پھانسی کے ذریعے سزائے موت کے خلاف مقدمے میں فیصلہ محفوظ

تصویر کے کاپی رائٹ Thinkstock
Image caption عدالت میں پھانسی کے ذریعے سزائے موت کے خلاف درخواست دی گئی ہے۔

پشاور ہائی کورٹ میں سزائے موت کے طریقہ کار یعنی پھانسی یا مجرم کے گلے میں پھندا ڈال کر مرنے تک کے عمل کے خلاف درخواست کی سماعت کے دوران درخواست گزار کا کہنا تھا کہ موجودہ طریقہ کار غیر انسانی اور غیر اسلامی ہے اور یہ انتہائی تکلیف دہ اور اذیت ناک سزا ہے اس لیے عدالت پھانسی کے ذریعے سزائے موت پر عمل کرنے کو ختم کرے۔

عدالت نے تفصیل سے دلائل سننے کے بعد فیصلہ محفوظ کر لیا ہے۔

یہ درخواست ہری پور جیل میں سزائے موت کے منتظر قیدی گل ولی کی طرف سے وکیل خورشید خان ایڈووکیٹ نے پشاور ہائی کورٹ میں دی ہے۔

گل ولی انیس سو پچانوے میں قتل کے ایک مقدمے میں دیگر دو ساتھیوں کے ساتھ گرفتار ہوئے جہاں باقی دو کو رہا کر دیا گیا لیکن گل ولی کی سزائے موت بر قرار رکھی گئی۔ گل ولی بائیس سال قید میں گزار چکا ہے۔

آج پشاور ہائی کورٹ میں جسٹس اشتیاق احمد کے سامنے خورشید خان ایڈووکیٹ نے اپنا موقف بیان کرتے ہوئے کہا کہ گل ولی کو سزا قصاص دیت آرڈیننس کے تحت دی گئی ہے جبکہ سزا پر عمل انگریز کے اٹھارہ سو اڑسٹھ میں بنائے گئے قانون سی آر پی سی کے تحت کیا جائے گا۔ انھوں نے مذید کہا کہ آئینِ پاکستان کے مطابق کوئی بھی قانون غیر اسلامی نہیں ہو سکتا جبکہ اسلام میں پھانسی کی سزا کہیں نہیں ہے۔

خورشید خان ایڈووکیٹ نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا برصغیر پاک و ہند میں انگریز کے آنے سے پہلے بادشاہوں کے من چاہے طریقوں سے سزا دی جاتی تھی جبکہ انگریز کے آنے کے بعد پھانسی کی سزا مقرر کی گئی تھی۔

انھوں نے قرانی آیات کے حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اسلام میں مجرم کو سزا قصاص کے تحت دی جانی چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ اسلام کے مطابق مجرم کو موت کی سزا ایسی دی جانی چاہیے جس میں انسان کو کم تکلیف ہو جبکہ پھانسی کی سزا انتہائی تکلیف دہ اور اذیت ناک ہے۔

برطانیہ میں سزائے موت ختم ہو چکی ہے جبکہ امریکہ میں زہریلے انجیکشن کے ذریعے دی جاتی ہے۔ پھانسی کی سزا صرف پاکستان، بھارت اور بنگلہ دیش میں ہی رائج ہے۔

خورشید خان نے اس درخواست میں اسلامی نظریاتی کونسل کے علاوہ خیبر پختونخوا کے سیکرٹری قانون اور سیکرٹری داخلہ کے علاوہ سپرنٹنڈنٹ سینٹرل جیل ہری پور اور ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج اسلام آباد کو پارٹی بنایا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اسلامی نظریاتی کونسل کا کام ملک میں اسلامی قوانین کے لیے راہ ہموار کرنا ہے اور اس کے لیے خیبر پختونخوا اسمبلی اور قومی اسمبلی میں قانون سازی کی جائے تا کہ موت کے اس طریقہ کار کو تبدیل کر دیا جائے۔