چیئرمین نیب کا پاناما لیکس میں شامل تمام 435 پاکستانیوں کی انکوائری کا حکم

اجلاس

،تصویر کا ذریعہAFP

پاکستان کی قومی احتساب بیورو (نیب) کے چیئرمین نے ادارے کو پاناما اور برٹش ورجن آئی لینڈ میں قائم 435 پاکستانیوں کی آف شور کمپنیوں کے بارے میں فوری طور پر تحقیقات کرنے کا حکم دیا ہے۔

نیب کی جانب سے منگل کو جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ چیئرمین نیب جسٹس (ریٹائرڈ) جاوید اقبال نے اس معاملے کا نوٹس لیتے ہوئے کارروائی کا حکم دیا ہے۔

بیان کے مطابق جسٹس (ر) جاوید اقبال کا کہنا ہے کہ اس سلسلے میں کسی قسم کے دباؤ اور سفارش کو خاطر میں نہیں لایا جائے گا۔

یہ بھی پڑھیے

نیب کی جانب سے جاری بیان میں پاناما، برٹش ورجن آئی لینڈ میں کمپنیاں قائم کرنے والے پاکستانیوں میں ایف بی آر کے سابق چیئرمین عبداللہ یوسف اور ان کے اہلخانہ کے ساتھ ساتھ پاکستان تحریک انصاف کے رہنما علیم خان کا نام بھی لیا گیا ہے۔

نیب کی جانب سے جاری ہونے والی پریس ریلیز میں مزید کہا گیا ہے کہ چیئرمین نیب نے 435 پاکستانیوں کی آف شور کمپنیوں کی انکوائری کرنے کے علاوہ ایف بی آر، سٹیٹ بینک آف پاکستان، ایس ای سی پی اور ایف آئی اے کو ان کمپنیوں کی معاومات حاصل کرنے کی ہدایت کی ہے۔

،تصویر کا ذریعہAFP

خیال رہے کہ یہ نام گذشتہ برس پاناما پیپر لیکس میں سامنے آئے تھے جب پاناما کی کمپنی موسیک فونسیکا کی ایک کروڑ سے زیادہ دستاویزات کو افشا کر دیا گیا تھا۔ ان تفصیلات سے ظاہر ہوا تھا کہ آف شور کمپنیوں کا کاروبار کس طرح چلتا ہے۔

ان دستاویزات میں ملک کے سابق وزیراعظم نواز شریف کے بچوں کے نام بھی تھے اور ان دستاویزات کی وجہ سے ہی عدالت میں نواز شریف کے خلاف وہ مقدمہ چلا تھا جس کے نتیجے میں انھیں رواں برس نااہل ہونے کے بعد وزارتِ عظمیٰ چھوڑنی پڑی تھی۔

خیال رہے کہ قومی اسمبلی میں حزب مخِالف کی سب سے بڑی جماعت پاکستان پیپلز پارٹی کی طرف سے پاناما لیکس سے متعلق پیش کیے گئے بل میں بھی کہا گیا تھا کہ ان تمام افراد کے خلاف بھی تحقیقات کی جائیں جن کے نام پاناما لیکس میں آئے ہیں تاہم یہ بل کثرتِ رائے سے مسترد کر دیا گیا تھا۔

اس کے علاوہ پاناما لیکس میں پاکستانیوں کی آف شور کمپنیوں کا انکشاف ہونے کے بعد جن شخصیات نے اس کے خلاف تحقیقات کا مطالبہ کیا تھا ان میں جماعت اسلامی کے امیر سراج الحق بھی شامل تھے جو نواز شریف کے خلاف مقدمے کے مدعیان میں بھی شامل تھے۔

ان کا آغاز سے ہی یہی مطالبہ تھا کہ ان تمام افراد کے خلاف کارروائی کی جائے جن کے نام پاناما لیکس میں شامل ہیں۔