باچا خان یونیورسٹی میں طلبہ اور طالبات کے ساتھ گھومنے پر پابندی عائد

پاکستان تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption باچا خان یونیورسٹی جنوری 2016 میں دنیا کی توجہ کا مرکز بن گئی تھی جب شدت پسندوں کے حملے کے نتیجے میں 14 طلبہ سمیت 18 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

پاکستان کے صوبے خیبر پختونخوا کے ضلع چارسدہ میں واقع باچا خان یونیورسٹی کی انتظامیہ نے کیمپس کی حدود میں طلبا اور طالبات کے اکھٹا بیٹھنے اور گھومنے پھرنے پر پابندی عائد کردی ہے۔

یہ فیصلہ چند دن پہلے یونیورسٹی انتظامیہ کی طرف سے جاری کردہ ایک اعلامیہ میں کیا گیا ہے۔ باچا خان یونیورسٹی کے چیف پراکٹر ڈاکٹر محمد شکیل کے دستخط شدہ مختصر اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ یونیورسٹی کی حدود میں طلبا و طالبات کا ایک دوسرے کے ساتھ بیٹھنے یا طالبات کا یونیورسٹی کے مرد ملازمین کے ساتھ گھومنے پھرنے پر پابندی لگا دی گئی ہے۔

اعلامیہ میں مزید کہا گیا ہے کہ انتظامیہ کی جانب سے کیمپس کی حدود میں سگریٹ نوشی کرنے، چھتوں پر چڑھنے، اور داخلہ لینے والے نئے طلبہ کے ساتھ ہنسی مذاق کرنے پر بھی پابندی عائد کر دی گئی ہے۔ اس کے علاوہ اعلامیے کے مطابق یونیورسٹی انتظامیہ نے کمیپس کی حدود میں مردوں کے چادر پہننے پر بھی پابندی لگا دی ہے۔

چارسدہ یونیورسٹی حملے کے ایک سال بعد

وعدہ خلافی ہوئی، طلبا باچاخان یونیورسٹی

بی بی سی کے نمائندے رفعت اللہ اورکزئی سے بات کرتے ہوئے پراکٹر ڈاکٹر محمد شکیل نے کہا کہ 'ہم یونی ورسٹی کو کسی مدرسے کی طرح نہیں بنا رہے لیکن ہم یہ بھی نہیں چاہتے کہ طلبہ اور طالبات یونیورسٹی میں بلاوجہ فارغ بیٹھ کر وقت ضائع کریں۔'

دوسری جانب باچا خان یونیورسٹی کے ترجمان سعید خان نے بی بی سی کو تصدیق ضرور کی کہ یونیورسٹی انتظامیہ نے کمیپس کی حدود میں لڑکے لڑکیوں کا ایک دوسرے کے ساتھ بیٹھنے پر پابندی لگا دی ہے لیکن انھوں نے ساتھ یہ بھی کہا کہ انہیں اس اعلامیہ کے بارے میں آج ہی معلوم ہوا ہے۔

ترجمان کے مطابق باچا خان یونیورسٹی بھی ملک کے دیگر تعلیمی اداروں کی طرح ایک یونیورسٹی ہے جہاں مخلوط نظام تعلیم رائج ہے اور جہاں لڑکے لڑکیوں کا آپس میں بیٹھنا اور گھومنا پھرنا عام سی بات ہے۔

Image caption باچا خان یونی ورسٹی کے پراکٹر کی جانب سے جاری کیا گیا اعلامیہ

تاہم انہوں نے کہا کہ انہیں خود بھی اس بات کی سمجھ نہیں آرہی کہ یہ پابندی کیوں لگائی گئی ہے۔

ادھر سماجی رابطوں کے ویب سائٹوں پر باچا خان یونیورسٹی کی طرف سے جاری کردہ اعلامیہ کو بڑے پیمانے پر شئیر کیا گیا ہے جس پر صارفین کی جانب سے طرح طرح کے تبصرے کیے جا رہے ہیں۔

پشاور کے نوجوان صحافی عبدالرؤف یوسفزئی نے اعلامیہ پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ ' یہ فیصلہ ہمیں ملک میں اعلیٰ تعلیم کی پستی کی حالت بتاتا ہے۔'

ایک اور صارف ساجد علی لکھتا ہے کہ اس فیصلے میں کوئی قباحت نظر نہیں آتی، کئی مغربی ممالک میں ایسے تعلیمی ادارے موجود ہیں جہاں سگریٹ نوشی پر کوئی پابندی نہیں۔

خیال رہے کہ باچا خان یونیورسٹی پانچ سال قبل سابق عوامی نیشنل پارٹی اور پیپلز پارٹی کی مخلوط حکومت میں قائم ہوئی تھی۔

تاہم یہ یونیورسٹی جنوری 2016 میں اس وقت دنیا کی توجہ کا مرکز بنی جب اس ادارے میں صبح کے وقت چار شدت پسند یونیورسٹی میں داخل ہوئے اور ان کے حملے میں 14 طلبہ سمیت 18 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

اسی بارے میں