بلوچستان: 2017 میں 297 دہشگرد حملے ہوئے

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption گذشتہ سال سیکورٹی فورسز پر ہونے والے حملوں میں پولیس سمیت دیگر سیکورٹی فورسز کے 153سے زائد اہلکار ہلاک ہوئے تھے جن میں سے زیادہ تر پولیس اہلکار تھے۔

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق پاکستان کے صوبہ بلوچستان میں رواں سال مجموعی طور پر بم دھماکوں اور دہشت گردی کے 297 واقعات پیش آئے جن میں 260 افراد ہلاک اور537 زخمی ہوئے۔

ہلاک ہونے والوں میں سے 111 افراد کا تعلق سکیورٹی فورسز کے اداروں سے تھا۔

سرکاری حکام کے مطابق کوئٹہ شہر سمیت بلوچستان کے مختلف علاقوں میں اس سال نو خودکش حملے ہوئے جبکہ گذشتہ سال ان کی تعداد چھ تھی۔

اس سال ہونے والے نو حملوں میں سے چھ خود کش حملے کوئٹہ شہر میں ہوئے جبکہ 2016 میں کوئٹہ شہر میں چار خود کش حملے ہوئے تھے۔

گذشتہ سال سکیورٹی فورسز پر ہونے والے حملوں میں پولیس سمیت دیگر سکیورٹی فورسز کے 153 سے زیادہ اہلکار ہلاک ہوئے تھے جن میں سے زیادہ تر پولیس اہلکار تھے۔

رواں سال مجموعی طور پر سکیورٹی فورسز کے 111 اہلکار ہلاک ہوئے جبکہ 200 سے زائد زخمی ہوئے۔

سرکاری حکام کے مطابق 63 حملوں میں فرنٹیئر کور کے27 اہلکار ہلاک اور 83 زخمی ہوئے۔ چار حملوں میں فوج کے 19 اہلکار ہلاک اور35 زخمی بھی ہوئے۔ پولیس پر ہونے والے 18 حملوں میں 52 پولیس اہلکار ہلاک اور81 زخمی ہوئے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption اس سال ہونے والے نو حملوں میں سے چھ خود کش حملے کوئٹہ شہر میں ہوئے جبکہ 2016 میں کوئٹہ شہر میں چار خود کش حملے ہوئے تھے۔

2017 میں لیویز فورس پر دس حملوں میں 12 اہلکار ہلاک اور چھ زخمی ہوئے ۔

حکام کے مطابق سیٹلروں پر 7حملے ہوئے جن میں 7افراد ہلاک اور 10زخمی ہوئے ۔ شیعہ مسلک سے تعلق رکھنے والے ہزارہ قبیلے کے افراد پر آٹھ حملوں میں 11 افراد ہلاک اور 15 زخمی ہوئے ۔

سکیورٹی فورسز اور دیگر سرکاری تنصیبات پر ہونے والے زیادہ تر حملوں کی ذمہ داری کالعدم بلوچ عسکریت پسند تنظیمیں بی ایل ایف، بی آر اے، بی ایل اے اور یو بی اے نے تسلیم کی جبکہ فرقہ واریت اور کوئٹہ میں پولیس اہلکاروں پر زیادہ تر حملوں کی ذمہ داری تحریک طالبان پاکستان اور لشکر جھنگوی العالمی کی جانب سے قبول کی گئیں۔

رواں سال کے دوراں بھی گیس اور بجلی تنصیبات پر حملے ہوتے رہے تاہم یہ پہلے کے مقابلے میں کم رپورٹ ہوئے۔

کوئٹہ میں میڈیا کے نمائندوں سے بات کرتے ہوئے وفاقی وزیر داخلہ احسن اقبال نے بلوچستان میں تشدد کے واقعات کے حوالے سے ہمسایہ ممالک کو ذمہ دار ٹھرایا۔

ان کا کہنا تھا کہ بھارت افغانستان کی سرزمین کو استعمال کر کے بلوچستان میں بدامنی پھیلا رہا ہے۔

انھوں نے بتایا کہ بھارت سی پیک کے منصوبے کو ناکام بنانا چاہتا ہے لیکن اب پہلے کے مقابلے میں بلوچستان میں امن و امان کی صورتحال میں بہتری آئی ہے۔

اسی بارے میں