کیا بینظیر کا سیاسی گھرانے سے تعلق نقصان دہ تھا؟

پاکستانی سیاست میں خواتین اور بینظیر کے کردار کے حوالے سے بی بی سی اردو نے ملک کی تین بڑی سیاسی جماعتوں کی خواتین ورکرز مسلم لیگ نواز کی ایم پی اے بشری انجم، پاکستان تحریک انصاف سے مدیحہ وقاص اور پاکستان پیپلز پارٹی کی صباحت رضوی کے ساتھ خصوصی بیٹھک رکھی۔

مسلم لیگ نون کی بشریٰ انجم کا شکوہ ہے کہ سیاست میں جتنی طاقت اور اختیارات بینظیر بھٹو کے پاس تھے، ان کا صحیح استعمال نہیں ہوا۔ ’ایک خاتون کے طور پر میں بینظیر کی شخصیت سے بہت متاثر تھی اور آج بھی ہوں لیکن جب وہ حکومت میں آئیں، میرا ماننا ہے کہ خواتین کے حقوق کے لیے جتنے قوانین بننے چاہیے تھے، اتنے نہیں بنے۔‘

یہ بھی پڑھیے

بینظیر بھٹو کے قتل سے متعلق اہم سوالات

آصفہ اور بختاور کی پرویز مشرف پر کڑی تنقید

ہارورڈ میں بینظیر بھٹو لیڈرشپ پروگرام کا آغاز

پاکستان تحریک انصاف سے مدیحہ وقاص کا کہنا ہے کہ بینظیر نے جس طرح سیاست میں اپنی الگ جگہ بنائی وہ قابل ستائش ہے۔ ’آج کی دنیا میں پھر خواتین کو ہر شعبے میں الگ جگہ مل جاتی ہے اور ہر ڈیپارمنٹ میں کم ہی سہی لیکن آپ کو نظر آرہی ہیں۔ لیکن جس دور میں بینظیر پاکستان کی پہلی خاتون وزیراعظم بنی تھیں، اس دور میں تو مکمل طور پر معاشرے میں مردوں کی ہی حکمرانی تھی۔ تو ہمارے لیے یہ بہت فخر کی بات ہے کہ بینظیر بھٹو نے پاکستانی سیاست میں خواتین کو اپنی جگہ دلوائی۔‘

پاکستان پیپلز پارٹی کی صباحت رضوی کا ماننا ہے کہ بینظیر بھٹو سے زیادہ متاثر کن خاتون آج تک پاکستانی سیاست میں نہیں آئیں اور نہ آئیں گی۔ ’جب بینظیر بھٹو یہاں پر آئیں تو انہوں نے مارشل لا کی حکومت کو ختم کیا اور جس طرح سے انہوں نے اسلامی عسکریت پسندوں کا سامنا کیا، وہ قابل تعریف ہے۔ ان کی سیاسی جدوجہد تو چوبیس سال کی عمر سے ہی شروع ہو گئی تھی اور ان کی وفات تک جاری رہی۔ تو میں یہ سمجھتی ہوں کہ وہ ایک متاثر کن شخصیت ہیں نہ صرف پیپلز پارٹی کے کارکنان کے لیے بلکہ پاکستان کے ہر سیاسی ورکر کے لیے۔‘

انیس سو اٹھاسی میں بینظیر بھٹو پاکستان کی پہلی خاتون وزیر اعظم بنیں۔ ان کا یہ سفر کتنا کٹھن رہا اور ان کے لیے کتنا مشکل رہا ہوگا؟

Image caption مسلم لیگ نون کی بشری انجم کا کہنا ہے بینظیر کی طرح آج بھی خواتین سیاسی ورکرز پاکستان میں مشکلات سے گھری ہوئی ہیں۔

مسلم لیگ نون کی بشری انجم کا کہنا ہے بینظیر کی طرح آج بھی خواتین سیاسی ورکرز پاکستان میں مشکلات سے گھری ہوئی ہیں۔ ’بینظیر کی طرح ہم بھی سیاست میں اپنی جگہ بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ یہ حالات دیکھتے ہوئے میں سوچتی ہوں کہ بینظیر کے لیے تو یہ سیاسی جدوجہد بہت زیادہ مشکل ہو گی، خاص طور سندھ جیسے صوبے سے آنا اور جو سندھی بلوچی گھرانا تھا ان کا، اس میں انہوں نے جس طرح سے اپنی جگہ بنائی، وہ اپنا آپ میں ایک کامیابی ہے۔‘

پاکستان تحریک انصاف کی مدیحہ وقاص کا ماننا ہے کہ سیاسی خاندان سے تعلق ہونا بینظیر کے لیے فائدہ مند تھا۔ ’میرا خیال ہے کہ جس سیاسی فیملی سے وہ آتی ہیں، شاید ان کے لیے فیملی کی سپورٹ بہت اہم تھی۔ ہم لوگوں کو شاید یہاں بھی جدوجہد کرنی پڑتی ہے، فیملی سپورٹ کے لیے، معاشرے کی سپورٹ کے لیے۔‘

Image caption بینظیر بھٹو کی پارٹی سے تعلق رکھنے والی صباحت رضوی کا کہنا ہے کہ سیاسی خاندان سے تعلق ہونے کا بینظیر نے ہمیشہ خمیازہ ہی بھگتا ہے۔

بینظیر بھٹو کی پارٹی سے تعلق رکھنے والی صباحت رضوی کا کہنا ہے کہ سیاسی خاندان سے تعلق ہونے کا بینظیر نے ہمیشہ خمیازہ ہی بھگتا ہے۔

’بھٹو صاحب کی قید کے زمانے میں جس طرح سے بینظیر بھٹو نے مشکل وقت دیکھا، اس حساب سے بی بی کو سیاسی خاندان کا کسی بھی طور سے کوئی سیاسی فائدہ تو نہیں تھا۔ جس طرح سے بینظیر صاحبہ کو ایک ہی دن میں کراچی میں، سکھر میں، پشاور میں اور مختلف شہروں میں ان کی ایک ہی دن میں پیشیاں ہوتی تھیں، ان کو تمام عدالتوں میں پیش ہونا ہوتا تھا اور بھٹو گھرانے سے تعلق ہونے کی وجہ سے انہیں سزا دی جا رہی تھی۔‘

بدلتے حالات اور معاشرے میں شعور آنے کے باوجود آج بھی پاکستان میں آبادی کے لحاظ سے خواتین کی ایک بڑی تعداد نہ تو ووٹ ڈالنے کی لیے رجسٹرڈ ہے اور نہ ہی وہ اپنا ووٹ کا حق استعمال کر پاتی ہیں تو خواتین سیاسی ورکرز موجودہ حالات کو کیسے دیکھتی ہیں، اس کے جواب میں مسلم لیگ نون کی بشری انجم نے کہا کہ حالات بہتری کی طرف جا رہے ہیں جب سے پارلیمنٹ اور صوبائی اسمبلیوں میں خواتین کے لیے قانون سازی کی جا رہی ہے۔

’ہم تبدیلی کی طرف جا رہے ہیں اور پاکستانی خواتین کو اپنا حقوق کا اندازہ ہو رہا ہے۔ اور ان کو پتا ہے اب کہ اگر وہ باہر نکلیں گی اور اپنا ووٹ ڈالیں گی تو ہم حکومت میں آگر انہی خواتین کے تحفظ اور فروغ کے لیے قانون بنائیں گے، جیسے ہم نے خواتین کے تحفظ کا بل پاس کروایا۔‘

Image caption پاکستان تحریک انصاف کی مدیحہ وقاص کا کہنا ہے کہ پاکستان میں خواتین کے شناختی کارڈ تو بنے نہیں ہوئے، تو وہ آخر ووٹ کیسے ڈالیں گی۔

دوسری جانب پاکستان تحریک انصاف کی مدیحہ وقاص کا کہنا ہے کہ پاکستان میں خواتین کے شناختی کارڈ تو بنے نہیں ہوئے، تو وہ آخر ووٹ کیسے ڈالیں گی۔ ’میں نے پی پی 147 میں بطور رابطہ افسر کام کیا، پھر این اے 120 میں بھی کام کیا۔ جتنے بھی پسماندہ علاقے ہیں، وہاں خواتین کے ووٹ کا حق تو دور کی بات، نہ ان کے شناختی کارڈ اور نہ ہی ب فارم بنائے گئے ہیں۔ میری اس حوالے سے مرد سیاسی ورکرز سے بحث ہوتی ہے اور میں ان کو سمجھاتی ہوں کہ ان کے شناختی کارڈ تو بنوا دو، یہ ان کی شناخت ہے۔

پاکستان میں خواتین ووٹرز اگر اپنے ووٹ ہی ڈال نہیں پاتیں تو وہ تبدیلی کیسی لائیں گی۔ اس حوالے سے پاکستان پیپلز پارٹی کی صباحت رضوی کہتی ہیں ’صرف اوپری سطح پر دکھانے کے لیے حکومت کہہ دے ہم قوانین بنا رہے ہیں خواتین کے لیے اور ہم ان کو معاشرے میں بااختیار بنا رہے ہیں، ہم ان کو نوکریاں دے رہے ہیں، یہ سب کافی نہیں ہے۔

پاکستان کے پسماندہ علاقوں میں جا کر دیکھیں وہاں پر زیادہ تر خواتین کے پاس شناختی کارڈ بھی نہیں، جبکہ نادرا سینٹر ہر جگہ موجود ہیں۔ یہ حکومت کی ذمہ داری ہے جس کو اگلے الیکشن 2018 سے پہلے انہیں ہر حالت میں پورا کرنا چاہیے۔‘

اسی بارے میں