آپریشن ردالفساد کتنا کامیاب رہا؟

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

پاکستان میں شدت پسند تنظیموں اور ان کے سہولت کاروں کا خاتمہ کرنے کے لیے شروع کیے گئے آپریشن ردالفساد کی وجہ سے ملک بھر میں عمومی طور پر دہشت گردی کی کارروائیوں میں کافی حد تک کمی آئی ہے تاہم قانون نافذ کرنے والے ادارے بدستور حملوں کے زد میں ہیں جبکہ بیشتر کالعدم تنظیموں کی قیادت بھی تاحال محفوظ ہے۔

پشاور اور بلوچستان میں ہونے والے حالیہ دہشت گرد حملوں سے ایک مرتبہ پھر یہ تاثر پیدا ہو رہا ہے کہ شاید عسکری تنظیمیں پھر سے اکھٹا ہونے کی کوشش کر رہی ہیں۔

گذشتہ سال کے آخر میں فوج کے موجودہ سپہ سالار جنرل قمر جاوید باجوہ کی طرف سے فوج کی کمان سنبھالنے کے بعد آپریشن ضرب عضب کے تحت ملک بھر میں کارروائیوں کا سلسلہ جاری رہا۔

یہ بھی پڑھیے

کوئٹہ میں گرجا گھر پر شدت پسندوں کا حملہ، آٹھ ہلاک

آپریشن 'ردالفساد' جاری، چاروں صوبوں میں چھاپے، گرفتاریاں

پاکستان: کالعدم تنظیموں کی چندہ مہم کا ’دوبارہ آغاز‘

تاہم سال 2017 کے ابتدائی دو ماہ میں ملک میں دہشت گرد کارروائیوں میں اچانک تیزی آئی اور شدت پسند تنظیموں نے ایک ہی دن میں پشاور سے لے کر کراچی اور پھر بلوچستان تک اہم سرکاری اور شہری اہداف کو نشانہ بنایا جس سے یہ تاثر پیدا ہوا کہ شاید دہشت گرد پھر سے منظم ہو رہے ہیں۔

ان حملوں میں لاہور میں چیئرنگ کراس میں ہونے ولا واقعہ خصوصی طور پر قابل ذکر ہے جس میں 18 افراد ہلاک ہوئے تھے۔ یہ واقعات ایسے وقت پیش آئے جب ملک کے بیشتر لوگ یہ سمجھ رہی تھے کہ شاید ضرب عضب کے نتیجے میں دہشت گردوں کی کمر ٹوٹ چکی ہے۔

تاہم ان بڑھتے ہوئے واقعات کے تناظر میں فروری 2017 میں فوج کی طرف سے آپریشن ردالفساد کے نام سے ایک نئے آپریشن کا آغاز کیا گیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

اس آپریشن کے بڑے اہداف میں ملک کے مختلف علاقوں میں قائم شدت پسندوں کے ’سلپر سیلز‘ اور ان کے سہولت کاروں کا خاتمہ کرنا تھا۔ اس آپریشن میں اب تک بیشتر کارروائیاں انٹلیجنس معلومات کے تحت کی گئی ہیں اور جس کا دائرہ فاٹا اور خیبر پختونخوا سے لے کر کراچی، بلوچستان اور پنجاب کے صوبوں تک پھیلا دیا گیا ہے۔

فوج کا کہنا ہے کہ ’رد الفساد‘ کا مقصد نیشنل ایکشن پلان پر عمل درآمد کرنا ہے اور یہ کہ اس آپریشن سے سرحد کی سکیورٹی بھی یقینی بنانا ہے۔

دفاعی امور کے تجزیہ نگار بریگیڈیئر ریٹائرڈ سعد محمد کا کہنا ہے کہ ردالفساد کے تحت ہونے والی زیادہ تر کارروائیاں کامیاب رہی ہے لیکن جہاں تک دہشت گردی کے منبے اور جڑ کا تعلق ہے اس پر کوئی خاص توجہ نہیں دی گئی جس سے اس آپریشن کو مکمل طور پر کامیاب قرار نہیں دیا جاسکتا۔

ان کا کہنا ہے کہ ’جب تک ہم افغانستان کے ساتھ ایک نئی اور مثبت سوچ کے ساتھ بات چیت نہیں کریں گے اس وقت تک دہشت گردی کا معاملہ مکمل طور پر حل نہیں ہوسکتا۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

انھوں کہا کہ ’فوج بھلے کتنے ہی بڑے آپریشن کیوں نہ کرے دہشت گردی کے واقعات کا روکنا مشکل نظر آتا ہے، کیونکہ دہشت گرد کہیں نہ کہیں نکل ہی جاتے ہیں۔ جب تک اس بات پر پوری توجہ نہیں دی جاتی کہ اس کا مرکز کہاں ہے اور اسے کیسے ختم کیا جاسکتا؟‘

’افغانستان کے ساتھ آج کل مذاکرات کا عمل مثبت پیش رفت کی طرف بڑھ رہا لیکن اسے مزید مربوط بنانا ہوگا اور دونوں ممالک کو اپنے اپنے موقف سے ہٹ کر قابل عمل اعتماد سازی کی طرف بڑھنا ہوگا ورنہ اس کے علاوہ اس معاملے کا اور کوئی حل بظاہر نظر نہیں آتا۔‘

پاکستان میں آپریشن ردالفساد کے بعد عوامی مقامات پر اگرچہ بڑے بڑے دھماکوں اور واقعات میں کافی حد تک کمی آئی ہے لیکن ہدفی یا ٹارگٹیڈ واقعات کا سلسلہ بدستور جاری ہے۔ ان واقعات میں زیادہ تر پولیس، فوج اور حکومت حامی افراد کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

پشاور میں حالیہ دنوں میں دو بڑے واقعات رونما ہوئے جس میں پولیس کے اے آئی جی کی ہلاکت کے علاوہ زرعی تربیتی ادارے پر بڑا حملہ کرنے کی کوشش کی گئی لیکن پولیس اور سکیورٹی اہلکاروں کی بروقت کارروائی کی وجہ سے زیادہ نقصان نہیں ہوا۔

اس کے علاوہ بلوچستان میں بھی مسلسل پولیس اور سکیورٹی اہلکار حملوں کے زد میں رہے ہیں جس سے ایک مرتبہ پھر سے یہ سوالات اٹھائے جارہے ہیں کہ شاید عسکری تنظمیں پھر سے اکھٹا ہونے کوشش کررہی ہیں۔

شدت پسندی پر گہری نظر رکھنے والے سنئیر تحقیق کار عامر رانا کا کہنا ہے کہ ردالفساد میں مرکزی توجہ شدت پسند تنظیموں کے سہولت کاروں یا ان کے سپورٹ گروپوں پر رکھی گئی جس سے شاید بڑی عسکری تنظیموں کو پھر سے منظم ہونے کا موقع مل سکتا ہے۔

انھوں نے کہا کہ ضرب عضب اور ردالفساد کی وجہ سے دہشت گرد تنظیموں کے حملہ کرنے کی صلاحیت میں کمی ضرور واقع ہوئی لیکن ان سے کوئی بڑا فرق نظر نہیں آرہا کیونکہ دہشت گردی کے واقعات وقتاً فوقتاً بڑھتے جا رہے ہیں۔

آپریشن ردالفساد کا ایک بنیادی نکتہ پاک افغان سرحد کی سکیورٹی بڑھانا اور اس کو محفوظ بنانا بھی رہا ہے۔

ڈیورنڈ لائن کے نام سے منسوب پاک افغان بارڈر دونوں ممالک کے درمیان ابتدا ہی سے زیادہ تر مسائل کی جڑ رہا ہے۔ پاکستان الزام لگاتا رہا ہے کہ ملک کے اندر ہونے والے بیشتر واقعات کی منصوبہ بندی سرحد پار افغانستان میں ہوتی رہی ہیں اور جہاں سے شدت پسند سرحد پار کر کے یہاں حملوں میں ملوث رہے ہیں۔ تاہم افغانستان کا موقف ہے کہ ان حملوں کو حکومتی پشت پناہی حاصل نہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

پاکستان نے ان واقعات کو روکنے کے لیے حالیہ دنوں میں پاک افغان سرحد پر باڑ اور جدید آلات لگانے کا کام تیز کر دیا ہے۔

پشاور کے سینئیر صحافی اور شدت پسندی پر کتاب کے مصنف عقیل یوسفزئی کا کہنا ہے کہ ’یہ بیانیہ ہی غلط ہے کہ پاکستان میں تمام دہشت گردی افغانستان سے ہورہی ہے۔‘

انھوں نے کہا کہ ’پاکستان میں 70 سے زیادہ کالعدم تنظیمیں موجود ہیں جس کا وزیر داخلہ اعتراف بھی کر چکے ہیں، ان تنظیموں کے خلاف ابھی تک موثر کارروائی نہیں ہوسکی ہے اور بعض کو تو ہاتھ تک ہی نہیں لگایا گیا ہے۔‘

ان کا کہنا ہے کہ ’ابتدا میں نیشنل ایکشن پلان پر آپریشن اور آئی ڈی پیز کی بحالی کی حد تک تو موثر عمل درآمد نظر آیا لیکن جو دیگر نکات ہیں ان پر توجہ نہیں دی گئی اور اب یہی خامی ردالفساد میں بھی نظر آرہی ہے۔‘

ادھر عسکری ذرائع کا کہنا ہے کہ گذشتہ دس ماہ کے دوران آپریشن ردالفساد کے تحت ملک بھر میں 69 بڑے آپریشن اور 18 ہزار سے زیادہ انٹلیجنس معلومات پر مشتمل کارروائیاں کی گئی ہیں جس میں 20 ہزار چھوٹے بڑے ہتھیار برآمد کے گئے۔

اسی بارے میں