حافظ سعید کی موجودگی میں ریلی میں شرکت کے بعد فلسطین نے پاکستان میں اپنے سفیر کو وطن واپس بلا لیا

فلسطین تصویر کے کاپی رائٹ Twitter
Image caption پاکستان میں فلسطین کے سفیر ولید ابو علی کا راولپنڈی میں 29 دسمبر کو نکالی جانے والی ریلی سے خطاب

فلسطین نے پاکستان میں اپنے سفیر ولید ابو علی کو کالعدم تنظیم جماعت الدعوۃ کے سربراہ حافظ سعید کی موجودگی میں یروشلم کی حمایت میں منعقد کی گئی ریلی میں شرکت کرنے پر وطن واپس بلا لیا ہے۔

انڈیا نے فلسطین کے سفیر کی اس ریلی میں شرکت پر اعتراض کیا تھا۔

فلسطینی وزارت خارجہ کے بیان میں کہا گیا: 'ہم پاکستان میں مقیم فلسطینی سفیر کی یروشلم کی حمایت میں نکالی جانے والی ریلی میں شرکت کو ایک نادانستہ غلطی تصور کرتے ہیں جہاں وہ افراد بھی موجود تھے جن پر دہشت گردی کی حمایت کے الزامات ہیں اور اس غلطی کے باعث فلسطینی ریاست کے صدر کے حکم کے مطابق پاکستان میں فلسطینی سفیر کو فوری طور پر وطن واپس آنے کا حکم دیا گیا ہے‘۔

مزید پڑھیے

انڈیا کا یروشلم کارڈ

اعلان یروشلم:’یکطرفہ امریکی فیصلے کے خلاف قرارداد‘

یروشلم: سات ہزار برسوں کی خون آلود تاریخ

واضح رہے کہ اقوام متحدہ، امریکہ اور انڈیا جماعت الدعوۃ کو شدت پسند تنظیم قرار دے چکے ہیں جبکہ انڈیا یہ الزام عائد کرتا ہے کہ تنظیم کے سربراہ حافظ سعید 2008 میں ہونے والے ممبئی حملوں کے ماسٹر مائنڈ ہیں۔

فلسطین کی وزارت خارجہ کی جانب سے جاری کیے گئے بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ’وہ انڈیا کا دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پورا ساتھ دیتے ہیں اور ساتھ ساتھ وہ انڈیا کی عالمی فورم پر فلسطین پر کی جانے والی اسرائیلی جارحیت کے خلاف حمایت کے شکر گزار ہیں‘۔

تصویر کے کاپی رائٹ Twitter
Image caption سوشل میڈیا پر فلسطینی سفیر کی کالعدم تنظیم جماعت الدعوۃ کے سربراہ حافظ سعید کے ساتھ تصاویر جاری کی گئی تھیں

خیال رہے کہ فلسطینی سفیر ولید ابو علی کی کانفرنس میں شرکت کی تصاویر اور ویڈیو سوشل میڈیا پر جاری ہونے کے بعد سنیچر کو انڈیا کی وزارت خارجہ نے بیان جاری کیا جس میں انھوں نے فلسطینی سفیر کی حافظ سعید کی موجودگی میں ہونے والی کانفرنس میں شرکت پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے اسے 'ناقابل قبول' قرار دیا اور اس کی شکایت انڈیا میں مقیم فلسطینی سفیر عدنان ابو الحیجا سے کی۔

اس بارے میں عدنان ابو الحیجا نے انڈین اخبار دی ہندو سے بات کرتے ہوئے کہا کہ 'جو ولید ابو علی نے کیا وہ ہماری حکومت کو بالکل قبول نہیں ہے، ہمارے انڈیا کے ساتھ نہایت قریبی تعلقات ہیں اور ہم نے ہمیشہ انڈیا کی دہشت گردی کے خلاف جنگ میں حمایت کی ہے۔'

خیال رہے کہ حال ہی میں اقوام متحدہ میں امریکہ کا اسرائیل میں اپنے سفارت خانے کو یروشلم منتقل کرنے کے فیصلے کے خلاف قرارداد پیش کی گئی تھی اور انڈیا نے اسرائیل سے قریبی تعلقات کے باوجود اس قرارداد کے حق میں ووٹ دیا تھا۔

اِدھر پاکستانی وزارت خارجہ کی جانب سے سنیچر کی رات جاری کیے گئے بیان میں ترجمان نے یروشلم کے بارے میں پاکستانی موقف کا اعادہ کیا اور کہا کہ پاکستان میں حالیہ امریکی فیصلے کے خلاف متعدد ریلیاں اور مظاہرے کیے گئے ہیں جن میں سے کئی میں فلسطینی سفیر نے شرکت کی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Twitter
Image caption فلسطینی وزارت خارجہ کا بیان جس میں پاکستان میں متعین سفیر کو وطن واپس بلانے کا حکم جاری کیا گیا ہے

بیان میں مزید کہا گیا: 'جمعے کو ہونے والی ریلی بھی اسی نوعیت کی تھی جس میں ہزاروں افراد نے شرکت کی اور 50 سے زیادہ مقررین نے اس سے خطاب کیا جن میں حافظ سعید بھی شامل تھے۔

’پیدا کیے جانے والے تاثر کے برعکس، اقوام متحدہ کی جانب سے لگائی گئی پابندیوں سے کسی شخص کی اظہار رائے کی آزادی سلب نہیں کی جا سکتی۔'

ترجمان کے بیان میں کہا گیا کہ حکومت پاکستان اور عوام فلسطینی سفیر کی یروشلم کی حمایت میں نکالی جانے والی ریلییوں میں شرکت کا خیر مقدم کرتے ہیں۔

اسی بارے میں