او آئی سی: دنیا مشرقی یروشلم کو فلسطین کا دارالحکومت تسلیم کرے

رکی کے صدر رجب طیب اردوغان تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption 57 رکنی تنظیم او آئی سی کی صدارت اس وقت ترکی کے پاس ہے

اسلامی ممالک کے تعاون کی تنظیم او آئی سی نے دنیا سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ مشرقی یروشلم کو فلسطینی ریاست کے ’مقبوضہ دارالحکومت‘ کے طور پر تسلیم کرے۔

57 مسلمان ممالک پر مشتمل تنظیم او آئی سی کا ہنگامی اجلاس ترکی کے شہر استنبول میں منعقد ہوا جس میں امریکی صدر ڈولڈ ٹرمپ کی جانب سے یروشلم کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے کے فیصلے کو غیرقانونی قرار دیا گیا ہے۔

تنظیم نے یہ بھی کہا ہے کہ یروشلم پر فصیلہ اس بات کا عندیہ تھا کہ امریکہ مشرق وسطیٰ میں امن بات چیت میں اپنے کردار سے پیچھے ہٹ گیا ہے۔

مزید پڑھیے

یروشلم: سات ہزار برسوں کی خون آلود تاریخ

یروشلم دنیا کا سب سے متنازع شہر کیوں؟

اعلامیہ جس نے عرب اسرائیل تنازعے کو جنم دیا

اعلانِ یروشلم: اسرائیل نواز لابیوں نے کرایا؟

تنظیم کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے فلسطین کے صدر محمود عباس نے کہا کہ یہ ناقابل قبول ہو گا کہ امریکہ ثالث کا کردار ادا کرے کیونکہ اس کا اسرائیل کے حق میں تعصب سامنے آ گیا ہے۔

صدر محمود عباس نے کہا ہے کہ امریکہ امن بات چیت میں کسی قسم کا کردار ادا کرنے کے لیے نااہل ہو گیا۔

اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے انھوں نے کہا ہے کہ ’امن بات چیت میں ہم امریکہ کے کسی کردار کو تسلیم نہیں کریں گے کیونکہ اس نے اپنے تعصب کو ثابت کر دیا ہے‘۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption استنبول میں اجلاس کے موقع پر فلسطین کے حق میں مظاہرہ بھی کیا گیا

اجلاس میں ترکی کے صدر رجب طیب اردوغان نے خطاب کرتے ہوئے اسرائیل پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ ’دہشت گرد ریاست‘ ہے۔

صدر رجب طیب اردوغان نے خطاب میں کہا کہ امریکہ کے یروشلم کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے کی کوئی حیثیت نہیں ہے۔

او آئی سی کی صدارت اس وقت ترکی کے پاس ہے اور ترک صدر رجب طیب اردوغان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس اقدام کے خلاف آواز اٹھا چکے ہیں۔

ادھر سنیچر کو عرب لیگ کے وزرائے خارجہ کے اجلاس میں امریکہ پر زور دیا گیا تھا کہ وہ اپنے اس اقدام کو واپس لے۔ تاہم عرب ممالک کی جانب سے اس حوالے سے اب تک کوئی ٹھوس اقدامات نہیں کیے گئے ہیں۔

او آئی سی کے اجلاس میں پاکستان کی نمائندگی وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کر رہے ہیں۔

یاد رہے کہ گذشتہ ہفتے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے یروشلم کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے کے یکہ طرفہ فیصلے کے بعد سے اسرائیل اور ترکی کے درمیان تعلقات بڑی تیزی سے کشیدگی کی طرف سے بڑھتے چلے جا رہے اور اتوار کو دونوں ملکوں کے رہنماؤں کی طرف سے تلخ بیانات کا تبادلہ ہوا ہے۔

اس سے قبل ترکی کے صدر رجب طیب اردوغان نے امریکہ کی طرف سے اس متنازع فیصلے کے خلاف لڑنے کا اعلان کیا اور اسرائیل کو ایک 'دہشت گرد' ریاست قرار دیا جو بچوں کو قتل کرتی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption ترک صدر طیب رجب اردوغان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس اقدام کے خلاف آواز اٹھا چکے ہیں

چند گھنٹوں بعد اسرائیل کے وزیر اعظم بن یامین نتن یاہو نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ وہ ایسے لیڈر سے لیکچر نہیں لیں گے جو کردستان کے دیہاتوں پر بم برساتا ہے اور دہشت گردوں کی مدد کرتا ہے۔

حالیہ برسوں میں دونوں ملک کے درمیان تعلقات بہتر ہو رہے تھے لیکن ڈونلڈ ٹرمپ کی طرف سے یروشلم کے بارے میں فیصلے کے بعد ترکی نے شدید غم و غصے کا اظہار کیا اور انقرا میں امریکی سفارت خانے کے سامنے سب سے پہلے عوامی احتجاج کیا گیا۔

واضح رہے کہ امریکہ دنیا کا پہلا ملک بن گیا ہے جس نے یروشلم کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کیا ہے۔

اس فیصلے کے بعد سعودی عرب کے خفیہ ادارے کے ایک سابق سربراہ نے تنبیہ کی ہے کہ یہ فیصلہ 'انتہا پسند گروہوں کے لیے آکسیجن' کا کردار ادا کرے گا جس کے بعد 'انھیں سنبھالنے میں دشواری ہو سکتی ہے۔'

فلسطینی علاقوں میں اس فیصلے کے خلاف ہونے والے مظاہروں میں اب تک چار فلسطینی شہری ہلاک ہو چکے ہیں۔ فیصلے کے بعد غزہ پٹی سے مبینہ راکٹ حملوں کے جواب میں اسرائیل نے فضائی کارروائیاں بھی کی ہیں جن میں سینکڑوں افراد زخمی ہو گئے ہیں۔

اسی بارے میں