نئی حلقہ بندیوں کا ترمیمی بل سینیٹ سے بھی منظور

قومی اسمبلی تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption بل کے مطابق قومی اسمبلی کی نشستوں کی موجودہ تعداد 272 برقرار رکھنے پر اتفاق کیا گیا ہے

پاکستان کے ایوانِ بالا نے مردم شماری کے نتائج کی روشنی میں اگلے سال ہونے والے عام انتخابات سے پہلے نئی حلقہ بندیوں کے ترمیمی بل کی منظوری دے دی ہے۔

پاکستان کی قومی اسمبلی گذشتہ ماہ اس بل کی منظوری دے چکی ہے اور سینیٹ سے منظوری کے بعد سنہ 2018 کے عام انتخابات اب نئی حلقہ بندیوں پر ہوں گے۔

یہ بھی پڑھیے

پاکستان میں انتخابی حلقہ بندیوں کے چار بڑے مسئلے

منگل کو سینیٹ کے اجلاس میں حلقہ بندیوں سے متعلق بل سینیٹر شیخ آفتاب نے پیش کیا اور ترمیمی بل کی شق وار منظوری دی گئی۔ بل کے حق میں 84 جبکہ مخالفت میں ایک ووٹ آیا۔

یہ تیسرا موقع تھا کہ یہ ترمیمی بل سینیٹ میں پیش کیا گیا تاہم ماضی کے برعکس اس بار حکومت اسے منظور کروانے میں کامیاب رہی۔ اس معاملے پر ڈیڈ لاک گذشتہ دنوں وزیراعظم شاہد خاقان عباسی اور اپوزیشن رہنماؤں کی ملاقات میں ختم ہو گیا تھا۔

اس بل کے مطابق قومی اسمبلی کی نشستوں کی موجودہ تعداد 272 برقرار رکھنے پر اتفاق کیا گیا ہے۔

نئی حلقہ بندیوں کے مطابق آبادی کے لحاظ سے ملک کے سب سے بڑے صوبے پنجاب کی نو نشستیں کم ہو جائیں گی۔

صوبہ پنجاب سے جو 9 نشستیں کم کی گئی ہیں ان میں 7 جنرل جبکہ دو مخصوص نشستیں شامل ہیں۔

یہ 9 نشستیں دو صوبوں اور وفاقی دارالحکومت میں تقسیم ہوں گی۔ ان نو میں سے پانچ نشستیں صوبہ خیبر پختونخوا، تین نشستیں صوبہ بلوچستان جبکہ ایک نشست وفاقی دارالحکومت کو مل جائے گی۔

صوبہ سندھ کی نشستوں میں کوئی ردوبدل نہیں کیا گیا ہے۔

سینیٹ سے بل کی منظوری کے بعد اپوزیشن جماعتوں نے حلقہ بندیوں کا عمل تین ماہ میں مکمل کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

اسی بارے میں