دیر کے ضمنی بلدیاتی انتخابات: 6813 رجسرڈ خواتین میں سے کسی نے ووٹ نہیں ڈالا

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

پاکستان کے صوبہ خیبرپختونخوا کے ضلع اپر اور لوئر دیر میں 21 دسمبر کو ضمنی بلدیاتی انتخابات میں خواتین نے حق رائے دیہی استعمال نہیں کیا۔

صوبے کے مختلف اضلاع بشمول دیر میں 108 بلدیاتی نشستوں پر الیکشن کمیشن آف پاکستان کی جانب سے انتخابات کا انعقاد کیا گیا تھا۔

جس میں غیر سرکاری نتائج کے مطابق ایک بھی خاتون نے ووٹ استعمال نہیں کیا۔

یہ بھی پڑھیے

دس فیصد خواتین ووٹرز کے لازم ہونے پر تحفظات

دیر میں خواتین کے ووٹ ڈالنے کی شرح میں اضافہ ہوا

بی بی سی پشتو کے اظہار اللہ کے مطابق ضلع دیر میں یہ ضمنی بلدیاتی انتخابات ثمر باغ، داروڑہ اور جندول کے مختلف علاقوں میں ہوئے تھے۔ ۔جہاں چھ ہزار سے زائد خواتین ووٹر رجسٹرڈ ہیں۔

اس حوالے سے ثمر باغ کی ایک خاتون نے رابطہ کرنے پر نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بی بی سی کو بتایا کہ ’کسی بھی خاتون نے ووٹ نہیں دیا اور گھر کے مرد نے بھی انتخابات کے حوالے سے آگاہ کیا ہے۔‘

انھوں نے مزید بتایا کہ اس علاقے میں خواتین کے ووٹ ڈالنے کا رواج نہیں ہے اور نہ ہی خواتین کے حق رائے دہی کو اہمیت دی جاتی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Election comission

یاد رہے کہ مذکورہ حلقے میں سال 2013 کے عام انتخابات میں بھی خواتین کے ووٹ نہ ڈالنے کے تنازع پر الیکش کمیشن نے انتخابات کے نتائج کو منسوخ کیے تھے تاہم عدالتی حکم پر اسی حلقے سے جماعت اسلامی کے امیدوار کے حق میں فیصلہ دیا گیا تھا۔

اسی حوالے سے الیکشن کمیشن کے صوبائی ترجمان سہیل احمد نے بی بی سی کو بتایا کہ ’علاقے سے موصول اطلاعات کے مطابق سیاسی جماعتوں نے باہمی مشاورت کے ساتھ ضمنی انتخابات میں خواتین کو ووٹ ڈالنے سے منع کیا تھا۔‘

تاہم الیکشن کمیشن ترجمان کے مطابق معاملے کی متعلقہ ڈسٹرکٹ ریٹرننگ آفیسر سے رپورٹ طلب کی تھی جس میں کسی قسم کی دباؤ کے تحت خواتین کو ووٹ ڈالنے سے منع کرنے کی اطلاعات نہیں ہیں۔

انھوں نے بتایا کہ ’اسی حلقے میں خواتین اپنی مرضی سے ووٹ ڈالنے کے لیے نہیں نکلی ہیں جبکہ الیکشن کمیشن کسی بھی شخص پرحق رائے دہی استعمال کرنے کے لیے دباؤ نہیں ڈال سکتا۔‘

پاکستان میں انتخابی ضابطہ کے مطابق ایسے علاقوں میں جہاں خواتین 10 فیصد سے کم ووٹ ڈالیں وہاں کے انتخانات کو منسوخ کردیا جائے گا۔

اس بارے میں ترجمان سے پوچھا گیا کہ کیا اب خواتین کے ووٹ کم پڑنے سے کیا انتخابات کے نتائج منسوخ کیے جائیں گے تو انھوں نے کہا کہ اس قانون کا اطلاق بلدیاتی انتخابات پر نہیں ہوتا۔

مذکورہ علاقہ سے جماعت اسلامی کے ایک ناظم حنیف اللہ نے بی بی سی کو فون پر بتایا کہ سیاسی پارٹیوں کی جانب سے خواتین کو ووٹ ڈالنے سے منع نہیں کیا گیا مردوں کے برابر خواتین کے ووٹ کو بھی اہمیت حاصل ہے۔

اسی بارے میں