اسحاق ڈار کو گرفتار کر کے پاکستان واپس لانے کے لیے انٹرپول سے رابطہ کرنے کا فیصلہ

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption وفاقی وزیر خزانہ ان دنوں لندن میں زیر علاج ہیں تاہم احتساب عدالت نے ان کی میڈیکل رپورٹس کو مسترد کرتے ہوئے اُنھیں اشتہاری قرار دے رکھا ہے

قومی احتساب بیورو نے وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار کو لندن میں گرفتار کر کے پاکستان واپس لانے کے لیے انٹرپول سے رابطہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

اس بات کا فیصلہ نیب کے چیئرمین جسٹس ریٹائرڈ جاوید اقبال کی سربراہی میں نیب کے ایگزیکٹیو بورڈ کے اجلاس میں کیا گیا۔

اجلاس میں کہا گیا کہ وزیر خزانہ اسحاق ڈار کو ایسی کوئی بیماری نہیں ہے جس کا علاج پاکستان میں ممکن نہ ہو۔

نیب نے سپریم کورٹ کے حکم پر ملزم اسحاق ڈار پر معلوم ذرائع آمدن سے زیادہ اثاثے بنانے کا ریفرنس دائر کیا ہے۔

اسحاق ڈار کے بارے میں مزید پڑھیے

اسحاق ڈار شریف خاندان کے لیے ناگزیر کیوں ؟

اسحاق ڈار کی چھٹی منظور، وزیر خزانہ کا قلمدان لے لیا گیا

وفاقی وزیر خزانہ ان دنوں لندن میں زیر علاج ہیں تاہم احتساب عدالت نے ان کی میڈیکل رپورٹس کو مسترد کرتے ہوئے اُنھیں اشتہاری قرار دے رکھا ہے۔

نامہ نگار شہزاد ملک کے مطابق قومی احتساب بیورو نے اس سے پہلے اسحاق ڈار کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ میں ڈالنے سے متعلق وزارت داخلہ کو ایک خط بھی لکھا تھا تاہم معلومات کے مطابق ابھی تک وزارت داخلہ کے حکام نے اس خط پر عملی اقدامات نہیں کیے۔

حکمراں جماعت کے مطابق لندن میں زیر علاج ہونے کی وجہ سے اسحاق ڈار نے استعفیٰ دیا تھا تاہم وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے ان کا استعفیٰ منظور نہیں کیا اور ان کی تین ماہ کی رخصت منظور کرلی تھی۔

احتساب عدالت نے وفاقی وزیر خزانہ کی عدم حاضری پر ان کے ضمانتی احمد قدوسی کے 50 لاکھ روپے کے ضمانتی مچلکے بحق سرکار ضبط کرنے کے بارے میں حتمی نوٹس جاری کر رکھا ہے۔

احتساب عدالت نے ملزم کے بینک اکاؤنٹس بھی منجمد کرنے کا حکم دے رکھا ہے۔ احتساب عدالت نے ملزم کی عدم موجودگی میں بھی ان کے خلاف ریفرنس پر کارروائی جاری رکھی ہوئی ہے۔

نیب کے ایگزیکٹیو بورڈ کے اجلاس میں ملتان میٹرو بس منصوبے سمیت آٹھ منصوبوں میں مبینہ طور پر اربوں روپے کی بدعنوانی کی جانچ پڑتال کے لیے انکوائری کرنے کا بھی فیصلہ کیا گیا ہے۔

اسی بارے میں