ہیڈ کواٹر خیبر پختونخوا اشرف نور تیسرے پولیس افسر ہیں جنھیں نومبر میں تشدد کے واقعے میں ہلاک کیا گیا ہے۔ اس سے پہلے دو پولیس افسران کو کوئٹہ میں ہلاک کیا گیا تھا

نومبر میں پاکستان اور افغانستان کی سرحد کے قریب قائم چیک پوسٹ پر حملے میں کیپٹن جنید حفیظ اور سپاہی رحیم ہلاک ہوئے۔ اسی ماہ ڈیرہ اسماعیل خان میں 28 سالہ میجراسحاق ایک کارروائی کے دوران ہلاک ہوئے تھے۔

فاٹا کے علاوہ بلوچستان میں بھی ان کارروائیوں میں تیزی آئی ہے جن میں سکیورٹی فورسز اور پولیس کی گاڑیوں کو نشانہ بنایا جاتا ہے۔

ستمبر میں بلوچستان میں فوج کے ایک قافلے پر حملہ ہوا جس میں لیفٹیننٹ کرنل عامر، سمیت تین اہلکار ہلاک ہوئے تھے۔ اس سے پہلے اگست میں بلوچستان ہی کے مختلف علاقوں میں دہشت گردی کی دو کارروائیوں کے دوران ایف سی کے نو اہلکار ہلاک ہوئے تھے۔

فوج کے ترجمان کے مطابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے گزشتہ روز 21 سالہ لیفٹننٹ عبد المعید اور سپاہی بشارت کی ہلاکت پر کہا ہے کہ'آزادی مفت میں نہیں ملتی، اس کی قیمت دھرتی کے بیٹے ادا کرتے ہیں۔'

فوج کے ترجمان میجر جنرل آصف غفور نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر ایک پیغام میں آرمی چیف کے حوالے سے کہا کہ 'میں اپنے شہداء کو سلام پیش کرتا ہوں۔ '

تصویر کے کاپی رائٹ ISPR
Image caption اکیس سالہ سپاہی بشارت نے تین سال قبل پاک فوج میں شمولیت اختیار کی تھی

ملک کے وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی اور صدر ممنون حسین نے بھی واقعے کی مذمت کی ہے۔ وزیراعظم ہاؤس سے جاری بیان میں شاہد خاقان عباسی نے یہ بھی کہا کہ 'ملک میں دہشت گردی کا نیٹ ورک تباہ کر دیا گیا ہے اور یہ جنگ جیت لی ہے، اب بچ جانے والے عناصر کا بھی خاتمہ کیا جائے گا'۔

لیفٹیننٹ عبدالمعید کی والدہ نے مقامی میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ انہیں اپنے بیٹے کی 'شہادت پر فخر' ہے، لیفٹیننٹ عبدالمعید کا تعلق وہاڑی سے تھا، ان کی والدہ نے کہا کہ' میرا بیٹا بہترین اور معزز پیشے میں آیا اور اس نے خود بھی عزت کمائی اور ہمیں بھی عزت دی۔'

اسی بارے میں