جنگِ اکہتر کا لمحہ جو دلی کے قومی عجائب گھرمیں محفوظ ہے

انسٹرومنٹ آف سرینڈر
Image caption جنرل نیازی انسٹرومنٹ آف سرینڈر پر دستخط کرتے ہوئے

اوائل نومبر میں، میں دہلی میں قائم انڈین نیشنل میوزیم گیا تو آثارِ قدیمہ اور مقامی تاریخ و ثقافت کے وہی نمونے نظر آئے جو ایسی جگہوں پر عموماً نظر آتے۔

البتہ جب میں دوسری منزل پر واقع 'نیوی گیلری' میں داخل ہوا تو سامانِ حرب کے نمونوں کے درمیان ایک دیوار پر سجے برونز رِیلیف یعنی کانسی میں ڈھلی ایک تصویر دیکھ کر میرے قدم جم کر رہ گئے۔

یہ تصویر تو پہلے بھی روایتی ذرائع ابلاغ اور سوشل میڈیا پر نظر سے کئی بار گزری تھی۔ مگر اسے ایک پیکر کی صورت میں دیکھنے کا میرا یہ پہلا اتفاق تھا۔

تصویر دیکھ کر میری نظروں میں 16 دسمبر سنہ 1971 کا وہ منظر گھومنے لگا جب کراچی کی ایک غریب بستی عقب جیکب لائن میں سب کے منہ لٹکے ہوئے تھے۔

Image caption پاک بھارت جنگِ 71 کی دہلی کے قومی عجائب گھر میں یادگار

ان دنوں وہاں بنگالیوں سمیت متحدہ پاکستان کی تمام نسلی اکائیوں کے لوگ مل جل کر رہتے تھے۔ مجھے نہیں معلوم کے اس وقت بنگالیوں کی اندرونی کیفیت کیا رہی ہوگی۔

میں نو سال کا تھا۔ اتنا یاد ہے کہ گلی محلے کے بڑے باقاعدگی سے ریڈیو پاکستان کے خصوصی جنگی بلیٹن اور بی بی سی اردو کا سیربین سنا کرتے تھے۔

اُس دن سقوطِ ڈھاکا کی خبر آئی تھی۔ پاکستانی فوج نے بھارتی فوج کے سامنے ہتھیار ڈال دیے تھے۔

یہ الگ بحث ہے کہ یہ شکست فوجی تھی یا سیاسی!

کانسی کے مذکورہ پیکر میں جو لمحہ قید ہے اس میں مشرقی پاکستان میں اِیسٹرن کمانڈ کے سربراہ لیفٹنٹ جنرل اے اے خان نیازی بھارتی لیفٹیننٹ جنرل جگجیت سنگھ اروڑہ کے سامنے 'انسٹرومنٹ آف سرینڈر' یعنی شکست کی دستاویز پر دستخط کر رہے ہیں۔

Image caption شکست کی دستاویز

غالباً 'بنگلہ دیش' کے الفاظ لیے یہ پہلی دستاویز ہے جس پر کسی پاکستانی اتھارٹی کے دستخط ہیں۔

مجھے اپنے محلے کا چھوٹا سا بچہ بابل یاد آیا جس کی عمر اکہتر کی جنگ میں آٹھ نو ماہ ہی رہی ہوگی اور جس کی بنگالی ماں جنگ کے بعد اپنے بیٹے اس کے بہاری باپ کو چھوڑ کر بنگلہ دیش چلی گئی تھی۔

بابل سے، جس کی عمر اب تقریباً چھیالیس سال ہے، میری ملاقات کوئی بارہ برس پہلے عقب جیکب لائن میں ہوئی تو اس نے مجھ سے کہا کہ عمر بھائی میری ایک ہی خواہش ہے کہ ماں سے میری ملاقات ہوجائے تو میں اس سے پوچھوں کہ کیا وطن کی محبت ممتا کی محبت پر بھاری تھی۔

کون جانتا ہے کہ اب اس کی ماں زندہ بھی ہے یا نہیں۔ اور اگر زندہ ہے تو بنگلہ دیش میں کہاں اور کس حال میں ہوگی۔

جنگوں کے بعد قومیں تو آگے بڑھ جاتی ہیں مگر یہ جنگیں بابل جیسے لوگوں کے دلوں پر کبھی نہ مندمل ہونے والے زخم چھوڑ جاتی ہیں۔

اسی بارے میں