جماعت الدعوۃ سمیت کالعدم تنظیموں کے لیے عطیات اور چندہ جمع کرنے پر پابندی کا حکم جاری

پاکستان تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption حافظ سعید کو گذشتہ سال نومبر میں دس ماہ کی نظر بندی کے بعد رہا کر دیا گیا تھا

وزارت داخلہ کے اہلکار نے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر بی بی سی کو تصدیق کی ہے کہ فلاح انسانیت فاؤنڈیشن اور جماعت الدعوۃ سمیت ان تمام تنظیموں کے لیے عطیات اور چندہ جمع کرنے پر پابندی کے احکامات جاری کیے گئے ہیں جو اقوام متحدہ کی دہشت گرد تنظیموں کی فہرست میں شامل ہیں یا انھیں عالمی ادارے کی جانب سے اس معاملے میں زیر نگرانی رکھا گیا ہے۔

اہلکار نے بی بی سی کے نامہ نگار شہزاد ملک کو یہ بھی بتایا کہ وزارت داخلہ نے ایسے افراد کے کوائف اکٹھا کرنے کے احکامات جاری کیے ہیں جو ان تنظیموں کو بڑے عطیات دینے والوں میں شامل ہیں اور ان کے خلاف بھی کارروائی کی جائے گی۔

مزید پڑھیے

حافظ سعید کا بوجھ

’حافظ سعید معاشرے کے لیے خطرہ بن سکتے ہیں‘

’حافظ سعید جیسے عناصر بوجھ ہیں، جان چھڑانے کے لیے وقت چاہیے‘

ادھر حکومتِ پاکستان کے ادارے سکیورٹی اینڈ ایکسچینج کمیشن (ایس ای سی پی) نے بی بی سی کو بتایا کہ وزارتِ خارجہ نے اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کے القاعدہ اور اس کے ساتھ منسلک افراد پر اقتصادی اور سفری پابندیوں کے متعلق احکامات پر عمل درآمد کو قانونی شکل دینے کے لیے ایس آر او جاری کر دیا ہے۔

اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی طرف سے جاری کی گئی لسٹ ان کی ویب سائٹ پر دیکھی جا سکتی ہے۔

بیان کے مطابق حکومت پاکستان نے پہلے ہی پابندیوں کی نافرمانی کرنے والوں پر ایک کروڑ روپے تک جرمانہ رکھا ہوا ہے۔

سکیورٹی اینڈ ایکسچینج کمیشن نے اپنے نوٹیفیکیشن میں کہا ہے کہ کمپنیز ایکٹ 2017 کے سکیشن 453 کے مطابق اب سبھی کمپنیوں کو حکم دیا گیا ہے کہ وہ ان اداروں اور افراد کو چندہ نہ دیں جن کا اقوامِ متحدہ (یو این ایس سی) کی اقتصادی پابندیوں کی کمیٹی کی لسٹ میں نام ہے۔

ایسی خبریں بھی آ رہی ہیں کہ حکومت نے جماعت الدعوۃ اور فلاح انسانیت فاﺅنڈیشن کی ایمبولینسوں کواپنی تحویل میں لے لیا ہے۔ ان خبروں کی ابھی تک تصدیق تو نہیں ہو سکی ہے۔

اس سے قبل خبر رساں ادارے روئٹرز کی جانب سے شائع کی جانے والی رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ 19 دسمبر کو پاکستانی وزارت خزانہ کی جانب سے جاری کی گئی 'خفیہ' دستاویز میں کہا گیا ہے کہ حافظ سعید کی دونوں تنظیموں کے خلاف 28 دسمبر تک لائحہ عمل طے کیا جائے تاکہ ان پر 'کنڑول' کیا جا سکے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption کالعدم تنظیم جماعت الدعوۃ سے منسلک فلاحی تنظیم فلاح انسانیت فاؤنڈیشن پر بھی عطیات او چندہ جمع کرنے پر پابندی لگائی گئئ ہے

اس دستاویز میں عالمی ادارے فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) کا بھی حوالہ دیا گیا ہے جو عالمی طور پر دہشت گردی کے لیے کی جانے والی مالی امداد اور منی لانڈرنگ کے خلاف کارروائی کرتا ہے۔

روئٹرز کے مطابق ایف اے ٹی ایف نے پاکستان کو تنبیہ کی تھیکہ اگر اس نے دہشت گردی کے لیے کی جانے والی مالی امداد کو روکنے کے لیے انتظامات نہیں کیے تو اس کا نام نگرانی کے لیے بنائی گئی فہرست میں شامل کر دیا جائے گا۔

اسی حوالے سے جب روئٹرز نے وزیر داخلہ احسن اقبال سے بات کی تو انھوں نے کہا کہ 'تمام کالعدم تنظیموں کا چندہ جمع کرنے اور مالی امداد کو روکنے کے لیے حکم جاری کیا گیا ہے۔'

اس بارے میں جماعت الدعوۃ پاکستان کے ترجمان یحییٰ مجاہد نے حکومت کی طرف سے جماعت الدعوۃ اور فلاح انسانیت فاﺅنڈیشن کی ایمبولینسوں کواپنی تحویل میں لیے جانے کی خبروں پر شدید ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت کی طرف سے ایسا کوئی فیصلہ کیا گیا تو عدالتوں میں جائیں گے اور بھرپور قانونی جنگ لڑیں گے۔

اسی بارے میں