’اسلامی دنیا بہت زیادہ منقسم ہے‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

اسلامی ممالک کے تعاون کی تنظیم او آئی سی کیا امریکہ کی جانب سے یروشلم کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے پر کوئی سخت لائحہ عمل اختیار کرسکتی ہے، اس حوالے سے سابق سفیر اور تجزیہ نگار زیادہ پر امید نظر نہیں آتے۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ سخت لائحہ عمل اختیار کرنے کے لیے اسلامی دنیا بہت زیادہ منقسم ہے۔

پاکستان کی جانب سے متعدد خلیجی ممالک میں سفیر رہنے والے جمیل خان کہنا ہے کہ او آئی سی کو جنرل اسمبلی اور سلامتی کونسل دونوں کے ہی ہنگامی اجلاس طلب کرنا چاہیے۔

کیا یروشلم اب عربوں کا مسئلہ ہے؟

’دنیا مشرقی یروشلم کو فلسطین کا دارالحکومت تسلیم کرے‘

’یروشلم تین ہزار سال سے اسرائیل کا دارالحکومت ہے‘

’فرانس سلامتی کونسل کا اجلاس طلب کرنے کے لیے پہلے ہی درخواست دے چکا ہے لیکن اس سے زیادہ امید نہیں لگائی جاسکتی کیونکہ وہ چیپٹر 6 کے تحت قرارداد منظور کرلیں گے، جس پر طاقت کے ذریعے عملدرآمد نہیں کرایا جاسکتا۔ اس لیے او آئی سی جنرل اسمبلی کے اجلاس کی درخواست کرے۔ جو پہلے قراردادیں منظور کی گئی ہیں خاص طور 478 کی خلاف ورزی ہوئی ہے لہٰذا چیپٹر 7 کے تحت قرارداد منظور کروا کے طاقت کے ذریعے عملد رآمد کرایا جائے۔‘

جمیل خان کی رائے ہے کہ اسلامی ممالک اسرائیل پر سیاسی دباؤ بھی ڈال سکتے ہیں۔ وہ اسرائیل پر واضح کردیں کہ اگلے پانچ چھ ماہ میں ہم آپ سے کاروباری لین دین نہیں کریں گے، اسی طرح سفارتی تعلقات کو بھی بتدریج منقطع کیا جائے۔ تیسرا آپشن یہ بھی ہوسکتا ہے کہ روس اور چین کے خلیجی ممالک میں بڑے مفادات ہیں اور دونوں سکیورٹی کونسل کے مستقل ممبر بھی ہیں۔ انہیں ساتھ ملاکر سفارتی دباؤ بڑھایا جائے۔

ظفراللہ خان، پاکستان کے سفیر رہے اور کئی مالک میں فرائض سرانجام دے چکے ہیں، کا کہنا ہے کہ ’اسرائیل پیچھے نہیں ہٹے گا اور یہ مسئلہ تب حل ہوگا جب اقوام متحدہ میں اسرائیل کو بھی تسلیم کیا جائے گا۔ اس حقیقت کو آپ ختم نہیں کرسکتے۔ موجودہ وقت اقوام متحدہ نے اسرائیل کو قانونی ریاست کے طور پر قبول نہیں کیا ہوا۔‘

ظفر ہلالی تجزیہ نگار اور سابق سفیر ہیں ان کا کہنا ہے کہ او آئی سی کو اپنی موجودگی کا احساس دلانا ہوگا۔ ’یہ او آئی سی کے لیے اور ترکی کے لیے بھی ایک بہت بڑا امتحان ہے۔ یہ دیکھنا ہے کہ کیا جسے مسلم امہ کہتے ہیں واقعی اس میں کوئی اتفاق ہے کہ نہیں۔‘

’مسلم ممالک یہ کیوں نہیں کہتے کہ ہم اپنے سفیروں کو واپس بلاتے ہیں، اگر سفارتی تعلقات توڑنے بھی پڑے تو توڑے دیں گے اور تجارت کا بائیکاٹ کرتے ہیں۔

قائد اعظم یونیورسٹی کے استاد ڈاکٹر نذیر حسین کا کہنا ہے کہ عالمی اسلامی کانفرنس کے حصے میں آج تک کوئی کامیابی نہیں آئی۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

’او آئی سی کا وجود خود ایک حادثے کا نتیجہ ہے جب بیت المقدس کو آگ لگائی گئی تھی، اس کے بعد یہ تنظیم سو گئی اور نائن الیون کے واقعے کے بعد دوبارہ جاگی۔ لیکن بدقسمتی سے اس کے بعد بھی وہ کردار ادا نہیں کرسکی جو کرنا چاہیے تھا۔ اس کے ممبر ممالک پہلے ہی تفریق کا شکار ہیں، کوئی امریکہ، کوئی روس تو کوئی سعودی عرب کا حامی ہے۔‘

عالمی اسلامی کانفرنس کے 57 اراکین ہیں، جو مختلف ممالک کے اتحادی ہیں، کیا اسرائیل کے معاملے پر تمام ممالک ایک صفحے پر ہیں۔ جمیل خان کہتے ہیں کہ او آئی سی اپنے عقیدے اور سیاسی و علاقائی مفاد کو برقرار رکھتے ہوئے یہ فیصلہ کریں کہ یہ سربراہاں بتدریج اپنی فالٹ لائن شیعہ، سنی، وہابی اور دیوبندی کو اگر رپئر کرنا شروع کریں گے تبھی جاکر ایک پلٹ فارم پر آسکتے ہیں۔

’خلیجی ممالک کا کلیدی ملک سعودی عرب نے اپنی بیک ڈور ڈپلومیسی میں اسرائیل سے تعلقات رکھے ہوئے ہیں۔

سابق سفیر ظفر ہلالی کہتے ہیں جو خلیجی ممالکپ یٹرول سٹیشن بنے ہوئے ہیں وہ مغرب اور امریکہ کے پٹھو ہیں۔ ان حکمرانوں کی تمام سرمایہ کاری امریکہ اور یورپ میں ہے ان سے کیا توقع کی جاسکتی ہے۔ لیکن اگر خود دار قوم بننا چاہتے ہیں اور کم از کم بھی عزت رکھنا چاہتے ہیں تو اتحاد اور یکجہتی ظاہر کرنے کا اس سے زیادہ اچھا موقع نہیں مل سکے گا۔

قائد اعظم یونیورسٹی کے استاد ڈاکٹر نذیر حسین کا کہنا ہے کہ سفارتی سطح پر ناکامی کی صورت میں مسلم ممالک میں عسکریت قوتوں کو تقویت ملے گی۔

’ہم جیسے لوگ جو کہتے چلے آئے ہیں کہ مذاکرات، امن اور بھائی چارے کے ذریعے مسئلے کو حل کرنا چاہیے، عسکریت پسند اس صورتحال کو جواز بناکر کہیں گے کہ 70 سال آپ نے یہ کر کے دیکھ لیا لہٰذا اب ایک عسکری تحریک چلنی چاہیے۔‘

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں