’امریکہ انسداد دہشتگردی سیکھنے کے بجائے دشنام طرازی کر رہا ہے‘

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں
پاکستانی وزیر دفاع کہتے ہیں کہ امریکہ کو ایک کامیابی ملی ہے، وہ بھی پاکستان کی مرہون منت

پاکستان کے وزیر دفاع خرم دستگیر خان نے کہا ہے کہ پاکستان میں دہشت گردوں کی خفیہ پناہ گاہیں نہیں ہیں اور اگر باقیات ہیں تو انہیں رد الفساد کے تحت ختم کیا جا رہا ہے تاکہ پاکستان کا مستقبل محفوظ ہو سکے۔

خرم دستگیر خان کا مزید کہنا تھا کہ ملک میں جماعت الدعوۃ کے خلاف حالیہ کارروائیوں کا تعلق امریکہ سے نہیں بلکہ یہ آپریشن ردالفساد کا حصہ ہے۔

بی بی سی اردو کو دیے گئے انٹرویو میں ان کا کہنا تھا کہ اگرچہ بین الاقوامی سطح پر کئی تنظیموں پر پابندی عائد کی گئی ہے لیکن اس حوالے سے پاکستان سوچ سمجھ کر اقدامات کر رہا ہے۔

وزیرِ دفاع کا کہنا تھا کہ ’ایسا نہیں ہے کہ ہم بندوقیں لے کر اپنے ہی ملک پر چڑھ دوڑیں گے بلکہ وہ وقت گزر گیا، اب ہم نپے تلے اور سوچ سمجھ کر فیصلہ کریں گے۔‘

اس بارے میں مزید پڑھیے

جماعت الدعوۃ کے لیے عطیات اور چندہ جمع کرنے پر پابندی

’حافظ سعید کے خلاف بھی اسامہ جیسی کارروائی نہ ہو جائے‘

حافظ سعید کا بوجھ

’حافظ سعید معاشرے کے لیے خطرہ بن سکتے ہیں‘

انھوں نے کہا کہ ’جماعت الدعوۃ کے خلاف کارروائی سوچ سمجھ کر کی جا رہی ہے تاکہ پاکستان کا مستقبل محفوظ ہو سکے اور آئندہ دہشت گرد کسی سکول میں بچوں کو گولیاں نہ مار سکیں۔‘

امریکہ کے ساتھ حالیہ کشیدگی کے حوالے سے بات کرتے ہوئے وزیر دفاع خرم دستگیر خان نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ٹویٹ کو امریکی حکام کی جانب سے حالیہ بیانات کے بعد ’نقطۂ انتہا' قرار دیا اور کہا کہ حالیہ چند ماہ میں امریکی قیادت سے مثبت گفتگو ہوتی رہی لیکن ’عوامی سطح پر منفی تاثر دیا جاتا ہے۔‘

وزیر دفاع نے کہا کہ موجودہ پاکستان ضربِ عضب کے بعد کا پاکستان ہے، جو شہریوں، جوانوں اور افسران کی قربانیوں اور کامیاب آپریشنز کے بعد حاصل ہوا ہے۔ ’امریکہ ہم سے انسدادِ دہشتگردی سیکھنے کی بجائے دشنام طرازی کر رہا ہے۔‘

وزیر دفاع خرم دستگیر خان نے دونوں ملکوں کے تعلقات کی خرابی میں انڈیا کے ’بلاواسطہ کردار‘ کی وجہ خطے میں مضبوط ہوتے چین اور پاکستان کی چین سے قربت کو قرار دیا اور کہا کہ ’انڈیا پاکستان کے خلاف افغانستان کی زمین بھی استعمال کر رہا ہے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ EPA

امریکہ سے تعلق دوستی اور دشمنی سے آگے

وزیر دفاع خرم دستگیر نے کہا کہ پاکستان اور امریکہ کا تعلق اب ’دوستی اور دشمنی کے پیرائے سے نکل چکا ہے‘، ان کے مطابق پاکستان نے مؤدب لیکن کُھل کر اور بے لاگ انداز میں امریکہ کو بتا دیا ہے کہ وہ پاکستان پر افغانستان میں ناکامی کے بعد پاکستان پر الزام تراشی نہ کرے۔

وزیر دفاع نے امریکہ کی جانب سے پاکستان کو حقانی نیٹ ورک کے خلاف کارروائی کی ڈیڈ لائن دیے جانے سے متعلق خبروں کی سختی سے تردید کی اور کہا کہ پاکستان ایک ’خود مختار، جوہری طاقت ہے، جسے اس طرح کی ڈیڈ لائنز نہیں دی جا سکتیں۔‘

وزیر دفاع کا کہنا تھا کہ مطابق امریکہ اور پاکستان کے درمیان اعلیٰ ترین سطح پر بات چیت ہوتی رہی ہے لیکن دونوں ملکوں کے درمیان سٹریٹیجک ڈائیلاگ اب بھی معطل ہے۔

اسی بارے میں مزید پڑھیں

’پاکستان نے کئی برسوں سے ڈبل گیم کھیلی ہے‘

امریکہ اور پاکستان ایک دوسرے کا کیا بگاڑ سکتے ہیں؟

امریکہ نے پاکستان کو کتنی امداد دی؟

پاکستان امریکہ تعلقات، کبھی نرم کبھی گرم

وزیر دفاع خرم دستگیر خان نے کہا کہ تعاون کی زبان میں بات ہونی چاہیے، ’منفی اور دھمکی کی زبان استعمال کی گئی تو پاکستان کے عوام، منتخب حکومت اور افواج کو سخت ترین تحفظات ہیں۔‘

خیال رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے رواں ہفتے کے آغاز میں سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر پاکستان پر الزام عائد کیا تھا کہ گذشتہ ڈیڑھ دہائی میں اربوں ڈالر کی امداد لینے کے باوجود پاکستان نے امریکہ کو سوائے جھوٹ اور دھوکے کے کچھ نہیں دیا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

امریکی صدر اور اعلی عہدیداروں کی متضاد باتیں

وزیر دفاع خرم دستگیر خان نے امریکی نائب صدر کے پاکستان کو نوٹس دیے جانے سے متعلق بیان پر کہا کہ تقاریر اور ٹویٹس ’اُن باتوں سے متصادم ہیں جو امریکی اعلیٰ عہدیداروں نے پاکستان سے کی ہیں، وہ تو ہم سے سیکھنے اور تعاون کی بات کرتے ہیں۔‘

وزیر دفاع نے بتایا کہ پاکستان کی آدھی فضائی حدود امریکہ کے لیے مکمل طور پر کھلی ہے، جبکہ زمینی راستے بھی دیے گئے ہیں۔ ’ان کے بغیر امریکہ کی افغانستان میں رسائی نہایت مشکل ہو گی۔ اس لیے امریکہ بجائے نو مور اور نوٹسز کے، پاکستان کے ساتھ مل کر کام کرے۔

خرم دستگیر کے مطابق پاکستان میں دہشت گردوں کی خفیہ پناہ گاہیں نہیں ہیں اور اگر باقیات ہیں تو انہیں رد الفساد کے تحت ختم کیا جا رہا ہے۔ ’اگر امریکہ کے پاس دہشت گردوں کی موجودگی سے متعلق ٹھوس اور قابلِ عمل انٹیلی جنس معلومات ہیں تو بتایا جائے پاکستان فوری کارروائی کرے گا۔‘

خیال رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے نئی افغان پالیسی بیان کرتے ہوئے پاکستان میں ان شدت پسند تنظیموں کی خفیہ پناہ گاہوں کا الزام لگایا تھا جو افغانستان میں امریکی اور اتحادی فوجیوں کو نشانہ بنانے میں ملوث ہیں۔ پاکستان ان الزامات کی تردید کرتا ہے۔

پاکستان اور امریکہ کے درمیان عسکری شعبے میں امداد کے حوالے سے سوال کا جواب دیتے ہوئے وزیر دفاع خرم دستگیر نے کہا کہ دونوں ملکوں کے درمیان تعاون تقریباً ختم ہو چکا ہے۔

ان کے مطابق کولیشن سپورٹ فنڈ کی مد میں امریکہ نے اب بھی دس ارب ڈالر پاکستان کو ادا کرنے ہیں۔ ’ہم اپنی افواج کو سپورٹ کرنے کی پوزیشن میں ہیں، پاکستان کی معیشت میں بتدریج وہ طاقت آ گئی ہے کہ ہم اپنی مسلح افواج کو پوری طرح سپورٹ کر سکیں۔ امداد روک کر پاکستان پر اپنی مرضی مسلط کرنا ممکن نہیں رہا۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

تاہم انھوں نے تسلیم کیا کہ پاکستان اور امریکہ کے درمیان دو طرفہ دفاعی تعاون ختم ہونے کا نقصان ان پرزہ جات کی مد میں ہوگا جو ملکی افواج امریکہ سے خریدتی ہیں۔

خیال رہے کہ اقوام متحدہ میں امریکہ کی مستقل سفیر نکی ہیلی نے تصدیق کی ہے کہ امریکی ’انتظامیہ 225 ملین امریکی ڈالرز کی پاکستان کو امداد روک رہی ہے۔‘

’ہم افغانستان کی ذمہ داری نہیں اٹھائیں گے‘

اس سوال پر کہ کیا امریکہ کی جانب سےحقانی نیٹ ورک یا کسی اور گروہ یا شخص کے خلاف پاکستانی حدود میں یکطرفہ کارروائی کا امکان ہے؟ وزیر دفاع نے کہا کہ ’ڈونلڈ ٹرمپ پارہ صفت انسان ہیں، اس لیے ایسے کسی امکان کو رد نہیں کیا جا سکتا۔ تاہم ہماری نظر میں ایسی کارروائی کا امکان کم ہے۔ اور امریکہ کو علم ہے کہ اس کے بعد پاکستان کے پاس بھی سپیس گھٹ جائے گا۔‘

پاکستان کے وزیر دفاع نے افغانستان میں قیام امن سے متعلق بات کی اور کہا کہ ’اگر امریکہ کو افغانستان میں امن مقصود ہے تو پاکستان مکمل معاونت کو تیار ہے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ افغانستان کی جنگ پاکستان کی زمین پر نہیں لڑی جائے گی، ’اگر امریکہ کو ایسی امید ہے تو واضح رہے کہ ایسا نہیں ہو گا۔‘

’اگر امریکہ افغانستان میں ناکامی پاکستان کے سر ڈالنے کی کوشش کرے گا تو ہم افغانستان کی ذمہ داری نہیں اٹھائیں گے۔ پاکستان افغانستان کی خودمختاری کا احترام کرتا ہے، افغانستان کا فرض ہے کہ وہ بھی ہماری خودمختاری کا احترام کرے۔‘

اسی بارے میں