شہباز شریف وزیراعظم کے امیدوار،’مسلم لیگ نون اسٹیبلشمنٹ کی پسند کو آگے لانا چاہتی ہے‘

نواز شریف، شہباز شریف تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption شہباز شریف نے ہمیشہ اپنے بھائی کو ایک دوسرا رخ دکھانا کی کوشش کی ہے: سہیل وڑائچ

پاکستان میں حکمران جماعت مسلم لیگ نواز کی جانب سے آئندہ انتخابات میں وزارتِ عظمیٰ کے اُمیدوار کے طور پر شہباز شریف کا نام سامنے آنے کے بعد شریف خاندان میں بظاہر پائی جانے والی غلط فہمیوں کی افواہیں دم توڑ گئی ہیں۔

بدھ کو مسلم لیگ نواز کے رہنما نواز شریف نے اپنی رہائش گاہ پر ہونے والے اجلاس میں اعلان کیا تھا کہ آئندہ انتخابات میں شہباز شریف اُن کی جماعت کی جانب سے وزیراعظم کے عہدے کے اُمیدوار ہوں گے۔

سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ مسلم لیگ نواز کی جانب سے اسٹیبلشمنٹ کے بارے میں حکمتِ عملی کا حصہ ہے۔

نواز شریف کا متبادل کون؟

نواز شریف کی ڈنڈا ڈولی

مسلم لیگ نواز کے رکنِ اسمبلی رانا افضل کا کہنا ہے کہ نواز شریف کی جانب اس اعلان کے بعد صورتحال واضح ہو گئی ہے۔

رانا افضل کا کہنا ہے کہ’پارٹی پر تنقید ہو رہی تھی کہ شاید ان میں آپس میں کچھ غلط فہمیاں ہیں اور دوسری جماعتیں یہ کہہ رہی تھیں پارٹی تقسیم ہو رہی ہے۔ اب چیزیں واضح ہو گئیں ہیں۔‘

عام طور یہ خیال کیا جا رہا تھا کہ سپریم کورٹ کی جانب سے نواز شریف کے نااہلی کے فیصلے کے بعد نواز شریف کے سخت ردعمل پر شریف خاندان میں اختلافِ رائے پایا جاتا ہے۔ نواز شریف عدلیہ اور مختلف اداروں پر جانبداری کا الزام عائد کر رہے ہیں جبکہ شہباز شریف محاذ آرائی سے گریز کرنے کا مشورہ دیتے رہے ہیں۔

تجزیہ کار سہیل وڑائچ کا کہنا ہے کہ شہباز شریف نے ہمیشہ اپنے بھائی کو ایک دوسرا رخ دکھانا کی کوشش کی ہے۔

بی بی سی بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ وزیراعظم کے لیے شہباز شریف کے نام کا اعلان مسلم لیگ نون کا ایک ’ٹیکٹیکل اقدام‘ ہے۔

نواز شریف کا پانچواں سال

مہر ستار اور نواز شریف

سہیل وڑائچ کے مطابق مسلم لیگ نواز اس فیصلے سے الیکشن میں فائدہ اُٹھانا چاہتی ہے۔

انھوں نے کہا کہ ’مسلم لیگ نواز فیصلے سے اسٹیبلشمنٹ کو یہ پیغام دینا چاہتی ہے کہ وہ اُسے لانا چاہتے ہیں جنھیں وہ پسند کرتے ہیں جبکہ دوسری جماعتوں کو یہ پیغام دے رہے ہیں شہباز شریف جیسا وزیر اعلیٰ اُن کا امیدوار ہے۔‘

رانا افضل نے کہا کہ ’شہباز شریف ایک متحرک رہنما ہیں اور سیاسی اور انتظامی طور پر پورے پاکستان میں لوگ انھیں پسند کرتے ہیں اور اس اعلان کے بعد پارٹی کے آئندہ الیکشن کے لیے راہ ہموار ہوئی ہے۔‘

کیا مسلم لیگ نواز نے ’مائنس نواز‘ کے فیصلے کو تسلیم کر لیا ہے اس سوال کے جواب میں رانا افضل نے کہا کہ ’آج بھی اگر نواز شریف کو الیکشن لڑنے کی اجازت مل جائے تو وہ ہی وزیراعظم ہو گے لیکن وہ الیکشن نہیں لڑ سکتے ہیں۔‘

انھوں نے کہا کہ شہباز شریف تو خود بھی کئی بار یہ کہہ چکے ہیں کہ میرے لیڈر نواز شریف ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption آئندہ انتخابات میں شہباز شریف مسلم لیگ نون کی جانب سے وزیراعظم کے عہدے کے اُمیدوار ہوں گے

نواز شریف کی بیٹی مریم نواز سیاسی طور پر سرگرم تھیں ہی لیکن نواز شریف کے نااہل ہونے کے بعد مریم نواز سیاسی طور پر کافی سرگرم نظر آئیں اور انھوں نے لاہور سے قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 120 کے اتخابات میں اپنی والدہ کے لیے بھر پور انتخابی مہم چلائی۔

احتساب عدالتوں میں پیشی کے موقع پر بھی مریم نواز اپنے والد کے ساتھ ساتھ ہی نظر آتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ کئی حلقے انھیں نواز شریف کا سیاسی جانشین قرار دے رہے تھے۔

وزارتِ عظمیٰ کے امیدوار کے لیے شہباز شریف کا نام سامنے آنے کے بعد مریم کا سیاسی مستقبل کیا ہو گا؟ اس سوال کے جواب میں رانا افضل نے کہا کہ جب اس فیصلے کا اعلان ہوا تو مریم نواز بھی وہاں موجود تھیں۔

انھوں نے کہا کہ ’مریم کبھی بھی وزارتِ اعظمیٰ کی امیدوار نہیں رہی ہیں اور کبھی پارٹی میں اس بارے میں بات نہیں ہوئی لیکن آئندہ حکومت میں مریم کی سوجھ بوجھ کے مطابق اُن کا کردار ہو گا۔

تجزیہ کار سہیل وڑائچ کا کہنا ہے کہ مسلم لیگ نواز کا آئندہ وزیراعظم کون ہو گا یہ بہت دور کی بات ہے کیونکہ اس کا فیصلہ انتخابات کے نتائج آنے کے بعد ہی ہو گا کہ شہباز شریف وزیراعظم بنتے ہیں یا حزبِ مخالف کے رہنما یا پھر پنجاب کے وزیر اعلیٰ لیکن اب بات واضح ہے کہ یہ اعلان اسٹیبلشمنٹ سمیت مختلف حلقوں کو واضح پیغام ہے۔

اسی بارے میں