سوشلستان: سوشل میڈیا پر ’میری کرسمس‘ کہنے پر بحث

People attend a mass on Christmas day at the Cathedral Church in Lahore, Pakistan December 25, 2017 تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption پاکستان کے شہر لاہور میں بھی مسیحی برادری نے کرسمس کے حوالے سے خصوصی عبادت کا انعقاد کیا۔

سوشلستان میں اس ہفتے کرسمس اور نئے سال کا ذکر رہا اور پاکستان کے سیاسی منظرنامے میں قدرے خاموشی کو پاکستان میں مقید مبینہ انڈین جاسوس کلبهوشن جادهو کی والدە اور اہلیہ کی ملاقات نے پورا کیا۔

دوسری جانب جہانگیر ترین نے نااہلی کے بعد اپنے بیٹے علی ترین کو سیاست میں لانے کا فیصلہ کیا جس پر سوشلستان میں بحث جاری ہے کہ موروثی سیاست کے خاتمے میں یہ قدم کس قدر معاون ثابت ہو گا۔ مگر ہم ذکر کریں گے کرسمس کا جس کے حوالے سے پاکستان اور پاکستان میں ہونے والے واقعات کے بارے میں، انڈیا میں ہونے والی بحث کا اور کرسمس پر تنازع

کرسمس کے موقع پر یا کسی بهی ایسے موقع پر جس کا تانا بانا مغرب سے ملایا جا سکتا ہو یہ بحث اب لازمی ہو چکی ہے کہ کیا یہ اسلامی ہے یا نہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Twitter

ویلنٹائن ڈے کی اسلامی غیر اسلامی بحث، ہیلووین کی بحث، ہولی اور دیوالی کی بحث کے بعد اب پیشِ خدمت ہے کرسمس یا 'میری کرسمس' کہنا کیا اسلامی ہے یا نہیں۔

سوشل میڈیا پر مفتی تقی عثمانی نے لکها کہ 'کرسمس ایک خالص مسیحی تہوار ہے جو خدا کے بیٹے کی پیدائش کی خوشی میں منایا جاتا ہے۔ ایک مسلمان کو اس میں میری کرسمس کہہ کر حصہ نہیں لینا چاہیے۔'

تصویر کے کاپی رائٹ Twitter

اس کے جواب میں میرعمران شاە نے جواب لکها کہ 'کیا یہ بہتر نہیں کہ ہم تہوار کو تہوار ہی رہنے دیں۔ ساری دنیا کو سدھارنے کا ٹھیکہ نہ اٹھائیں۔ نفرتوں میں اضافے کا باعث نہ بنیں۔'

مفتی تقی عثمانی نے اپنی ٹویٹ میں 'میری کرسمس' کے سپیلنگ غلط لکھ دیے جس پر علیحدە سے تنقید ہوئی جیسا ایک ٹویٹر نے لکها 'مفتی صاحب نے تو میری کے سپیلنگ ہی غلط لکھے ہیں جس سے مطلب ہی بدل گیا۔ اب بندہ کیسے اعتماد کرے ان کے فتوے پر جب کہ جس لفظ پر فتوی دے رہے اس کی املا ہی غلط ہے۔'

ایک جانب پاکستان میں یہ بحث جاری تهی اور دوسری جانب پاکستان کی قومی فضائی کمپنی پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائن کی جانب سے کرسمس کے موقع پر ایک پرواز کے مسافروں میں تحائف کی تقسیم کی ویڈیو انڈیا میں وائرل ہورہی تهی جس میں سینٹا کلاژ کے لباس میں ملبوس سانٹا کے ہیٹ پہنے عملہ مسافروں میں تحائف تقسیم کر رہا تها۔

کانت مشرا نے انڈین وزیراعظم نریندر مودی اور اتر پردیش کے وزیرِاعلیٰ یوگی ادیتیا ناته کو ٹیگ کر کے لکها کہ 'یہ آپ کے بقول ایک ناکام ریاست سے آنے والی ویڈیو ہے اور آپ انڈیا کو اس انڈیا سے بدل کر کہاں لے جا رہے ہیں جو ہمیں وراثت میں ملا تها۔'

تصویر کے کاپی رائٹ PIA

شنکر شرما نے لکها 'کیا انڈیا کی کوئی فضائی کمپنی عید یا کسی تہوار پر ایسا کرنے کی جرات کر سکتی ہے۔'

رفعت جاوید نےلکها کہ 'کیا نمایاں فرق ہے۔ اتر پردیش میں کرسمس منانے پر خطرات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے جبکہ پاکستان میں فضائی کمپنی یہ کر رہی ہے۔'

اس ہفتے کی تصاویر

پاکستان کے وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کی سالگرہ کا کیک کاٹتے ہوئے اس تصویر کو سوشل میڈیا پر کئی مرتبہ شیئر کیا گیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ PID

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں