’استطاعت تھی اس لیے 33 سال مقدمہ لڑتا رہا‘

خواجہ عبدالسمیع تصویر کے کاپی رائٹ خواجہ عبدالسمیع
Image caption ’مقدمے کے دوران میری خاندانی زندگی متاثر رہی اور مجھے دھمکیاں بھی ملتی رہیں‘

77 سالہ خواجہ عبدالسمیع 33 سال کی قانونی جدوجہد کے بعد مقدمہ جیت جانے پر خوشی سے زیادہ فخر محسوس کر رہے ہیں۔

’مجھے فخر اس بات پر ہے کہ میں دھونس، دھمکیوں اور طعنوں کے باوجود اپنے قدموں پر کھڑا رہا اور قبضہ مافیا سے لڑتا رہا اور بالآخر تین دہائیوں بعد اپنا پلاٹ واپس لے لیا۔‘

اسلام آباد میں گھر بنا کر اس میں رہنے کی خوشی کراچی کے اس تاجر کو نصیب نہیں ہوئی لیکن اس دوران مختلف عدالتوں کے چکر لگاتے لگاتے وہ پاکستان کے عدالتی نظام کے ماہر ضرور بن گئے۔

خواجہ عبدالسمیع کے مطابق ’میرا خیال ہے عدالتوں میں مقدمے جو اتنے سال چلتے رہتے ہیں ان میں قصور ججوں کا نہیں ہے بلکہ قانون کا ہے۔ اتنے سارے ججوں نے میرا مقدمہ سنا لیکن مجھے کبھی محسوس نہیں ہوا کہ کسی جج نے پیسے لے کر میرے مقدمے کو طول دینے کی کوشش کی ہے۔ سب ایماندار جج تھے لیکن قانونی مو شگافیوں کے سامنے سب بےبس دکھائی دیتے تھے۔‘

یہ بھی پڑھیے

’چار سو روپے ہوتے تو انیس سال پہلے آزاد ہو جاتی‘

محمد علی جناح کی کوٹھی 'دشمن کی جائیداد' کیوں؟

جائیداد کا تنازع: 'گینگ ریپ' کے بعد خاتون پر پانچویں بار تیزاب پھینکا گیا

Image caption خواجہ عبدالسمیع نے 1974 میں 48 ہزار روپے سے زیادہ کی رقم میں یہ پلاٹ خریدا تھا

خواجہ عبدالسمیع کی کہانی 1974 میں شروع ہوئی جب انہوں نے نئے نویلے شہر اسلام آباد میں ایک پلاٹ خریدا۔

اب اسلام آباد کے مہنگے ترین علاقے سیکٹر ای 7 میں دو کنال کا پلاٹ انہوں نے 33 برس قبل 48 ہزار روپے میں خریدا تھا۔

کراچی کے رہائشی عبدالسمیع ایک کاروباری شخصیت ہیں اور وہ مختلف ممالک کا سفر کرتے رہتے ہیں۔

انھوں نے بتایا کہ وہ سنہ 1983 میں مری گئے اور واپسی پر اپنے رہائشی پلاٹ کا معائنہ کرنے پہنچے تو دیکھا کہ وہاں نئے مکان کی تعمیر آخری مراحل میں تھی۔

ان کے مطابق وہاں موجود ایک شخص جو خود کو مکان مالک ظاہر کر رہا تھا وہ اس بات کا دعویدار تھا کہ اس نے یہ پلاٹ مجھ سے خریدا تھا۔

عبدالسمیع نے سی ڈی اے سے رابطہ کیا اور شنوائی نہ ہونے کی صورت میں اس معاملے میں پہلا مقدمہ سنہ 1984 میں دائر کیا گیا جس میں سی ڈی اے کو بھی فریق بنایا گیا۔

اس کے بعد یہ مقدمہ راولپنڈی کی مختلف عدالتوں میں چلتا رہا اور پھر اسلام آباد ہائی کورٹ بننے کے بعد اس کی سماعت وہاں جاری رہی۔

Image caption خواجہ عبدالسمیع کے پلاٹ پر قبضے کے بعد تعمیر کیے گئے مکان کو اب گرا دیا گیا ہے

عبدالسمیع خان نے بتایا 'اس عرصے میں مختلف عدالتوں نے ان کے حق میں فیصلہ دیا تاہم بار بار حکم امتناعی مل جانے سے مقدمہ طوالت اختیار کرتا رہا۔'

آخر کار سنہ 2015 میں اکتوبر میں عدالتِ عظمیٰ نے عبدالسمیع کے حق میں فیصلہ تو دے دیا تاہم ابھی ان کا قانونی سفر ختم نہیں ہوا تھا۔

اس کے بعد انھوں نے اپنی جائیداد کے قبضے کا مقدمہ پھر اسلام آباد ہائی کورٹ میں دائر کیا جس کا فیصلہ جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے کیا اور اس پر خاصی مشکلات کے بعد رواں ہفتے ہی عمل درآمد ہوا ہے۔

خواجہ عبدالسمیع نے بتایا کہ'اس پوری قانونی جنگ کے جنگ دوران مجھے ہمیشہ ایماندار جج ملے جنھوں نے کبھی بلواسطہ یا بلاواسطہ کوئی مطالبہ نہیں کیا لیکن میرا مقدمہ بار بار حکم امتناعی جاری کیے جانے کی وجہ سے طویل ہوا۔'

اس مقدمے کے دوران ان کی جائیداد پر غیر قانونی قبضہ کرنے والوں نے کئی بار انھیں ان ہی کی جائیداد کی قیمت دے کر معاملہ ختم کرنے پر زور دیا تاہم عبدالسمیع کا کہنا تھا کہ 'تم نے اس شخص کی جائیداد پر قبضہ کیا ہے جس کو اللہ نے استطاعت دی ہے کہ وہ یہ مقدمہ لڑ سکے۔'

Image caption مختلف عدالتوں نے ان کے حق میں فیصلہ دیا تاہم بار بار حکم امتناعی مل جانے سے مقدمہ طوالت اختیار کرتا رہا: عبدالسمیع

43 برس قبل 48 ہزار روپے سے زیادہ قیمت پر جو رہائشی پلاٹ عبدالسمیع نے اپنی اہلیہ کے نام پر خریدا تھا ان کے مطابق اب اس کی قیمت 20 سے 25 کروڑ روپے کے لگ بھگ ہے۔

خواجہ عبدالسمیع کہتے ہیں کہ'اس پورے مقدمے کے دوران میری خاندانی زندگی متاثر رہی لیکن میں نے اس مقدمے کی پیروی صرف اس وجہ سے نہیں روکی کہ قانون اور انصاف پر سے میرا یقین متزلزل نہ ہو جائے۔'

اسی بارے میں