نواز شریف:’انصاف کا ترازو ہونا چاہیے تحریکِ انصاف کا نہیں‘

نواز شریف، مریم نواز
Image caption نواز شریف نے کہا کہ وہ پہلے منصفوں کی بحالی کے لیے نکلے تھے اب انصاف کی بحالی کے لیے نکلیں گے

پاکستان کے سابق وزیر اعظم نواز شریف نے کہا ہے انھوں نے پہلے ملک میں عدلیہ کی بحالی کے لیے تحریک چلائی تھی اب وہ عدل کی بحالی کے لیے تحریک چلائیں گے۔

منگل کو اسلام آباد کی احتساب عدالت کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ملک قانون اور آئین کے لیے بنایا گیا تھا اور یہاں اس طرح کی سکہ شاہی نہیں چلے گی۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں ہر کسی کے لیے قانون کا ایک سکہ چلے گا اور ملک میں انصاف کا دہرا معیار نہیں چلے گا۔

نواز شریف نے ایک بار پھر عدلیہ کو تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ سپریم کورٹ کے باہر نصب ترازو ’انصاف کا ترازو ہونا چاہیے تحریکِ انصاف کا ترازو نہیں ہونا چاہیے۔‘

انھوں نے کہا کہ وہ پہلے منصفوں کی بحالی کے لیے نکلے تھے اب انصاف کی بحالی کے لیے نکلیں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ ہم اس فیصلے کے خلاف بند باندھ کر کھڑے ہوں گے اور اس کے خلاف تحریک چلائیں گے۔

’ہم اس پہ بند باندھ کر کھڑے ہیں اور اس کو اس کے منطقی انجام تک پہنچائیں گے۔‘

اس بارے میں مزید پڑھیے

نواز شریف کی احتساب عدالت میں تیسری پیشی، حاضری سے استثنیٰ نہیں

نواز شریف کا عوامی رابطہ مہم شروع کرنے کا فیصلہ

ریفرنس یکجا کرنے کے فیصلے پر نظرثانی کا حکم

'نیب بنام نواز شریف حاضر ہوں'

سابق وزیر اعظم نے کہا کہ ہم پاگل، بیوقوف اور بھیڑ بکریاں نہیں جو انصاف کا خون ہونے دیں گے۔

نواز شریف کا کہنا تھا کہ نہ ہی ہماری جماعت اور نہ ہی پاکستانی قوم اس فیصلے کو قبول کرے گی۔

یاد رہے کہ نواز شریف تین مختلف ریفرنسوں میں مرکزی ملزم ہیں جب کہ ان کی صاحبزادی مریم نواز اور داماد کیپٹن صفدر ایک کیس میں ملزم ہیں۔

نواز شریف پر ایون فیلڈ، العزیزیہ سٹیل مل اور فلیگ شپ انویسٹمنٹ کے معاملے میں فردِ جرم عائد کی گئی تھی۔

نواز شریف اور ان کے اہلِ خانہ صحتِ جرم سے انکار کرتے ہیں۔

اسلام آباد کی احتساب عدالت نے نواز شریف کے بیٹوں حسن اور حسین نواز کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری اور ان کے اثاثے منجمد کرنے کے احکامات جاری کیے ہوئے ہیں۔

اسی بارے میں