عمران پاس، ترین فیل: ’آپ پاس اور دوست کی سپلی‘

تصویر کے کاپی رائٹ FAROOQ NAEEM
Image caption ن لیگ کے حامیوں کی رائے دیکھی جائے تو ان کے خیال میں 'سپریم کورٹ نے تحریکِ انصاف کا جنازہ نکال دیا' ہے۔

سوشلستان میں سپریم کورٹ، عمران خان اور انصاف یا تحریکِ انصاف صفِ اول کا ٹرینڈ ہے اور پوچھا یہ جا رہا ہے کہ جمعے کو کس کا جنازہ نکلا؟ 'انصاف کا یا تحریک انصاف کا'؟

اس حوالے سے جہاں تحفظات کا اظہار کیا جا رہا ہے وہیں اس بات کا بھی کہ اس فیصلے کے پاکستان اور اس کے سیاسی منظرنامے پر کیا اثرات ہوں گے۔ آج کے سوشسلتان میں اسی پر بات کریں گے۔

سپریم کورٹ نے عمران خان کو اہل جبکہ جہانگیر ترین کو نااہل قرار دے دیا جس پر سوشل میڈیا، روایتی میڈیا اور نجی محفلوں میں زور و شور سے بحث مباحثہ جاری ہے۔

یہ بھی پڑھیے

جس بھی چیز کو ہاتھ لگایا وہ سونا ہوگئی

عمران نااہلی سے بچ گئے، جہانگیر ترین نااہل: کب کیا ہوا؟

’وزیراعظم عمران خان‘

اگر پی ٹی آئی کے فالوورز کی بات سنی جائے تو وہ عمران خان کے بچ جانے کی خوشیاں منا رہے ہیں مگر اس بات پر کچھ کہنے کو تیار نہیں کہ پارٹی کے سرکردہ رہنما نااہل ہو گئے ہیں۔

اگر ن لیگ کے حامیوں کی رائے دیکھی جائے تو ان کے خیال میں ’سپریم کورٹ نے تحریک انصاف کا جنازہ نکال دیا' ہے اور انھیں جہانگیر ترین کی وکٹ گرنے کی خوشی تو ہے مگر نواز کے بدلے عمران کی وکٹ گرنے کا دکھ بھی ہے۔

مگر میاں ناصر محمود نے ساری صورتحال پر تبصرہ لکھا کہ ’جیت اسٹیبلشمنٹ کی ہوئی۔ باقی آپ سمجھ تو گئے ہوں گے‘۔

شفقت نے ٹویٹ کی کہ ’یہ تو وہی ہوا ہے کہ آپ پاس ہو جائیں اور اس دوست کی سپلی آ جائے۔ جس نے پارٹی کروانی تھی'۔

رضی طاہر نے لکھا کہ ’عمران خان کو ایک بڑی اخلاقی فتح نصیب ہوئی ہے، اب انہیں جہانگیر ترین کو پارٹی عہدے سے علیحدہ کر کے بڑا فیصلہ کرنے کی ضرورت ہے‘۔

ماروی سرمد نے لکھا ’عمران خان کی نااہلی کی درخواست پر چیف جسٹس آف پاکستان کے آج کے فیصلے کا مطلب ہے کہ نواز شریف کے خلاف دیا گیا فیصلہ پانچ رکنی بینچ کا کمزور بنیادوں پر دیا گیا‘۔

ایم کیو ایم کے رہنما سید علی رضا عابدی نے لکھا ’سپریم کورٹ کا فیصلہ قبول کرتے ہوئے پی ٹی آئی کے پاس کوئی اور گنجائش نہیں کہ وہ جہانگیر ترین کی بنیادی رکنیت معطل کر دے اور انہیں جماعت سے نکال دے تاکہ عمران خان کو دی گئی کلین چٹ کا فائدہ اٹھا سکیں۔ ورنہ مجھے کیوں نکالا والے جذبات بجا رہیں گے‘۔

داؤد احمد نے لکھا جو لوگ ’امید لگائے بیٹھے تھے کہ عمران خان نیازی نااہل ہوں گے تو ایسا کبھی بھی ہونے والا نہیں کیونکہ یہ سہولت صرف شریف فیملی کے لیے مُیسر ہے‘۔

شہریار مرزا نے لکھا ’ایک سیاسی جماعت جس کا تمام تر پلیٹ فارم دیانت پر قائم ہے اس کے جنرل سیکرٹری کو بدیانت ہونے پر نااہل قرار دے دیا گیا ہے۔ مٹھائی بانٹو۔'

سمیر عاشق نے لکھا ’موجودہ نظام اور انصاف بہت بڑا مذاق ہے‘۔

اس ہفتے کی تصاویر

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption لاہور کے مضافات میں چھابڑی فروش اور لوگ دھند میں ٹرین کی پٹڑی پر سےگزر رہے ہیں۔
تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption کراچی کے ایک مضافاتی علاقے میں شکر قندی کو صاف کر کے ابالا جا رہا ہے جسے بعد میں بازار میں فروخت کیا جائے گا۔

اسی بارے میں