نواز کیمپ بمقابلہ شہباز کیمپ

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

یہ بہت دور کی بات لگتی ہے اور عین ممکن ہے کہ ایسا کبھی نہ ہو کہ حکمران جماعت نواز شریف اور شہباز شریف گروپ میں تقسیم ہو جائے لیکن آرا اور سیاسی حکمت عملی کے لحاظ سے مسلم لیگ نواز دو واضح گروپوں میں تقسیم ہو چکی ہے۔

لاہور میں مسلم لیگ ن کے نواز شریف اور شہباز شریف کے قریب سمجھے جانے والے کارکنوں اور رہنماؤں سے غیر رسمی گفتگو میں دونوں طرف کے لوگوں کی سوچ میں فرق بہت واضح ہو کر سامنے آتا ہے۔

ایک طرف مایوسی کے ڈیرے ہیں تو دوسری طرف انتہا درجے کی خود اعتمادی دکھائی دیتی ہے۔

نواز شریف کے قریبی لوگ اس حد تک ملک اور اپنے سیاسی مستقبل سے مایوس دکھائی دیتے ہیں کہ انہیں آئندہ عام انتخابات ہونے کا بھی یقین نہیں ہے جبکہ شہباز شریف کیمپ میں ان کے آئندہ عام انتخابات میں وزیراعظم بننے کے بعد ملک کی خارجہ پالیسی کو سدھارنے کی حکمت عملی پر بحث مباحثہ چل رہا ہے۔

شہباز شریف سے قریب سمجھے جانے والے بعض رہنماؤں کے لیے وزیراعلیٰ پنجاب کو مسلم لیگ کی جانب سے وزارت عظمیٰ کا امیدوار بنانا حیرت کا باعث نہیں تھا کیونکہ ان رہنماؤں کے بقول نواز شریف اگر نا اہل نہ بھی ہوتے تو بھی 2018 کے انتخابات میں وزارت عظمیٰ کا امیدوار شہباز شریف ہی کو بننا تھا۔

نواز شریف کیمپ میں پائی جانے والی مایوسی کی حد یہ ہے کہ وہاں آئندہ عام انتخابات تو دور کی بات مارچ میں ہونے والے سینیٹ کے انتخابات کا ہونا بھی غیر یقینی قرار دیا جا رہا ہے۔

نواز شریف کی سوچ سے خود کو قریب سمجھنے والے لیگی کارکن اور رہنما اپنے ہی بنائے ہوئے سازشی مفروضات کے اس حد تک تابع ہو چکے ہیں کہ ان کا خیال ہے کہ بعض ادارے اس ملک سے جمہوری اور سیاسی بساط لپیٹنے کے درپے ہیں۔ اور ان کے خیال میں موجودہ نظام فروری سے آگے نہیں چل پائے گا جس کے بعد مسلم لیگ ن کو مشکل سیاسی صورتحال کا سامنا ہوگا اور اس جماعت سے تعلق رکھنے والوں کے لیے آئندہ عام انتخابات میں حصہ لینا بھی مشکل بنا دیا جائے گا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

علامہ طاہر القادری کی عمران خان، پیپلز پارٹی اور دیگر جماعتوں کے ساتھ ’گٹھ جوڑ‘ کو اسے سلسلے کی ایک کڑی قرار دیا جا رہا ہے۔

دوسرے کیمپ میں علامہ قادری اور حکومت گرانے اور ن لیگ کو ’گیم‘ سے باہر رکھنے کی خواہش مند دیگر قوتوں اور اداروں کو ’فیس سیونگ‘ دینے کی باتیں ہو رہی ہیں۔ کہا جا رہا ہے کہ اب قادری صاحب اور ان کے ہمنواؤں کو بس اتنا ملے گا کہ ان کی سیاست اور ساکھ بنی رہے لیکن شریفوں کو گرانے اور جیل بھجوانے کے قصے پرانے ہوئے۔

ان دو طرح کے مکتبہ فکر میں سے حقیقت کے قریب تر کون ہے یہ بہت جلد واضح ہو جائے گا۔ لیکن وہ وقت آنے سے پہلے ہی بعض مبصرین کے مطابق ن لیگ ساتھ ساتھ چلنے والے ان دو بیانیوں سے سیاسی فائدہ حاصل کر رہے ہے۔

نواز شریف کا بیانیہ ان کے ووٹ بینک کو اپیل کرتا ہے جبکہ شہباز شریف کیمپ میں جس خوشگوار مستقبل کے خواب دکھائے جا رہے ہیں وہ ان ارکان قومی اسمبلی کے قدموں کی زنجیر بن رہے ہیں جن کے بارے میں ایک عرصے سے کہا جا رہا ہے کہ وہ ن لیگ کے ڈوبتے جہاز کو چھوڑ کر اچھے مستقبل کے لیے زیادہ محفوظ کشتیوں کے مسافر بننے جا رہے ہیں یعنی ان سیاسی جماعتوں میں شامل ہونے والے ہیں جن پر اسٹیبلشمنٹ کا ہاتھ ہو گا۔

یوں چاہے نواز شریف کی باغیانہ بیان بازی ہو یا شہباز شریف کے مفاہمانہ طور طریقے اس وقت بظاہر یہی لگ رہا ہے کہ چت بھی ن لیگ کی اور پٹ بھی۔

اسی بارے میں