عمران خان: ’شکر ہے خان بچ گیا‘

تصویر کے کاپی رائٹ FAROOQ NAEEM
Image caption فائل فوٹو

آج ایک بار پھر جمعہ تھا اور پاکستان کی عدالت عظمیٰ ایک بڑا فیصلہ دینے جا رہی تھی۔ اس مرتبہ یہ فیصلہ پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان اور اسی جماعت کے سیکریٹری جنرل جہانگیر ترین کی اہلیت سے متعلق تھا۔

اس سے پہلے 28 جولائی کو اسی عدالت عظمیٰ نے اس وقت کے وزیر اعظم میاں نواز شریف کو نااہل قرار دیا تھا اور وہ دن بھی جمعے کا ہی تھا۔

آج کے جمعے اور 28 جولائی کے جمعے میں فرق یہ ہے کہ جمعے کو عمران خان نااہلی سے بچ گئے جبکہ 28 جولائی کے جمعے کو نواز شریف نااہلی سے نہیں بچ سکے تھے۔

یہ بھی پڑھیے

جہانگیر ترین کو نا اہل کیوں کیا گیا؟

جس بھی چیز کو ہاتھ لگایا وہ سونا ہوگئی

عمران پاس، ترین فیل: ’آپ پاس اور دوست کی سپلی‘

’وزیراعظم عمران خان‘

پاکستان تحریک انصاف سے تعلق رکھنے والے کارکن ایک قابل ذکر تعداد میں سپریم کورٹ پہنچے تھے لیکن اس میں مرکزی قیادت نہ ہونے کے برابر تھی جبکہ اس کے برعکس حکمراں جماعت کے وفاقی وزرا اور ارکان پارلیمنٹ بھی وہاں پہنچ گئے۔

حکمراں جماعت کے رہنما حنیف عباسی کی درخواستوں پر عمران خان اور جہانگیر ترین کے خلاف دائر درخواستوں پر فیصلہ سنانے کے لیے سپریم کورٹ کا تین رکنی بینچ سوا گھنٹے کی تاخیر سے کمرہ عدالت میں پہنچا۔

چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں تین رکنی بینچ فیصلہ سنانے کے لیے پہنچا تو سب عدالت کے احترام میں کھڑے ہو گئے۔ فیصلہ سنانے سے پہلے چیف جسٹس نے دونوں پارٹیوں پر واضح کیا کہ فیصلے کے دوران کوئی بھی شخص اونچی آواز میں نعرے نہیں لگائے گا اور نہ ہی اونچی آواز میں کوئی بات کرے گا۔

سب سے پہلے عدالت نے عمران خان کا فیصلہ سنایا جس میں حنیف عباسی کی عمران خان کو نااہل قرار دینے کی درخواست کو مسترد کر دیا گیا۔

اس درخواست کے مسترد ہونے کے بعد وہاں پر موجود پاکستان تحریک انصاف کے کارکنوں کی جان میں جان آئی اور کچھ کارکنوں نے ہاتھ اُٹھا کر دعا مانگی کہ ’شکر ہے خان بچ گیا‘۔ ان میں حال ہی میں پاکستان پیپلز پارٹی چھوڑ کر پاکستان تحریک انصاف میں شامل ہونے والے راجہ ریاض بھی شامل تھے۔

عمران خان کے خلاف درخواست مسترد ہونے کے بعد کارکنوں کی ایک بڑی تعداد کمرہ عدالت سے اُٹھ کر چلی گئی اور سپریم کورٹ کے باہر جاکر اُنھوں نے پارٹی کے دیگر کارکنوں کو بھی بتایا اور اُنھوں نے بھنگڑے ڈالنا شروع کردیے۔

ان کارکنوں کو شاید یہ گمان ہو چلا تھا کہ جہانگیر ترین بھی نااہلی سے بچ جائیں گے لیکن ایسا نہ ہو۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

سپریم کورٹ نے جب جہانگر ترین کو نااہل کر دیا تو کارکنوں کی خوشی میں تھوڑی سی کمی تو ضرور آئی لیکن ایسا محسوس ہوتا تھا کہ جہانگیر ترین کی نااہلی سے کوئی خاص فرق نہیں پڑا۔

سپریم کورٹ کی طرف سے فیصلہ سنانے سے قبل کمرہ عدالت میں جو لوگ پرشان بیٹھے تھے ان میں سیاستدان تھے جو حال ہی میں پاکستان پیپلز پارٹی چھوڑ کر پاکستان تحریک انصاف میں شامل ہوئے تھے۔ ان میں نذر محمد گوندل، فردوس عاشق اعوان، مرتضیٰ ستی اور راجہ ریاض شامل تھے۔

جب یہ سیاستدان سپریم کورٹ میں پہنچے تو اُنھیں وہاں پر موجود صحافیوں نے یہ بتایا کہ نواز شریف اور ان کے خاندان کے خلاف حدیبیہ پیپر ملز کا مقدمہ دوبارہ کھولنے کے بارے میں نیب کی درخواست مسترد کر دی گئی ہے تو ان سیاست دانوں کے قدم وہیں پر رک گئے۔ نذر گوندل کے منہ سے بے ساختہ جملہ نکلا ’لگتا ہے کہ آج کا دن ہمارے حق میں نہیں ہے‘۔

پاکستان مسلم لیگ نواز کے دور میں پنجاب کے گورنر کے عہدے پر رہنے والے چوہدری غلام سرور جو فیصلہ سننے کے لیے سپریم کورٹ آئے تھے اور جب ان سے یہ پوچھا گیا کہ جہانگیر ترین کی نااہلی سے پاکستان تحریک انصاف مالی مشکلات کا شکار تو نہیں ہو جائے گی تو اُنھوں نے کہا ’پارٹی میں سرمایہ دار بہت ہیں اور اُمید ہے کہ نااہلی کے بعد بھی جہانگیر ترین سخاوت کا مظاہرہ کرتے ہوئے پارٹی کی مالی مدد جاری رکھیں گے‘۔

فیصلے سے پہلے پاکستان تحریک انصاف اور حکمراں جماعت کے ارکان پارلیمنٹ آپس میں ہنسی مذاق کرتے رہے لیکن جب فیصلہ آیا تو دونوں نے ایک دوسرے کی طرف دیکھنا بھی پسند نہیں کیا۔

صوبہ خیبر پختونخوا سے بھی کارکنوں کی ایک قابل ذکر تعداد سپریم کورٹ پہنچی ہوئی تھی اور ان میں سے اکثریت کا کہنا تھا کہ ’ہم صرف خان کے لیے آئے ہیں ہمیں کسی اور سے کوئی غرض نہیں ہے‘۔

اسی بارے میں