فاٹا اصلاحات اور حکومت کی قلابازیاں

حکومت نے گذشتہ برس اگست میں اس وقت کے وزیر خارجہ سرتاج عزیز کی سربراہی میں ایک کمیٹی قائم کرکے فاٹا میں اصلاحات کا چرچا شروع خود شروع کیا۔ ہمیشہ کی طرح اُس وقت بھی قبائلیوں کے مستقبل کا تعین کرنے کا ایک مطالبہ تو چلا آ رہا تھا لیکن حکومت پر بظاہر کوئی غیرمعمولی عوامی یا سیاسی دباؤ نہیں تھا۔

تو آخر خود ہی اصلاحات کے جن کو بوتل سے نکالنے کے بعد اب حکومت اسے بند کرنے میں ناکام کیوں دکھائی دے رہی ہے؟

ایف سی آر کا خاتمہ: ’اعلان کرنا ہے تو ابھی کر دیں‘

’فاٹا کو جلد از جلد خیبر پختونخوا میں ضم کیا جائے‘

پاکستانی فوج کی قبائلی علاقوں میں ضرب عضب نامی فوجی کارروائی کی بظاہر کامیابی کے بعد حکومت اور فوج نے متفقہ طور پر قبائلی علاقوں میں انتظامی امور کی بہتری کو اس وقت کی ضرورت تسلیم کرتے ہوئے بڑی دھوم دھام سے سرتاج عزیز کی سربراہی میں ایک سرکاری کمیٹی بنائی۔ اس کمیٹی نے کئی ماہ کی عرق ریزی کے بعد ایک مجوزہ منصوبہ حکومت اور عوام کو پیش کیا۔

مجوزہ اصلاحات میں فاٹا کو صوبہ خیبر پختونخوا میں ضم کرنے اور صدیوں پرانے ایف سی آر قانون کی جگہ رواج نافذ کرنے کی تجاویز شامل تھیں۔ رواج قانون سے متعلق ایک بل قومی اسمبلی میں پیش بھی ہوا لیکن تنقید کے بعد اسے حکومت نے واپس لے لیا۔

اس کے بعد سے حکومت دو قدم آگے جانے کی بجائے پھر بظاہر تین قدم واپس لوٹ آئی ہے۔ اس کی وجہ کیا ہوسکتی ہے؟

یہ سوال قبائلی علاقوں کے لیے مسلم لیگ (قاف) کے صدر اور مرکزی نائب صدر اجمل وزیر کے سامنے رکھا تو ان کا الزام تھا کہ فاٹا کو این ایف سی کے تحت جو اربوں روپے ملنے تھے وہ حکمراں جماعت نے اپنی جماعت کے اراکین پارلیمان کو خوش کرنے کے لیے بطور ترقیاتی فنڈز دے دیے ہیں۔

انھوں نے مزید کہا کہ اس کی وجہ سے اب قبائلی علاقوں کے لیے کچھ نہیں بچا۔ ’یہ افسوس کی بات ہے کہ قبائلی علاقے ایک مرتبہ پھر سیاست کی نظر ہوگئے۔‘

حکومت کی جانب سے فاٹا اصلاحات میں تاخیر کی وجوہات تو سامنے نہیں آئی ہیں لیکن اس کا ریکارڈ کے لیے رسمی بیان یہی ہے کہ وہ اس کے لیے ’انتہائی سنجیدہ‘ ہے۔ حکومتی اراکین پارلیمان کا ماننا ہے کہ یہ اصلاحات مسلم لیگ (ن) ہی متعارف کروا کر تاریخ رقم کرے گی۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

تاہم اصلاحات کے حق میں حزب اختلاف کی سیاسی جماعتیں خصوصاً پاکستان تحریک انصاف کا کہنا ہے کہ اگر مزید تاخیر ہوئی تو ضرب عضب کی کامیابیاں کھو دی جاسکتی ہیں۔ عمران خان کہتے ہیں کہ خلا ہمیشہ خلا نہیں رہتا بلکہ اسے کوئی نہ کوئی پر کرتا ہے۔ "اگر وقت پر اقدامات نہ ہوئے تو شدت پسندی لوٹ کر آسکتی ہے‘۔

حکومت کی خاموشی ہر سیاسی جماعت کو قبائلی علاقوں پر اپنی سیاست چمکانے کا موقع دے رہی ہے۔ ایسے میں ایک متفقہ قومی آواز سنائی نہیں دے رہی ہے۔

اجمل وزیر اس منقسم سیاست کے بارے میں کہتے ہیں کہ خود قبائلی علاقوں سے تعلق رکھنے والے اراکین پارلیمان ایک پیج پر نہیں ہیں۔ ’انھیں خدشہ ہے کہ انضمام کی صورت میں پارلیمان میں ان کی حیثیت ختم ہو جائے گی۔ پھر تو وہ خیبر پختونخوا کا حصہ ہوں گے۔‘

مبصرین کے خیال میں سینیٹ اور عام انتخابات تک اب فاٹا اصلاحات پر پیش رفت کے امکانات معدوم ہوتے دکھائی دے رہے ہیں۔ ایک پہلو شاید حکمراں جماعت نے نظر انداز کیا ہے اور وہ ہے اصلاحات سے اسے ممکنہ طور پر ملنے والا ایک بڑا سیاسی اور انتخابی فائدہ۔

اصلاحات کے نتیجے میں اسے قبائلی علاقوں میں جوکہ خیبر پختونخوا کا حصہ ہوسکتے ہیں آئندہ برس کے عام انتخابات میں کامیابی مل سکتی ہے۔ تو کیا یہ اسے اس بارے میں سوچنے پر مجبور کرسکتی ہے؟

اسی بارے میں