گلگت بلتستان: ’وفاقی حکومت سے ٹیکس کے حوالے سے بات کریں گے‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption انجمن تاجران گلگت بلتستان کے رہنما مقصود الرحمان نے بی بی سی کو بتایا کہ علاقے میں چھوٹے دکاندار ہیں جو اپنا سامان ملک کے دیگر علاقوں سے لا کر یہاں بیچتے ہیں۔ (فائل فوٹو)

گلگت بلتستان میں انتظامیہ نے ٹیکس نفاذ کے خلاف جاری احتجاج کے سامنے گھٹنے ٹیکتے ہوئے یقین دہانی کرا دی ہے کہ وفاقی حکومت سے رابطہ کر کے ود ہولڈنگ ٹیکس کو علاقے میں نافذ نہیں کیا جائے گا۔

ایکشن کمیٹی کے زیر انتظام مقامی لوگ گلگت بلتستان میں مظاہرے کر رہے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ علاقہ انتہائی پسماندہ ہے، یہاں نہ تو کارخانے ہیں اور نہ ہی کوئی معاشی اور اقتصادی سرگرمیاں ہیں اور یہاں ٹیکس صوبہ پنجاب اور دیگر صوبوں کے برابر لیا جا رہا ہے جو سراسر ناانصافی ہے۔

انجمن تاجران گلگت بلتستان کے رہنما مقصود الرحمان نے بی بی سی کو بتایا کہ علاقے میں چھوٹے دکاندار ہیں جو اپنا سامان ملک کے دیگر علاقوں سے لا کر یہاں بیچتے ہیں اور ان کا کاروبار پانچ لاکھ روپے سے زیادہ کا نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ جب بینک کے ذریعے رقم کہیں بھیجتے ہیں یا رقم نکلواتے ہیں تو انھیں ہزاروں روپے ود ہولڈنگ ٹیکس میں دینے پڑتے ہیں جس سے ان کا منافع تو ختم ہو کر رہ جاتا ہے۔ اسی طرح وفاقی حکومت کی جانب سے دیگر ٹیکسس کے نفاذ سے بھی یہاں لوگ پریشان ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

سکردو میں انوکھی صحرائی جیپ ریلی

جنگلات کی کٹائی سے کیا نقصان ہوتا ہے؟

اس حوالے سے گلگت پلتستان کے مختلف علاقوں میں احتجی مظاہرے جاری ہیں۔ شکردو سے مقامی صحافی موسی چولنکھا نے بتایا کہ تمام شہروں میں دکانیں اور کاروباری مراکز بند ہیں، جگہ جگہ دھرنے دیے جا رہے ہیں اور بڑی تعداد میں لوگ گھروں سے باہر نکلے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ پٹرول پمپس کی بندش سے گاڑیاں بھی نہیں چل رہیں جبکہ سکردو سے بڑی تعداد میں گاڑیاں گلگت کے لیے روانہ ہوئی ہیں جہاں بڑے پیمانے پر احتجاج کیا جا رہا ہے۔

اس بارے میں گلگت بلتستان کے وزیر اطلاعات ابراہیم صنائی سے رابطہ کیا تو ان کا کہنا تھا کہ یہ ود ہولڈنگ ٹیکس اور ایڈاپٹیشن ٹیکسز ہیں اور صوبائی اسمبلی میں اس پر کوئی بحث یا منظوری نہیں ہوئی اور حکومت ان کے ایک نقاطی ایجنڈے کے ساتھ ہیں اور انھیں حل کرنے کے لیے تاجر برادری کے ساتھ ہیں اور وفاقی حکومت سے اس بارے میں رابطہ کیا جائے گا۔

انھوں نے کہا کہ بینکوں نے ود ہولڈنگ ٹیکس وصل کیا تو اس بارے میں انکوائری کی جا رہی ہے کہ یہ کیسے وصل کیے گئے ہیں۔

ان کے مطابق گلگت میں صرف تنخواہ دار طبقہ ہی ٹیکس دے رہا ہے۔ باقی کوئی ٹیکس نہیں لگایا گیا بعض لوگ سیاسی بنیادوں پر سازشیں کر رہے ہیں اور پرانے آرڈرز سامنے لا کر لوگوں کو اشتعال دلا رہے ہیں۔

ابراہیم صنائی نے کہا کہ وفاقی حکومت مختلف مدات رقم فراہم کر رہی جیسے خصوصی تریقاتی پیکج میں ایک کھرب دو ارب روپے، ریگولر بجٹ میں پچیس چھبیس ارب روپے اور ترقیاتی بجٹ میں انیس ارب روپے جبکہ گندم کی سبسڈی میں چھ ارب روپے کی سبسڈی دے رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ’اب اگر حق کی بات کریں تو پھر بہت کچھ انھیں چھوڑنا پڑے گا یا واپس کرنا ہوگا۔‘

ان سے جب پوچھا کہ گلگت بلتستان کو ٹیکسز سے کتنی آمدنی ہو جاتی ہے تو ان ان کا کہنا تھا کہ سینتالیس لاکھ ایک مد میں اور ود ہولڈنگ ٹیکس میں آٹے میں نمک کے برابر ٹیکس بھی نہیں آتا ایسے میں وہ ترقی نہیں کر سکتے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں