کلبھوشن جادھو کی یہ ’آخری ملاقات نہیں تھی‘: دفترِ خارجہ

کلبھوشن کے اہلخانہ تصویر کے کاپی رائٹ MoFA

پاکستان میں جاسوسی کے جرم میں پھانسی کی سزا پانے والے انڈین شہری کلبھوشن جادھو کی اسلام آباد میں ان کے اہلِ خانہ سے ملاقات کے بعد پاکستانی حکام نے کہا ہے کہ یہ ملاقات انسانی ہمدری کی بنیاد پر کروائی گئی اور یہ کلبھوشن تک ’قونصلر رسائی‘ نہیں تھی۔

کلبھوشن کی اہلیہ چیتنا جادھواور والدہ آونتی جادھو نے پیر کو دفترِ خارجہ میں ان سے ملاقات کی جو 40 منٹ تک جاری رہی۔ یہ دونوں خواتین اس ملاقات کے لیے پیر کی صبح ہی اسلام آباد پہنچی تھیں اور پیر کی شام واپس روانہ ہو جائیں گی۔

اس ملاقات کے بعد صحافیوں کو بریفنگ دیتے ہوئے ترجمان دفترخارجہ ڈاکٹر محمد فیصل نے کہا کہ 'یہ آخری ملاقات نہیں تھی۔'

انھوں نے بتایا کہ انڈین درخواست پر کلبھوشن کی اہلیہ کے ساتھ ان کی والدہ کو بھی اپنے بیٹے سے ملاقات کی اجازت دی گئی۔

ترجمان کا کہنا تھا کہ ملاقات کے دوران انڈین سفارتکار بذات خود موجود تھے تاہم وہ کمانڈر جادھو کی ملاقات دیکھ سکتے تھے اور انھیں اس ملاقات میں ہونے والی گفتگو سننے یا اس دوران بولنے کی اجازت نہیں تھی۔

بریفنگ میں ترجمان دفتر خارجہ نے 22 دسمبر کو اسلام آباد میں کلبھوشن کے طبی معائنے کی رپورٹس بھی دکھائیں جن میں بتایا گیا ہے کہ 'کلبھوشن کی صحت بہترین حالت میں ہے۔'

کلبھوشن جادھو کے اہلخانہ نے دفترِ خارجہ پہنچنے پر اور ملاقات کے بعد بھی میڈیا سے کوئی بات چیت نہیں کی۔

تصویر کے کاپی رائٹ MOFA
Image caption انڈیا نے پاکستان سے درخواست کی کہ وہ کمانڈر جادھو کے اہل خانہ کے ساتھ میڈیا کے رابطے سے گریز چاہتا ہے

اس بارے میں ترجمان دفتر خارجہ نے بتایا کہ 'پاکستان چاہتا تھا کہ کمانڈر جادھو کی والدہ اور اہلیہ میڈیا سے بات کریں۔ ہم نے رسمی طور پر انڈین میڈیا کو بھی اس میں شامل کرنے کی تجویز دی تھی اور یہ اس لیے کیا گیا کہ پاکستان کچھ بھی چھپانا نہیں چاہتا لیکن انڈیا نے درخواست کی کہ وہ کمانڈر جادھو کے اہل خانہ کے ساتھ میڈیا کے رابطے سے گریز چاہتا ہے جس پر عمل کیا گیا۔'

ترجمان نے صحافیوں کو بریفنگ سے قبل کلبھوشن یادو کا والدہ اور اہلیہ سے ملاقات سے قبل ریکارڈ کرایا گیا بیان بھی دکھایا جس میں انھوں نے اہل خانہ سے ملاقات کی درخواست پر عمل درآمد کرنے پر حکومت پاکستان کا شکریہ ادا کیا ہے۔

ترجمان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ’کمانڈر جادھو کی والدہ نے بھی ہماری حکومت کا ، دفتر خارجہ اور میرا شکریہ ادا کیا ہے۔‘

نامہ نگار فرحت جاوید کے مطابق دفترِ خارجہ کا کہنا ہے کہ کلبھوشن جادیو کی والدہ اور اہلیہ ان کے لیے تحفے کے طور پر ایک شال لائی تھیں، جسے 'سکیورٹی کلیرئنس' کے بعد ان کے حوالے کیا جائے گا۔

حکام کے مطابق ملاقات سے پہلے، ’سکیورٹی پروٹوکولز‘ کی خاطر، ان دونوں خواتین کا لباس بھی تبدیل کروایا گیا تھا۔

یہ بھی پڑھیے

کلبھوشن جادھو کیس، کب کیا ہوا

کلبھوشن کی سزا پر انڈین دھمکیاں

کلبھوشن سے پہلے کتنے جاسوس

اس سے قبل کلبھوشن کی اہلیہ اور والدہ امارات ایئرلائنز کی پرواز سے پیر کی صبح اسلام آباد پہنچیں۔

ایئرپورٹ سے انھیں انڈین ہائی کمیشن لے جایا گیا جہاں سے وہ انڈین ڈپٹی ہائی کمشنر کے ہمراہ کلبھوشن جادھو سے ملاقات کے لیے دفتر خارجہ پہنچیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ MOFA

ملاقات سے قبل دفتر خارجہ پہنچنے پرکلبھوشن کی اہلیہ اور والدہ نے گاڑی سے اتر کر میڈیا کے نمائندوں کو پرنام کیا جس کے بعد وہ دفتر خارجہ کے اندر چلی گئیں۔

خیال رہے کہ انڈین شہری کلبھوشن جادھو کو پاکستان میں جاسوسی کرنے کے جرم میں فوجی عدالت نے پھانسی کی سزا سنائی ہے اور انڈیا نے اس سزا کو عالمی عدالتِ انصاف میں چیلنج کیا ہوا ہے۔

پاکستان کے وزیر خارجہ خواجہ آصف نے اتوار کی رات نجی ٹی وی چینل جیو نیوز کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ کلبھوشن کے اہل خانہ سے ملاقات کرنے کی اجازت معاملات کو مدنظر رکھ کر دی گئی ہے۔

انھوں نے کہا کہ 'ہم نہیں چاہتے کہ اس وجہ سے ہمارے کیس میں کوئی کمزوری یا جھول آئے۔ ہمیں یہ مشورہ دیا گیا ہے کہ ایسا کیا جائے۔'

جب اُن سے پوچھا گیا کہ کیا کلبھوشن کے گھر والوں کی جانب سے رحم کی اپیل پر غور کیا جا سکتا ہے یا پھانسی کی سزا عمر قید میں بدل سکتی ہے؟

اس سوال کے جواب میں وزیر خارجہ نے پاکستان میں کی جانے والی کارروائیوں اور انسانی جانوں کے ضیاع کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ابھی وہ اس بارے میں کوئی قیاس آرائی نہیں کر سکتے۔

تصویر کے کاپی رائٹ MoFA
Image caption کلبھوشن اور ان کے اہل خانہ کے درمیان ملاقات کا دورانیہ 30 منٹ ہو گا

خواجہ آصف نے کہا کہ 'یہ مکمل طورپر ایک کوشش ہے جو انسانی بنیادوں پر دی گئی ہے۔ میں سمجھتا ہوں اگر انڈیا ہوتا تو کبھی ایسا نہ کرتا۔'

'کلبھوشن کو بچانے کے لیے کسی بھی حد تک جائیں گے'

’حماقت کا یہ سلسلہ اب ختم ہونا چاہیے‘

خیال رہے کہ پاکستان میں قید مبینہ انڈین جاسوس کو ملک کی فوجی عدالتوں نے موت کی سزا سنائی تھی جبکہ عالمی عدالت انصاف نے کلبھوشن کی پھانسی پر عمل درآمد اس وقت تک موخر کر رکھا ہے جب تک انڈیا کی طرف سے اس سزا کے خلاف دی گئی درخواست پر فیصلہ نہیں سنایا جاتا۔

ترجمان ڈاکٹر محمد فیصل کا کہنا ہے کہ 'عدالت نے یہ نہیں کہا تھا کہ کوئی سزا نہیں دے سکتے کورٹ نے کہا تھا کہ موت کی سزا نہیں دے سکتے۔ ہم نے بھی کورٹ کو یہی بتایا تھا کہ ہم موت کی سزا ابھی نہیں دینا چاہتے ابھی تو اس کا پراسس چل رہا ہے۔'

پاکستانی حکام کے مطابق انڈین خفیہ ادارے 'را' کے ایجنٹ اور انڈین بحریہ کے افسر کمانڈر کلبھوشن سدھیر یادو کو تین مارچ 2016 انسداد دہشت گردی کی ایک کارروائی کے دوران بلوچستان کے علاقے ماشخیل سے پاکستان کے خلاف جاسوسی اور سبوتاژ کی کارروائیوں میں ملوث ہونے پرگرفتار کیا گیا تھا۔

Image caption دفتر خارجہ پہنچنے پر گاڑی سے اتر کر کلبھوشن کی اہلیہ اور والدہ نے میڈیا کے نمائندوں کو پرنام کیا

پاکستان کا کہنا ہے کہ کلبھوشن نے اپنے اعترافی بیان میں تسلیم کیا کہ انھیں 'را' نے پاکستان میں جاسوسی اور سبوتاژ کی کارروائیاں کرنے اور اسے عدم استحکام سے دوچار کرنے کی منصوبہ بندی، رابطہ کاری اور انتظام کرنے کی ذمہ داری سونپی تھی۔

اس کے علاوہ شورش سے متاثرہ بلوچستان اور کراچی میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کی امن عامہ کی صورتحال بہتر بنانے کی کوششوں کو متاثر کرنا بھی ان کی ذمہ داری تھی۔

کلبھوشن کی گرفتاری کے بعد انڈیا کی وزراتِ خارجہ نے ایک بیان میں کلبھوشن یادو کے اعترافی بیان کی ویڈیو کو مسترد کرتے ہوئے کہا تھا کہ بلوچستان میں گرفتار کیے گئے شخص کا بھارت کی حکومت سے کوئی تعلق نہیں ہے اور یہ ویڈیو جھوٹ پر مبنی ہے تاہم بعد میں انڈین حکام نے تسلیم کیا تھا کہ کلبھوشن انڈین بحریہ کے سابق افسر ہیں۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں