’میں نے بینظیر بھٹو کی تصویریں باہر پھینک دی ہیں‘

Image caption وحید احمد 27 دسمبر کو بینظیر بھٹو کے جلسے میں زخمی ہو گئے تھے

وحید احمد کی اہلیہ مجھے اپنے چھوٹے سے کمرے میں ایک دیوار پر لگی میخیں دکھاتے ہوئے بتا رہی تھیں کہ یہاں پہلے بینظیر بھٹو کی تصویریں آویزاں تھیں۔

اسی دیوار پر ایک گھڑی تھی جس میں وقت نجانے کب سے رُکا ہوا ہے۔ کمرے میں کچھ چارپائیاں اور ایک طرف چولہا تھا جو سوئی گیس نہ ہونے کی وجہ سے بند رہتا ہے۔ ان کا یہ کرائے کا چھوٹا سا گھر راولپنڈی کے محلے ڈھوک رتہ کی تنگ سی گلیوں میں واقع ہے۔

اس خاندان کی تباہی کا سفر 27 دسمبر 2007 کو شروع ہوا اور اب تک جاری ہے۔

'میرے شوہر پہلے برگرز بیچتے تھے اور ہمارا گزر بسر ہو جاتا تھا، بچے تعلیم حاصل کر رہے تھے اور سفید پوشی کی زندگی گزر رہی تھی۔‘

یہ بھی پڑھیے

بینظیر قتل: کیا دوسرا بمبار زندہ ہے؟

بینظیر قتل کیس: ’اب لکیر پیٹنے کا کوئی فائدہ نہیں‘

کیا سیاسی خاندان سے تعلق کا بی بی کو نقصان ہوا؟

27 دسمبر کو ان کے شوہر معذور ہوئے، بچوں کی تعلیم کا سلسلہ ختم ہوا، تمام جمع پونجی علاج پر لگ گئی اور نوبت فاقوں تک پہنچ گئی۔

وحید احمد بتاتے ہیں 'ہم 27 دسمبر کو بینظیر بھٹو کے آخری جلسے میں گئے اور دھماکے میں میری ٹانگ پر زخم آیا۔ ڈاکٹروں نے میری ایک ٹانگ کاٹ دی کہ کینسر پھیل جائے گا، دوسری بھی تقریباً ضائع ہو چکی ہے‘۔

وحید احمد کہتے ہیں کہ دس سال تک ان کا علاج ہوتا رہا۔

Image caption 27 دسمبر 2007 کو راولپنڈی میں بے نظیر بھٹو اور پارٹی کے درجنوں کارکن ہلاک اور زخمی ہو گئے تھے

'پیپلز پارٹی میں سے کسی نے مدد نہ کی۔ سارا علاج خود کرایا۔ کسی بھی زخمی کی مدد نہیں کی گئی۔ کسی نے پلاٹ بیچا اور کسی نے قرض اُدھار لے کر علاج کرایا۔ کئی زخمی اس لیے مر گئے کہ ان کا علاج نہ ہو سکا‘۔

وحید احمد 1970 سے پاکستان پیپلز پارٹی کے ساتھ بطور کارکن منسلک رہے ہیں لیکن اب وہ اس جماعت کی قیادت سے سخت نالاں ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ ان سمیت سب زخمیوں اور ہلاک ہونے والوں کے لواحقین سے کئی وعدے کیے گئے مگر کوئی وعدہ وفا نہیں ہوا۔

وحید احمد کہتے ہیں کہ وہ پیپلز پارٹی کی خاطر دو مرتبہ جیل گئے۔

'مجھے اس جماعت سے عشق تھا۔ ذوالفقار علی بھٹو اور بینظیر بھٹو کو مانتا تھا۔ لیکن اب میں نے پیپلز پارٹی کو چھوڑ دیا ہے۔ صرف اس محلے میں ہی سینکڑوں پارٹی کارکن تھے، اب کوئی پیپلز پارٹی کو یاد بھی نہیں کرتا‘۔

راولپنڈی میں موجود پیپلز پارٹی کے ان پرانے کارکنوں سے بات چیت کے بعد یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ اس جماعت کی قیادت اور کارکنان کے بیچ ایک بڑی خلیج حائل ہو چکی ہے۔ رابطوں کا فقدان اور خاص طور پر ستائیس دسمبر کو زخمی ہونے والے کارکنوں کو اُن کے حال پر چھوڑنے کے اس قدر منفی اثرات مرتب ہوئے ہیں کہ یہاں کے عوام یا تو کسی بھی جماعت کی حمایت نہیں کرتے، یا وہ پاکستان مسلم لیگ ن اور تحریک انصاف میں بٹ گئے ہیں۔ لیکن پیپلز پارٹی کا وجود دِھیرے دِھیرے ختم ہو رہا ہے۔

Image caption 27 دسمبر کو اختر سعید کے پیٹ میں گولی لگی تھی

اسی محلے میں ہماری ملاقات اختر سعید سے بھی ہوئی جو پیپلز پارٹی کے کارکن بھی ہیں اور یونین کونسل کی سطح پر عہدیدار بھی ہیں۔ وہ کرائے کے مکان میں رہتے ہیں اور قیادت سے کچھ خفا بھی ہیں۔ 27 دسمبر کو ان کے پیٹ میں گولی لگی تھی اور وہ کہتے ہیں کہ ان کے علاج میں پارٹی نے مدد کی۔ جس کی ایک وجہ شاید ان کی اعلیٰ عہدیداروں کے ساتھ علیک سلیک تھی جو غریب ریڑھی بان وحید احمد کی پہنچ سے باہر تھی۔

اس سوال پر کہ وہ اور دیگر کارکنان بینظیر بھٹو کی کمی محسوس کرتے ہیں یا نہیں، محمد سعید نے بتایا کہ 'بی بی کی شہادت کے بعد یہ خلا پُر کرنا ناممکن ہے، وہ ہماری لیڈر تھیں، آج وہ زندہ ہوتیں تو پارٹی ورکرز کے حالات مختلف ہوتے‘۔

پیپلز پارٹی کے یہ کارکنان بینظیر بھٹو حملہ کیس میں عدالتی فیصلے سے مایوس ہیں اور قاتلوں تک نہ پہنچنے کا ذمہ دار بھی وہ پیپلز پارٹی کی موجودہ قیادت ہی کو ٹھہراتے ہیں۔ اختر سعید نے بتایا کہ ان سے عام لوگ سوال کرتے ہیں کہ پیپلز پارٹی اپنے پانچ برسوں میں قاتلوں کو پکڑنے میں کیوں ناکام رہی تو ان کے پاس ان سوالوں کا کوئی جواب نہیں ہوتا۔

جب ان کارکنوں سے پوچھا کہ کیا وہ سمجھتے ہیں کہ ان کے ساتھ انصاف ہوا ہے تو وحید احمد کا کہنا تھا 'انصاف نہیں ہوا، میں نے اپنی پوری زندگی اس پارٹی کو دی لیکن نہ ہمارے ساتھ انصاف ہوا، نہ بی بی کے ساتھ انصاف ہوا'۔

یہی سوال جب وحید احمد کی اہلیہ سے کیا تو وہ دیوار پر لگی خالی میخوں کی جانب اشارہ کرتے ہوئے غصے سے بولیں 'انصاف؟ میں نے بینظیر بھٹو کی تصویریں باہر پھینک دی ہیں۔ دس سال کوئی ہماری خبر لینے نہیں آیا۔ میرا گھر تباہ ہو گیا لیکن کسی نے حال تک نہیں پوچھا۔ یہ کیا انصاف دیں گے‘۔

اسی بارے میں