سوشلستان:’عدلیہ آپ کا بابا ہے‘

چیف جسٹس تصویر کے کاپی رائٹ APP
Image caption چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس ثاقب نثار

سوشلستان میں ان دنوں جمائما خان کی واپسی کی باتیں ہو رہی ہیں کہ وہ اگلے سال پاکستان آئیں گی۔ اس کے ساتھ ہی جمائما اور سیتا وائٹ کی بیٹی ٹیریان وائٹ کا تذکرہ بھی ہے مگر اس بارے میں جو تبصرے لکھے جا رہے ہیں وہ انتہائی اخلاق باختہ اور غلیظ ہیں۔

انھیں کرنے والے کوئی اور نہیں بلکہ ایسے اکاؤنٹس ہیں جن کی پروفائل پر ن لیگ کے رہنماؤں کی تصاویر لگی ہیں۔ ایسی ہی ٹویٹس مریم نواز کے بارے میں بھی لکھی جاتی ہیں جن کی پروفائل تصاویر ان کے مخالفین رہنماؤں سے سجی ہوتی ہیں۔ مگر اس ہفتے ہم بات کریں گے بابے رحمتے کی جو ان دنوں پاکستانی سوشل میڈیا پر ایک سلیبریٹی بن چکے ہیں۔

ذکر بابے رحمتے کا

بابے رحمتے کا ذکر لاہور میں ایک تقریب کے دوران سپریم کورٹ آف پاکستان کے چیف جسٹس ثاقب نثار نے کیا ہے اور بابا رحمتے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ 'عدلیہ آپ کا بابا ہے‘۔ اس بیان کا آنا تھا کہ سوشل میڈیا پر بابا اور بابا رحمتے اور اس سے ملتے جلتے ٹرینڈز سامنے آنے شروع ہوئے جن میں چیف جسٹس آف پاکستان کی توجہ عدلیہ خصوصاً ماتحت عدلیہ میں موجود گھمبیر مسائل کی جانب دلانے کی کوشش کی گئی۔

ان میں سے بعض میں چیف جسٹس کو براہِ راست تنقید کا نشانہ بنایا گیا جبکہ بعض میں ان کے بیان پر طنز کیا گیا۔

بڑی تعداد میں لوگوں نے سوشل میڈیا پر عدلیہ میں زیرِ التوا مقدموں اور سائلین کو دہائیوں کے انتظار کی باتیں کیں۔

یہ بھی پڑھیے

’استطاعت تھی اس لیے 33 سال تک مقدمہ لڑا‘

سوشلستان یا غائبستان

سوشلستان:’اسلام کو یہودیت سےمسئلہ نہیں‘

بہت سے لوگوں نے ایک حالیہ مقدمے کا ذکر کیا جس میں سائل کو چار دہائیوں کے بعد اپنے ایک پلاٹ کا قبضہ ملا۔ اس انصاف کے حصول کی راہ میں رکاوٹ بھی ایک وکیل تھا جس نے پلاٹ پر قبضہ کیا ہوا تھا۔

جیسا کہ عباس نے لکھا 'تقریباً بیس لاکھ زیرِ التوا کیس عدالتوں میں ہیں اور چیف جسٹس ہسپتال کے دورے کے بعد کہتے ہیں جہاں حکومت کام نہیں کرتی وہاں ہمیں کچھ کرنا پڑے گا۔۔ حق۔۔حق'

گل بخاری نے ٹویٹ کی کہ 'ایک دورہ نچلی کچہریوں کا؟'

عمار مسعود نے 'جوڈیشری آپ کا بابا ہے' کے بیان پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھا 'جن لوگوں کے مقدمات کئی نسلوں سے عدالتوں میں پھنسے ہوئے ہیں، جو انصاف کے لیے کئی دہائیوں سے در بدر ہو رہے ہیں ۔ان کے لیے کوئی دعا ہی کر دیں ۔ کوئی تعویز بتا دیں۔ کوئی چلہ سکھا دیں۔'

معروف صحافی اور تجزیہ کار سہیل وڑائچ نے لکھا 'ایسا لگتا ہے کہ بابا بلھے شاہ کو علم تھا کہ الٹے زمانے آئیں گے۔ دنیا بھر میں جن کا کام خاموش رہنا ہے وہ بولنے لگیں گے اور دنیا بھر میں جن سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ بولیں انھیں کہا جا رہا ہے آپ گونگے بن جائیں، آپ مت بولیں۔'

حبیب سلطان رجویہ نے لکھا 'جن عدالتوں کے لاکھوں کیس عدالتی فائلوں میں رُل رہے ہوں اور چیف جسٹس ہسپتالوں کو چیک کر رہا ہو تو سمجھ لیں جج انصاف نہیں سیاست کر رہے ہیں۔'

صحافی اے وحید مراد نے لکھا سپریم کورٹ کے چیف جسٹس 'اگر اسلام آباد کی ایف ایٹ کچہری اور اس میں لگی عدالت کا بھی کسی دن اچانک دورہ کرلیں تو کچھ پتہ چلے۔ سرکاری ہسپتالوں کی بجائے ماتحت عدلیہ پر توجہ مرکوز کرلیں تو آدھا پاکستان ٹھیک ہو جائے گا۔'

ڈاکٹر فیصل رانجھا اپنے تجربے کے بارے میں بتاتے ہیں کہ 'دیہاتی کلچر میں جوان ہوئے اپنے آباؤ اجداد کو گاؤں کے فیصلے نمٹاتے دیکھا۔ گاؤں میں پنچایت سسٹم ہوتا ہے۔ پنچایت کو ہیڈ علاقے کا سب سے بڑا چوہدری کرتا تھا۔ بابا جی سر تو ہلا سکتے ہیں لیکن چوہدری صاحب کے فیصلے کے خلاف نہیں جاتے۔'

راج بی بی فضل نے اس بیان پر تنقید کرتے ہوئے لکھا کہ 'رحمت بابا بہت اچھے ہیں بس ایک خامی ہے کہ اپنے گھر میں جھانکتے بھی نہیں، سارا دن دوسروں کی گھروں میں تانک جھانک کرتے رہتے ہیں۔'

عاطف توقیر نے لکھا کہ 'چیف جسٹس صاحب، آپ ہی کے بابے آمروں سے پی سی او کے تحت حلف اٹھا کر آئین کی پامالی میں ملوث رہے ہیں'۔

چیف جسٹس آف پاکستان نے اپنے بیان میں یہ بھی کہا کہ ان پر کسی قسم کا دباؤ نہیں تو اس کے جواب میں محمد عثمان نے لکھا 'آپ سے درخواست ہے جناب حمودالرحمن کمیشن رپورٹ، سانحہ اوجھڑی کیمپ، ڈاک یارڈ و جی ایچ کیو حملے، ایبٹ آباد آپریشن، اے پی ایس سانحہ کی رپورٹس ہی پبلک کروا دیں۔ مشرف کو واپس بلا لیں۔ اگر ایسا کر سکتے ہیں تو ٹھیک ورنہ آپ ایسی باتیں کرنے سے پرہیز کریں‘۔

صحافی مطیع اللہ جان نے لکھا کہ 'جب ججز فیصلوں کی بجائے تقریروں اور تقریبوں میں ایسی جذباتی باتوں کے ذریعے بولیں گے تو دباؤ میں تو نظر آئے گا 'بابا'۔

راجہ انصاری نے لکھا کہ 'بابے رحمتے کو چاہیے کہ وہ اپنے فیصلوں کے ذریعے بولیں۔ سیاستدان بن کر بولیں گے تو خرابی پیدا ہوگی۔'

اور کسی نے اشفاق احمد سے منسوب کر کے یہ بات لکھی کہ 'پُتر دل صاف نہ ہو تو ماتھے پر محراب نہیں داغ ہوتا ہے۔'

عمران خان کی غلط ٹویٹ

تحریکِ انصاف کے چیئرمین عمران خان کو گذشتہ دنوں ٹوئٹر پر سُبکی کا سامنا کرنا پڑا جب ان کی ایک ٹویٹ پر ایک انڈین صحافی نے توجہ دلائی کے عمران خان آپ نے بالکل غلط سمجھا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Twitter
Image caption عمران خان کی ٹویٹ جو بعد میں ڈیلیٹ کر دی گئی۔

عمران خان نے ٹویٹ کی کہ 'شاشکلہ جو مشہور انڈین اداکارہ اور سیاستدان ہیں حال میں انڈیا کی ریاست تمل ناڈو میں انتقال کر گئیں اور ان کے گھر کے نیچے سونے کا خزانہ نکلا جس میں جوہرات اور غیر قانونی رقم جمع کی گئی تھی۔ تمام بدعنوان رہنماؤں کے لیے ایک پیغام ہے کہ جو انہوں نے اربوں روپے جمع کر رکھے ہیں اپنے غریب عوام سے لوٹ کر وہ پیچھے رہ جائیں گے۔‘

عمران خان کی ٹویٹ میں پیغام بے شک جیسا بھی تھا اس کے حقائق درست نہیں تھے کیونکہ عمران خان نے ٹویٹ کرنے سے پہلے اس کی حقیقت چیک نہیں کی۔

تصویر کے کاپی رائٹ Twitter
Image caption گلف نیوز میں کام کرنے والے صحافی صادق بھٹ کی ٹویٹ

اس کے نیچے ہی تبصرہ کرتے ہوئے صحافی صادق بھٹ نے عمران خان کو مخاطب کر کے ٹویٹ کی کہ ’عمران خان آپ بالکل غلط سمجھے۔ شاشکلہ جیل میں ہیں۔ ان کی دوست جے لیلتا جو تمل نڈو کی سابق وزیراعلیٰ تھیں گذشتہ سال ان کی موت ہوئی اور یہ تصاویر واضح طور پر جعلی ہیں۔ آپ جیسے ایک سینیئر سیاسی رہنما سے بہت بہتر کی توقع رکھی جاتی ہے‘۔

اس ہفتے کی تصاویر

تصویر کے کاپی رائٹ Zebunnisa Bangash
Image caption پاکستان سے تعلق رکپنے والے دہلی گھرانے کے نامور موسیقار استاد نصیرالدین سمیع گریمی ایوارڈ یافتہ پروڈیوسر این برینن کے ساتھ اشتراک کریں گے۔
تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption اسلام آباد کی ایک آبادی میں واقع چرچ میں بچے کرسمس کی تیاریوں کے سلسلے میں چرچ کو سجا رہے ہیں۔

اسی بارے میں