’پاکستان کے بارے میں مزید اقدامات کا اعلان ایک سے دو دن میں‘

وائٹ ہاؤس کی ترجمان سارہ سینڈرز تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption ہم جانتے ہیں کہ پاکستان دہشت گردی روکنے کے لیے مزید اقدامات کر سکتا ہے: وائٹ ہاؤس کی ترجمان سارہ سینڈرز

امریکہ کی جانب سے پاکستان کی 255 ملین ڈالر کی امداد روکے جانے کی تصدیق کے بعد وائٹ ہاؤس کا کہنا ہے کہ امریکہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کو مزید اقدامات کرتے دیکھنا چاہتا ہے۔

دوسری جانب اقوامِ متحدہ میں پاکستان کی سفیر ملیحہ لودھی نے اس حوالے سے کہا ہے کہ ’اگر ہمارے تعاون کو سراہا نہ گیا تو ہم اس پر نظرِثانی کر سکتے ہیں۔‘

ملیحہ لودھی نے اقوام متحدہ میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے مزید کہا کہ ’ہم نے بین الاقوامی دہشت گردی کے خلاف لڑائی میں سب سے زیادہ حصہ لیا اور قربانیاں دیں۔ اور ہمارے ہاں دنیا میں سب سے زیادہ انسدادِ دہشت گردی آپریشن کیے گئے۔‘

اس بارے میں مزید پڑھیے

امریکہ اور پاکستان ایک دوسرے کا کیا بگاڑ سکتے ہیں؟

منفی بیان بازی سےاہداف حاصل نہیں کیےجا سکتے: پاکستان

ٹرمپ کی ٹویٹ پر پاکستانی ناراض،انڈین خوش

پاکستان امریکہ تعلقات، کبھی نرم کبھی گرم

منگل کو نیویارک میں اقوام متحدہ میں امریکہ کی مستقل سفیر نکی ہیلی نے اسلام آباد پر دہشت گردوں کو پناہ دینے اور ڈبل گیم کھیلنے کا الزام عائد کیا اور امداد روکنے کی تصدیق کی۔

خبررساں ادارے روئٹرز کے مطابق نیویارک میں صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے امریکی سفیر نکی ہیلی کا کہنا تھا کہ امریکی ’انتظامیہ 225 ملین امریکی ڈالرز کی پاکستان کو امداد روک رہی ہے۔ اس کی واضح وجوہات ہیں کہ پاکستان نے کئی برسوں سے ڈبل گیم کھیلی ہے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ TWITTER
Image caption ملیحہ لودھی نے کہا ہے کہ پاکستان نے سب سے زیادہ انسدادِ دہشت گردی کے آپریشن کیے

خبررساں ادارے کے مطابق انھوں نے کہا کہ ’وہ اکثر ہمارے ساتھ کام کرتے ہیں، اور افغانستان میں ہماری فوجوں پر حملے کے لیے دہشت گرد بھی بھیجتے ہیں۔ یہ کھیل اس انتظامیہ کے لیے قابل قبول نہیں ہے۔ ہم دہشت گردی کے خلاف لڑائی میں پاکستان سے کہیں زیادہ تعاون کی توقع رکھتے ہیں۔‘

نکی ہیلی کے اس بیان سے قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پاکستان پر الزام عائد کیا تھا کہ گذشتہ ڈیڑھ دہائی میں اربوں ڈالر کی امداد لینے کے باوجود پاکستان نے امریکہ کو سوائے جھوٹ اور دھوکے کے کچھ نہیں دیا ہے۔

منگل کو ہی وائٹ ہاؤس کی ترجمان سارہ سینڈرز نے پریس بریفنگ میں صحافیوں کے سوالات کے جواب میں کہا کہ ’ہم جانتے ہیں کہ پاکستان دہشت گردی روکنے کے لیے مزید اقدامات کر سکتا ہے اور ہم چاہتے ہیں کہ وہ ایسا کریں۔ یہ سادہ سی بات ہے۔‘

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ’جہاں تک (امریکہ کی جانب سے) مخصوص اقدامات کی بات ہے۔ آپ آئندہ 24 سے 48 گھنٹے میں مزید تفصیلات سامنے آتی دیکھیں گے۔‘

امریکی صدر کی جانب سے پاکستان مخالف بیان بازی پر پاکستان نے اپنے ردعمل میں کہا ہے امریکہ اور پاکستان کو مل کر کام کرنا ہوگا کیونکہ منفی بیان بازی سے اہداف حاصل نہیں کیے جا سکتے۔

امریکی صدر کے بیان کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال کا جائزہ لینے کے لیے منگل کو اسلام آباد میں وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کی زیر صدارت قومی سلامتی کمیٹی کا ہنگامی اجلاس منعقد ہوا جس میں وزیرِ خارجہ، وزیرِ داخلہ، وزیرِ دفاع، مسلح افواج کے سربراہان سمیت اعلیٰ شخصیات نے شرکت کی۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption وہ اکثر ہمارے ساتھ کام کرتے ہیں اور افغانستان میں ہماری فوجوں پر حملے کے لیے دہشت گرد بھی بھیجنتے ہیں: نکی ہیلی

اس اجلاس کے بعد وفاقی وزیر دفاع خرم دستگیر نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اجلاس میں گذشتہ چند ماہ سے صدر ٹرمپ سمیت کئی امریکی عمائدین کی جانب سے سامنے آنے والے منفی بیانات کا جائزہ لیا گیا۔

خرم دستگیر نے بتایا کہ قومی سلامتی کے اس اجلاس میں طے پایا ہے کہ 'مل کر اور تعاون سے افغانستان میں امن کی جدوجہد کریں گے اور دہشت گردی کے خلاف لڑیں گے تو ہمیں بہتر کامیابی ہوگی، بجائے یہ کہ ہم اپنی منفی بیان بازی سے اہداف حاصل کرنے کی کوشش کریں۔'

اسی بارے میں