'معاشرے نے الله سے بیٹا مانگنے پر مجبور کیا'

زوى تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption اس قسم کے معاشرے میں باہر کے کام کے لیے مرد صورت کی ضرورت پیش آتی ہے

پاکستان کے شہر پشاور کی رہائشی جمیلہ(فر ضی نام) کی چار بیٹیاں ہیں۔ وہ اپنی چھوٹی بیٹی کے لیے کھانا پکانے میں مصروف ہے۔ اُن کی سب سے بڑی بیٹی بھی اُن کے ساتھ ہے جبکہ باقی دو چھوٹی بچیاں کھیل کود رہی ہیں۔

جمیلہ کے شوہر پشاور میں سرکاری ملازم ہیں اور اُن کی شادی کو 15 سال سے زائد کا عرصہ گزر گیا ہے اور اُن کی چار بیٹیاں ہیں لیکن بیٹا کوئی نہیں ہے۔

جمیلہ نے بی بی سی سے بات کر تے ہو ئے کہا کہ انھوں نے بیٹے کی پیدائش کی امید پر اب تک چار بیٹیوں کو جنم دیا ہے کیونکہ وہ اور ان کے شوہر چاہتے ہیں کہ انکا ایک بیٹا ہو۔

انھوں نے کہا: 'ہم ایسے معاشرے میں رہ رہے ہیں جہاں پر بیٹا نہ ہونا ایک بڑا مسئلہ بنا دیا گیا ہے کیونکہ زیادہ تر باہر کے کام مرد کرتے ہیں اس لیے گھر میں ایک بیٹا ضروری ہوتا ہے۔'

ان سے جب پو چھا گیا کہ کیا لڑکیاں باہر کے کام نہیں کر سکتیں تو انھوں نے جواب میں کہا کہ کر سکتی ہیں لیکن والدین ڈرتے ہیں کہ ایسا نہ ہو کہ لڑکیوں کو باہر کوئی نقصان پہنچا دے۔

انھوں نے بتایا کہ ایسا نہیں ہے کہ وہ اور ان کے شوہر بیٹیوں سے نفرت کرتے ہیں یا ان کی تعلیم اور تربیت میں کوئی کمی رکھتے ہیں اور اُن کی بیٹیاں اچھے سکول میں پڑھ رہی ہیں لیکن معاشرے کی وجہ سے دونوں اس پر مجبور ہیں کہ اللہ سے ایک بیٹے کی دعا کریں۔

جمیلہ نے کہا: 'جب بھی حاملہ ہوتی ہوں جیسا کہ اب تین مہینوں کہ حاملہ ہوں، اللہ سے یہی دعا کرتے ہیں کہ کاش ان کا ایک بیٹا ہوجائے لیکن ابھی تک اللہ نے یہ دعا قبول نہیں کی ہے۔'

ان سے پو چھا گیا کہ ان کے شوہر بیٹا نہ ہونے کی وجہ سے ناراض ہوتے ہیں تو انھوں نے کہا کہ غصہ نہیں ہوتے لیکن کبھی کبھی جب باہر سے کوئی چیز لانا ہو اور گھر میں کوئی مرد نہ ہو تو ضرور غصہ ہو جاتے ہیں۔

جمیلہ کی طرح سینکڑوں ایسی خواتین ہیں جو خاندان اور معاشرے کہ دباؤ کا شکار ہیں کہ انکا ایک بیٹا ہو اور ماہرین طب کے مطابق یہی دباؤ خواتین کی صحت پر برے اثرات مرتب کرتے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

بعض اطلاعات کے مطابق ہر مرتبہ بیٹی پیدا کرنے پر کئی خواتین کو طلاق بھی ہوئی ہے۔

ذہنی دباؤ

بیٹا پیدا کرنے کے معاشرتی دباؤ کی وجہ سے خواتین کس قسم کی ذہنی بیماری میں مبتلا ہوجاتی ہیں، اس بارے میں پشاور کے خیبر ٹیچنگ ہسپتال کے ماہر نفسیات اعزاز جمال کا کہا ہے کہ بعض دفعہ ڈپریشن اس حد تک بڑھ جاتے ہیں کہ خواتین خود کشی کرنے پر مجبور ہو جاتی ہیں۔

انھوں نے پاکستان میں کی جانے والے میڈیکل ریسرچ کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ عورتوں میں ڈپریشن کی بنیادی وجوہات میں ایک بیٹا نہ ہونے کہ وجہ سے معاشرتی اور خاندانی دباؤ بھی ہے۔

بیٹا نہ ہونے کہ وجوہات بتاتے ہوئے جمال نے کہا کہ بیٹا اور بیٹی جننا مرد کے نظفے پر منحصر ہے۔

انھوں نے کہا اس قسم کے دباؤ ختم کرنے کے لیے ضروری ہے کہ معاشرے میں آگاہی مہم چلائی جائیں اور لوگوں کو یہ بتایا جائے کہ مرد اورعورت برابر ہیں اور ان کے درمیان فرق نہیں کرنا چاہیے۔

مرد اور عورت کے مابین معاشرتی تفریق کے ماہر اور پشاور یونیورسٹی کے پروفیسر ڈاکٹر جمیل احمد نے بی بی سی کو بتایا کہ معاشرے میں 'مردانگی' اور 'مرد عورت سے مضبوط ہے' کا خیال ابھی تک موجود ہے کیونکہ یہ معاشرہ ارتقائی دور سے گزر رہا ہے۔

انھوں نے کہا پہلے بادشاہت ہوتی تھی جس میں زیادہ تر مرد ہی معاشرے میں طاقت ور سمجھے جاتے تھے لیکن ابھی ارتقائی عمل میں 'مردانگی' کو نہں بلکہ کسی کی انٹیلیکچول طاقت کو اہمیت دی جانی چاہیے۔

اسی بارے میں