میانمار میں پرامن اور انسانیت پسند لوگ تھے لیکن اب تو انتہا ہو چکی ہے: اشرف طائی

اشرف طائی

پاکستان میں مارشل آرٹ کے بانی اور گرینڈ ماسٹر اشرف طائی روہنگیا مسلمانوں کے قتل عام کے خلاف میانمار کے قومی دن کی تقریب میں بطور احتجاج شرکت نہیں کریں گے۔

اشرف طائی کہتے ہیں کہ ان کے احتجاج کو دیکھ کر دوسرے بھی اپنا احتجاج ریکارڈ کروائیں گے۔

اشرف طائی کی پیدائش میانمار کے علاقے اکیائب میں ہوئی۔

انھوں نے بی بی سی کو بتایا ’میانمار کی موجودہ صورت حال دیکھ کر دکھ ہوتا ہے۔ وہ پرامن اور انسانیت پسند لوگ تھے۔مسلمانوں، بدھسٹ اور ہندوؤں کی آبادیاں ساتھ ساتھ ہوتی تھیں۔ اب وہاں جو ہو رہا ہے یہ لوگ کیسے ہو گئے؟ اب تو انتہا ہو چکی ہے۔

یہ بھی پڑھیے

روشن پاکستان کے لیے ہزارہ بچوں کے خواب

اشرف طائی نے نو سال کی عمر سے کراٹے کی تربیت حاصل کی اور 16 سال کی عمر میں بلیک بیلٹ حاصل کرنے کے بعد وہ میانمار میں مقامی ٹورنامنٹس کھیلتے رہے۔

’میانمار میں ہر کوئی مارشل آرٹ سیکھ سکتا ہے لیکن جب آپ ایڈوانس لیول پر آتے ہیں تو وہ آپ کو بدھ ازم میں لے آتے ہیں۔ میں نے فائٹنگ آرٹ، میڈیٹیشن اور یوگا وغیرہ سیکھ لیا۔ میرے ماسٹر کا نام لی پاؤ سن تھا۔ انھوں نے مجھے کہا کہ اگر اس سے آگے جاؤ گے تو دنیا چھوڑنی پڑ جائے گی کیونکہ وہ بھکشو بن جاتے ہیں اور ان کا دنیا سے کوئی تعلق نہیں رہتا ہے تو میں نے انھیں جواب دیا کہ میں مسلمان ہوں۔‘

اشرف طائی کا خاندان سنہ 1970 میں پاکستان آیا تھا۔

انھوں نے بتایا کہ جنرل نیمن نے سنہ 1965 میں تمام اداروں کو حکومتی تحویل میں لے لیا جس سے مسلمانوں کو شدید مالی نقصان پہنچا، ہمارا خاندان وہاں سے مغربی پاکستان چلا گیا، جہاں سے سنہ 1970 میں کراچی آ گیا۔

اشرف طائی کہتے ہیں کہ جب وہ کراچی آئے تو یہاں کراٹے کا نام و نشان بھی نہیں تھا۔ انھوں نے کراچی میں کراٹے کی بنیاد رکھی۔

’لوگوں کو پتہ ہیں نہیں ہوتا تھا کہ جوڈو کراٹے کیا ہے وہ یہ ہی سمجھتے تھے کہ اگر آپ نے کوئی چیز توڑ دی تو آپ ماسٹر ہو گئے۔ یہ ابتدائی دور انتہائی کھٹن تھا، بہت کم لوگ کراٹے سیکھنے آتے تھے۔ اس کے بعد بروس لی کی فلمیں آنے لگیں تو ہر کوئی بروس لی بننا چاہتا تھا۔‘

اشرف طائی میڈیا کی سرخیوں میں اس وقت سامنے آئے جب سنہ 1976 جاپانی پہلوان انوکی کا بھولو پہلوان کے چھوٹے بھائی اکرم پہلوان سے مقابلہ ہوا۔

’اکرم پہلوان اور انوکی پہلوان کے مقابلے میں مجھے ٹرینر رکھا گیا جس سے مجھے میڈیا کے ذریعے پذیرائی ملی۔ میں نے سنہ 1986 کراٹے فیڈریشن رجسٹرڈ کرائی اس سے پہلے حکومت پاکستان کراٹے کو نہیں مانتی تھی، اس کو پاکستان اولمپکس سے تسلیم کرایا اور ایشیائی باڈی اور عالمی باڈی سے توثیق کرائی۔

اشرف طائی نے سنہ 1981 میں ٹوکیو میں ہونے والی مارشل آرٹ کے عالمی چیمپیئن شپ میں شرکت کی۔ انھیں امریکہ کے عالمی چیمپیئن ڈان ولسن نے شکست دی۔

’پہلے راؤنڈ میں میرے نو پوائنٹس تھے اور ڈان ولسن کے چھ، دوسرے راؤنڈ میں اس کے چار پوائنٹس تھے اور میرے سات۔ مجھے یقین تھا کہ میں جیت جاؤں گا لیکن اس نے تیسرے راونڈ میں مُکہ مار کر مجھے ناک آوٹ کر دیا۔ میری عالمی رینکنگ سات تھی اس کے بعد پاکستان سے کوئی بھی اس رینکنگ تک نہیں پہنچا۔

اشرف طائی کے پاس امریکہ کی شہریت بھی ہے لیکن ان کی اولیت پاکستان ہے، بقول ان کے جو عزت اور احترام پاکستان میں ملتا ہے کہیں اور نہیں ملتا۔

’پاکستان میں کراٹے کا مستقبل روشن ہے اگر ایسا نہ ہوتا تو میں امریکہ میں ہوتا۔ پاکستان میں اب پولیس، فوج، ایئر فورس اور رینجرز میں بھرتی کے لیے کراٹے کا کوٹہ دیا جاتا ہے، اب تو مختلف محکموں کی ٹیمیں بھی بن چکی ہیں۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں