چیف جسٹس ثاقب نثار: کسی فیصلے کے لیے دباؤ نہیں، ہم کسی منصوبے کا حصہ نہیں

جسٹس ثاقب نثار تصویر کے کاپی رائٹ Supreme court of Pakistan

پاکستان کے چیف جسٹس ثاقب نثار نے کہا ہے کہ ملکی عدلیہ پر کسی طور پر کسی فیصلے کے لیے کوئی دباؤ نہیں ہے اور وہ کسی منصوبے کا حصہ بھی نہیں ہے۔

خیال رہے کہ سپریم کورٹ آف پاکستان نے گذشتہ روز تین اہم فیصلے دیے جن میں سابق وزیراعظم نواز شریف اور وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف سمیت شریف خاندان کے ارکان کے خلاف حدیبیہ پیپر ملز کا مقدمہ کھولنے کی درخواست مسترد کرنا اور پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان کو اہل اور انھیں کی جماعت کے سیکریٹری جنرل کو نا اہل قرار دینا شامل تھا۔

مزید پڑھیے

حدیبیہ کیس: درخواست مسترد، عمران نیب پر برہم

جہانگیر ترین کی نااہلی اور سپریم کورٹ کی ایڈوائسز

لاہور بار ایسوسی ایشن کی جانب سے منعقدہ ایک سیمینار سے خطاب کے دوران چیف جسٹس نے عدالت کے فیصلوں پر ہونے والی تنقید پر ناراضگی کا اظہار کیا اور تفصیلی گفتگو کی۔

انھوں نے کہا کہ عدلیہ کے ادارے کی مثال گاؤں کے اس بابا رحمت دین کی ہے جو گاؤں کے لوگوں کے مسائل اور تکالیف سن کر فیصلے کرتا ہے۔

' بابا رحمتہ سنتا ہے سننے کے بعد فیصلہ کرتا ہے اور جس کے خلاف فیصلہ کرتا ہے وہ اسے گالیاں نہیں دیتا۔ بعض اوقات اتنا ضرور کہہ دیتا ہے کہ بابے کو میری بات سمجھ نہیں آئی۔ کیونکہ بابے کی عزت، دیانت پر کوئی شک نہیں ہوتا۔ یہ عدلیہ آپ کا بابا ہے۔ اس کی دیانت پر شک مت کیجیے۔ آپ کے خلاف فیصلہ ہو جائے تو پھر یہ گالیاں مت نکالیے کہ بابا کسی ڈیزائن کا کسی پلان کا کسی بڑے عمل کا حصہ بن چکا ہے۔ نہیں بنا یہ بابا نہیں بنے گا یہ بابا۔'

چیف جسٹس نے واضح کیا کہ عدلیہ نے اپنے فیصلے پوری ایمانداری کے ساتھ اپنے ضمیر اور قانون کے مطابق کیے ہیں۔

چیف جسٹس نے پاکستانی میڈیا پر مبصرین کی جانب سے عدالتی فیصلوں پر کیے جانے والے تبصروں پر کہا کہ ’مبصرین جنھوں نے فیصلہ پڑھا نہیں ہوتا حالات پتہ نہیں ہوتے، وہ ایک ایسا قصہ بیان کر دیتے ہیں جو ہم بھی سنتے ہیں تو حیران ہوتے ہیں، کہتے ہیں کہ ایسا نہیں ہوا۔'

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption سپریم کورٹ نے شریف خاندان کے ارکان کے خلاف حدیبیہ پیپر ملز کا مقدمہ کھولنے کی درخواست مسترد کر دی جس پر محتلف سیاسی جماعتوں اور میڈیا مبصرین نے بہت تنقید کی ہے

جسٹس ثاقب نثار نے بتایا کہ انھیں نہیں معلوم تھا کہ سپریم کورٹ میں جمعے کو ہی حدیبیہ کیس کا فیصلہ بھی آرہا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ جج اپنے فیصلے کرنے کے لیے آزاد ہیں اگر ایسا نہ ہوتا کسی کا زور چلتا ہوتا تو حدیبیہ کیس کا فیصلہ مختلف ہوتا۔

’مجھے نہیں معلوم تھا کہ جمعے کو حدیبیہ کیس کا فیصلہ آرہا ہے اور میں یہ قسماً کہتا ہو۔ یہ اتفاقاً ایسا ہوا۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ایک مہینے میں کیسز کے فیصلے دینے کے جذبے میں ایسا ہوا کہ اتفاق سے دوسرے کیسز کے فیصلے بھی اسی دن آئے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption عدالت نے مسلم لیگ ن کے رہنما حنیف عباسی کی جانب سے دائر درخواستوں کے فیصلے میں عمران حان کو اہل اور جہانگیر ترین کو نا اہل قرار دیا

ان کا کہنا تھا کہ عدلیہ کے منقسم ہونے کی باتیں غلط ہیں۔ عدلیہ میں کوئی تقسیم نہیں ہے اور ہر جج اپنی رائے دینے کے لیے آزاد ہے۔

’ہر جج آزاد ہے اپنے فیصلے لینے کے لیے، اور آپ یہ کہتے ہیں ٹی وی پر رات کو یہ تبصرے کرتے ہیں کہتے ہیں کہ جی سپریم کورٹ سپلٹ ہو گیا ہے جی، سپریم کورٹ میں بدقسمتی سے ڈویژن ہو گئی ہے۔‘

خیال رہے کہ سپریم کورٹ نے نیب کی جانب سے شریف خاندان کے ارکان کے خلاف حدیبیہ پیپر ملز کا مقدمہ کھولنے کی درخواست مسترد کی تھی۔ عمران خان نے اس درخواست کے مسترد ہونے کا ذمہ دار نیب کو قرار دیا تھا۔

انھوں نے نیب کے سابقہ ادوار میں ادا کیے گئے کردار پر تنقید کی اور کہا کہ 'نیب میں شریف خاندان نے اپنے لوگ رکھے ہوئے ہیں'۔

حدیبیہ ملز ریفرنس وہ مقدمہ ہے جس کا ذکر پاناما کیس کی سماعت کے دوران سپریم کورٹ اور پھر مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کی دو ماہ کی تحقیقات کے دوران بارہا سنا گیا تھا۔

اسی بارے میں