70 ہزار سے زیادہ پاکستانی سیاسی پناہ کے منتظر

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters

حکومت پاکستان کا کہنا ہے کہ دنیا کے اپنے مختلف سفارت خانوں کے ذریعے اکٹھی کی گئی معلومات کے مطابق 70 ہزار سے زیادہ پاکستانی مختلف ممالک میں سیاسی پناہ کے منتظر ہیں۔

حکومت کے مطابق ان اعدادوشمار میں آسٹریلیا، نیوزی لینڈ اور متعدد یورپی ممالک کا ڈیٹا شامل نہیں کیونکہ وہ سیاسی پناہ کے لیے درخواستوں کی معلومات کا تبادلہ نہیں کرتے۔

یہ بھی پڑھیے

'کوڑے سے اٹھا کر کھا لیں لیکن اس راستے پر نہ آئیں'

'شہریت پر تنازع، 30 افراد نہ یونان کے نہ پاکستان کے'

بہتر مستقبل کے متلاشیوں کی تابوتوں میں واپسی

فراہم کیے جانے والے اعدادوشمار میں کینیڈا اور برطانیہ کے اعدادوشمار بھی شامل نہیں جو کہ سیاسی پناہ کے طالب افراد میں خاصے مقبول ہیں۔

عام تاثر یہ ہے کہ شاید امریکہ اس اعتبار سے دنیا میں سرفہرست ہو لیکن وہاں 2015 سے جن پاکستانیوں کو سیاسی پناہ دی گئی ہے اور جو حکومت پاکستان کو معلوم ہیں ان کی تعداد محض 277 بتائی گئی ہے۔

تاہم امریکی سرکاری اعدادوشمار کے مطابق 376 پاکستانیوں نے 2016 میں سیاسی پناہ کے لیے درخواستیں دیں۔ 2015 میں یہ تعداد 205 تھی۔

ذیل میں ان پانچ ممالک کی تفصیل دی جا رہی ہے جہاں اعدادوشمار کے مطابق سب سے زیادہ معلوم پاکستانی سیاسی پناہ کے طلبگار ہیں۔

جرمنی

جرمنی میں بظاہر ایسے پاکستانیوں کی تعداد سب سے زیادہ یعنی 30 ہزار ہے جو وہاں کی حکومت سے سیاسی پناہ مانگ رہے ہیں۔

تاہم وہاں ایسے معاملات میں کامیابی کی شرح انتہائی کم یعنی محض تین فیصد ہی ہے۔

جنوبی افریقہ

پاکستان جنوبی افریقہ ایسوسی ایشن کے مطابق وہاں میں 25 سے 30 ہزار پاکستانیوں نے سیاسی پناہ کے لیے درخواستیں دے رکھی ہیں جبکہ وہاں پاکستانیوں کی مجموعی تعداد ایک لاکھ سے زیادہ ہے۔

یونان

اس وقت یونان میں غیر قانونی تارکین وطن پاکستانیوں کی تعداد تقریباً نو ہزار ہے۔

ان میں سے تقریباً چھ ہزار آزاد جبکہ تین ہزار مختلف حراستی مراکز میں موجود ہیں۔

ہانگ کانگ

حکومت پاکستان کا کہنا ہے کہ ہانگ کانگ میں گزشتہ پانچ برسوں میں تقریباً 15 سو پاکستانیوں نے سیاسی پناہ کے لیے درخواستیں دی ہیں جن میں سے نو کو پناہ دی بھی جا چکی ہے۔

انڈونیشیا

حکومت کا کہنا ہے کہ اس کے پاس سرکاری سطح پر معلومات نہیں کہ کتنے پاکستانیوں نے اس ملک میں سیاسی پناہ کے لیے درخواست دی ہے لیکن غیرسرکاری ذرائع سے اکٹھی کی گئی معلومات کے مطابق 800 پاکستانیوں نے ایسا کیا ہے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں