بلوچستان میں وزیرِ اعلیٰ کے خلاف عدم اعتماد پر حکمراں جماعت ن لیگ میں اختلاف

میر سرفراز بگٹی تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption بلوچستان میں اس وقت نواز لیگ کی قیادت میں مخلوط حکومت قائم ہے

پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے وزیر اعلیٰ نواب ثنا اللہ زہری کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک آنے کے ساتھ ہی ان کی اپنی جماعت نواز لیگ میں سنگین اختلافات سامنے آ گئے ہیں۔

ان اختلافات کے بعد وزیر اعلیٰ نواب ثنا اللہ زہری نے نواز لیگ سے تعلق رکھنے والے وزیر داخلہ میر سرفراز بگٹی کو ان کے عہدے سے برطرف کر دیا ہے۔

ایک سرکاری اعلامیہ کے مطابق وزیر اعلیٰ نے منگل کی شب میر سرفراز بگٹی کی فوری برطرفی کی سمری گورنر بلوچستان کو بھجوا دی ہے۔

تاہم وزیر داخلہ نے وزیر اعلیٰ کی جانب سے اپنی برطرفی کے فیصلے کو بے بنیاد قرار دیا ہے۔

رات گئے ایک ٹویٹ میں انھوں نے کہا ’میری برطرفی کی خبر سچ نہیں ہے کیونکہ میں اپنا استعفیٰ پہلے ہی گورنر کو دے چکا ہوں۔‘

نواز لیگ میں یہ اختلافات وزیر اعلیٰ کے خلاف اس تحریک عدم اعتماد کے بعد سامنے آئے جو سابق ڈپٹی سپیکر اور مسلم لیگ (ق) کے رکن میر عبد القدوس بزنجو کے علاوہ مجلس وحدت المسلمین کے رکن آغا رضا نے بلوچستان اسمبلی کے سیکریٹریٹ میں جمع کرائی۔

اس تحریک عدم اعتماد پر 14 اراکین کے دستخط ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

ثنا اللہ زہری نے وزیرِ اعلیٰ کے عہدے کا حلف اٹھا لیا

مری معاہدے کے تحت اب ثنا اللہ زہری وزیراعلیٰ بلوچستان

تحریک عدم اعتماد پر جن جماعتوں کے اراکین کے دستخط ہیں ان میں ق لیگ، مجلس وحدت المسلمین کے علاوہ حزب اختلاف کی جماعتوں جمیعت علمائے اسلام (ف)، بی این پی اور عوامی نیشنل پارٹی کے اراکین شامل ہیں۔

تحریک عدم اعتماد پر حکومت میں شامل نیشنل پارٹی کے صرف ایک رکن میر خالد لانگو کے دستخط ہیں جبکہ آزاد رکن اسمبلی نواب زادہ طارق مگسی نے بھی اس پر دستخط کیے ہیں۔

اسمبلی سیکریٹریٹ میں تحریک عدم اعتماد جمع کرنے کے بعد میڈیا سے بات کرتے ہوئے مجلس وحدت المسلمین کے رکن آغا رضا نے اس کی وجوہات بتاتے ہوئے کہا کہ وزیر اعلیٰ نے کوئی وعدہ پورا نہیں کیا۔

Image caption ایک سرکاری اعلامیہ کے مطابق وزیر اعلیٰ نے منگل کی شب میر سرفراز بگٹی کی فوری برطرفی کی سمری گورنر بلوچستان کو بھجوا دی ہے۔

بلوچستان میں اس وقت نواز لیگ کی قیادت میں مخلوط حکومت قائم ہے۔

پشتونخوا ملی عوامی پارٹی، نیشنل پارٹی، ق لیگ اور مجلس وحدت المسلمین اس مخلوط حکومت کا حصہ ہیں۔

بلوچستان اسمبلی کے اراکین کی تعداد 65 ہے اور وزیر اعلیٰ کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک کامیاب کرانے کے لیے اسمبلی کے 33 اراکین کی ضرورت ہے۔

تحریک عدم اعتماد جمع کرنے والے دوسرے رکن قدوس بزنجو کا کہنا ہے کہ تحریک کی حمایت حاصل کرنے کے لیے ان کے نواز لیگ سمیت دیگر جماعتوں کے مزید اراکین سے بھی رابطے ہیں۔

مخلوط حکومت میں شامل پشتونخوا میپ اور نیشنل پارٹی نے کہا ہے کہ وہ تحریک عدم اعتماد کی مخالفت کریں گے۔

کوئٹہ میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے پشتونخوا میپ کے سربراہ محمود خان اچکزئی کا کہنا تھا کہ نواب ثنا اللہ زہری کے خلاف تحریک عدم اعتماد کی یہ تحریک اسی مہم کا حصہ ہے جو نواز شریف کے خلاف شروع کی گئی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ نواب ثنا اللہ زہری کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک اس لیے لائی گئی کہ وہ نواز شریف کے ساتھ ہیں۔

انھوں نے اس مہم کو جمہوریت کے خلاف قرار دیتے ہوئے کہا کہ تحریک عدم اعتماد کو جمہوری طریقے سے ناکام بنانے کے لیے ہر ممکن کوشش کی جائے گی۔

بعض مبصرین کا کہنا ہے کہ نواز لیگ کے متعدد اراکین بھی تحریک عدم اعتماد کی حمایت کر سکتے ہیں۔

اگرچہ مخلوط حکومت میں شامل پشتونخوا میپ اور نیشنل پارٹی نے وزیراعلیٰ نواب ثنا اللہ زہری کے ساتھ ہیں۔

ان دونوں جماعتوں کی جانب سے تحریک عدم اعتماد کی مخالفت کے اعلان کے بعد بظاہر وزیر اعلیٰ نواب ثنا اللہ زہری کے لیے بڑا خطرہ نہیں ہے۔

بعض سیاسی مبصرین کی رائے یہ ہے کہ اگر نواز لیگ سے تعلق رکھنے والے اراکین کی ایک بڑی تعداد نے ثنا اللہ زہری کے خلاف بغاوت کی اور اگر ایسی کسی بغاوت کو طاقت کے اصل مراکز کی پشت پناہی حاصل رہی تو وزیر اعلیٰ کے لیے مشکلات میں اضافہ ہو سکتا ہے اور اس صورت میں ان کے خلاف تحریک عدم اعتماد کی کامیابی کے امکان کو مسترد نہیں کیا جا سکتا ہے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں