پاکستان میں 21 بین الاقوامی غیر سرکاری تظیموں کو دفاتر بند کرنے کا حکم

این جی اوز تصویر کے کاپی رائٹ EPA

پاکستان کی وزارت داخلہ نے ملک میں کام کرنے والی 21 بین الاقوامی غیر سرکاری تنظیموں کو اپنے دفاتر دو ماہ میں بند کرنے کا حکم دیا ہے۔ ان بین الاقوامی غیر سرکاری تنظیموں میں ایکشن ایڈ، اوپن سوسائٹی فاؤنڈیشن، پلان انٹرنیشنل اور ٹرو کیئر شامل ہیں۔

ان بین الاقوامی غیر سرکاری تنظیموں کو پاکستان میں جاری اپنے منصوبے بند کرنے کے بارے میں حکومت کی طرف سے وجوہات کے بارے میں ابھی تک کچھ نہیں بتایا گیا۔

یاد رہے کہ 2015 میں حکومت پاکستان نے بچوں کے حقوق کے لیے کام کرنے والی بین الاقوامی فلاحی تنظیم 'سیو دی چلڈرن' کا ملک میں دفتر سیل کر دیے تھے تاہم بعد میں یہ پابندی ختم کر دی گئی تھی۔

اس وقت حکومت نے اس تنظیم کا آپریشن پاکستان میں بند کرنے کی وجہ بتاتے ہوئے کہا تھا کہ 'یہ تنظیم ایسی سرگرمیوں میں ملوث تھی جو پاکستان کے مفاد کے خلاف تھیں اور جس سے متعلق خفیہ اداروں نے بھی متعدد بار رپورٹس پیش کی تھیں‘۔

یہ بھی پڑھیے

وفاقی حکومت نے 'سیو دی چلڈرن' پر عائد پابندی ختم کر دی

'مفاد کے خلاف سرگرمیوں کا مطلب کیا؟'

'غیر ملکی تنظیمیں قواعد وضوابط کی پاسداری نہیں کرتیں'

تصویر کے کاپی رائٹ PLAN INTERNATIONAL/FACEBOOK

وزارت داخلہ کے اہلکار کے مطابق جن بین الاقوامی این جی اوز کو اپنے دفاتر بند کرنے کے بارے میں دو ماہ کی مہلت دی گئی ہے ان میں ایسی تنظیمیں بھی ہیں جنھوں نے پنجاب اور صوبہ سندھ کے علاقوں میں بھی اپنے منصوبے شروع کر رکھے ہیں۔

اس کے علاوہ گلگت بلتسان اور بلوچستان کے مختلف علاقوں میں کام کرنے والی تنظمیں بھی ان میں شامل ہیں۔

جن تنظیموں کو دفاتر بند کرنے کے لیے کہا گیا ہے ان میں سے متعدد نے حکومت سے اس فیصلے پر نظرثانی کے لیے کہا ہے۔

وزارت داخلہ کی ویب سائٹ پر 139 آئی این جی اوز نے آن لائن رجسٹریشن کے لیے درخواستیں دی تھیں جن میں سے 66 کی رجسٹریشن ہو چکی ہے جبکہ 73 آئی این جی اوز کی رجسٹریشن کے لیے کارروائی کی جا رہی ہے۔

منظور شدہ تنظیموں کی جو فہرست جاری کی گئی ہے اس میں فرانس اور بیلجیئم سے تعلق رکھنے والی طبی امداد کی تنظیم میڈسن ساں فرنٹیئر یعنی ایم ایس ایف بھی شامل ہے تاہم گذشتہ دنوں اس تنظیم کو کرم اور باجوڑ ایجنسی میں اپنی طبی سہہولتیں بند کرنے کا حکم دیا گیا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ TROCAIRE/FACEBOOK

سابق وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے خفیہ اداوں کی طرف سے دی جانے والی رپورٹس کی روشنی میں پاکستان میں کام کرنے والی انٹرنیشل این جی اوز کی رجسٹریشن سے متعلق پالیسی وضع کی تھی کہ کوئی بھی بین الاقوامی غیر سرکاری تنظیم اس وقت تک پاکستان میں کام نہیں کریں گی جب تک وہ اپنے آپ کو نئی پالیسی کے تحت رجسٹرڈ نہیں کروا لیتی۔ یہ پالیسی یکم اکتوبر 2015 میں منظور اور نافذ کی گئی تھی۔

وزارت داخلہ نے ان این جی اوز کو آن لائن رجسٹریشن کے لیے چند ماہ کی مہلت بھی دی تھی۔

جن تنظیموں کو اپنے منصوبے ختم کرنے کے لیے کہا گیا ہے ان میں پلان انٹرنیشل، اوپن سوسائٹی فاؤنڈشین اور ایکشن ایڈ انٹرنیشنل نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ اُنھیں وزارت داخلہ کی طرف سے پاکستان میں اپنے منصوبے60 روز میں بند کرنے کے بارے میں خط موصول ہوا ہے۔

ان تنظیموں کو وزارت داخلہ کی طرف سے ملنے والے خط میں وجوہات کا ذکر نہیں کیا گیا۔

وزیر داخلہ احسن اقبال اور داخلہ امور کے وزیر مملکت طلال چوہدری سے اس ضمن میں رابطہ کرنے کی کوشش کی گئی لیکن ان سے رابطہ نہیں ہوسکا۔

بین الاقوامی غیر سرکاری تنظیموں کا مختصر تعارف:

پاکستان ہیومنیٹریئن فورم کے مطابق بین الاقوامی غیرسرکاری تنظیموں سے تقریباً تین کروڑ افراد کو فائدہ پہنچتا ہے۔ اس کے علاوہ انھوں نے 2016 میں 28 کروڑ ڈالرز ترقیاتی اور امدادی منصوبوں پر لگائے۔

یہ تنظیمیں پانچ ہزار افراد کا ذریعہ ملازمت بھی ہیں، لیکن جنھیں دو ماہ میں سرگرمیاں ختم کرنے کا کہا گیا ہے وہ کن شعبوں میں کام کر رہی ہیں؟

ایکشن ایڈ: پاکستان بھر میں غربت کے خاتمے کے منصوبے پر سنہ 1992 سے کام کر رہی ہے۔

اوپن سوسائٹی: اس تنظیم نے 2005 میں ملک میں تباہ کن زلزلے کے تناظر میں سرگرمیاں شروع کیں۔ اس وقت اس نے 30 لاکھ ڈالرز کی رقم ان منصوبوں پر خرچ کی۔

اس تنظیم نے ملک میں 2008 میں فاؤنڈیشن اوپن سوسائٹی انسٹیٹیوٹ بھی شروع کیا جو وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے ساتھ مل کر بچوں کی کم عمری میں تعلیمی مراکز اور حکومت کی شفافیت میں مدد کرتی رہی ہے۔ سنہ 2010 کے سیلاب میں تنظیم نے 60 لاکھ ڈالرز امداد کی۔

پلان انٹرنیشنل: یہ تنظیم 1997 سے سرگرم ہے اور گذشتہ برس اس نے 11 لاکھ بچوں کی مدد کی۔ ان کے تعلیم، صفائی اور صحت کے حقوق کو یقینی بنانے کی کوششیں کیں۔

انٹرنیوز: میڈیا کی ترقی، صحافیوں کی تربیت اور حکومت میں شفافیت کے لیے کام کیا۔

میری سٹوپس: یہ تنظیم سنہ 1990 سے پاکستان میں مانع حمل اور تولیدی صحت کے شعبوں میں کام کر رہی ہے۔ اس کے مطابق وہ پانچ لاکھ عورتوں کو صحت کی سہولتیں مہیا کرتی رہی ہے۔

پاتھ فائنڈر: یہ تنظیم بھی سنہ 1985 سے پنجاب اور سندھ میں تولیدی مسائل اور مانع حمل کے شعبے میں عورتوں کی مدد کرتی رہی ہے۔

بی آر اے سی: یہ تنظیم سنہ 2007 میں پاکستان آئی اور غربت کے خاتمے، مائیکرو فنانس اور صحت اور تعلیم کی رسائی کو آسان بنانے کے منصوبوں پر کام کر رہی ہے۔

ورلڈ وژن: ہنگامی صورتحال میں امداد پہنچانے والے یہ تنظیم بھی 2005 میں پاکستان آئی۔ ان کی سرگرمیاں بھی پنجاب اور سندھ میں مرکوز ہیں۔

ڈی آر سی: ڈینش ریفوجی کونسل 2010 میں پاکستان آئی اور افغان پناہ گزینوں کے امدادی منصوبے چلاتی رہی۔

ٹروکیئر: اپنے 1973 میں قیام کے وقت سے پاکستان میں سرگرم ہے لیکن اس نے اپنا دفتر سنہ 2007 میں پاکستان میں کھولا۔ اس کا کہنا ہے کہ گذشتہ برس اس نے 97 ہزار افراد کی انصاف، حقوق انسانی اور انسانی بنیادوں پر مدد کی۔

آئی آر ڈی: انٹرایکٹو ریسرچ اینڈ ڈویلپمنٹ نامی یہ تنظیم صحت کے شعبے خصوصاً ٹی بی کے خاتمے میں مصروف عمل تھی۔

حکومت نے اسامہ بن لادن کے معاملے میں شکیل آفریدی کے واقعے کے بعد تمام غیر ملکی فلاحی تنظیموں کی دوبارہ رجسٹریشن کا فیصلہ کیا تھا۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں